mohin kakar

mohin kakar mohin khan kàkãr

ما بہ اکثر پہ جنازوں باندے گلونا لیدل !!خاطرہ نن مے دا گلونوں جنازے اولیدے ! 😢💔 توره ورز @ #@ #$
11/07/2024

ما بہ اکثر پہ جنازوں باندے گلونا لیدل !!
خاطرہ نن مے دا گلونوں جنازے اولیدے ! 😢💔 توره ورز

@ #
@ #$

Congratulating the top performers of   👏Player of the final – Imad Wasim Emerging Player of the Tournament – Muhammad Ir...
19/03/2024

Congratulating the top performers of 👏

Player of the final – Imad Wasim
Emerging Player of the Tournament – Muhammad Irfan Khan
All-Rounder of the Tournament – Saim Ayub
Fielder of the Tournament – Muhammad Irfan Khan
Wicketkeeper of the Tournament – Azam Khan
Bowler of the Tournament – Usama Mir
Batter of the Tournament – Usman Khan
HBL - Player of the Tournament – Shadab Khan
Spirit of Cricket Award – Peshawar Zalmi
Umpire of the Tournament – Asif Yaqoob

| |

04/02/2024

𝐌𝐚𝐫𝐤 𝐭𝐡𝐞 𝐝𝐚𝐭𝐞,
"𝑫𝒓. 𝑺𝒂𝒊𝒇𝒖𝒍𝒍𝒂𝒉 𝑫𝒖𝒓𝒓𝒂𝒏𝒊" is going to examine patients in 𝐏𝐢𝐬𝐡𝐢𝐧 on 15th Feb.
💟Confirm your presence and let the pain dissipate.

𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭 𝐛𝐨𝐝𝐲 𝐞𝐱𝐩𝐞𝐫𝐭𝐬 𝐭𝐨𝐝𝐚𝐲📱

𝗙𝗼𝗿 𝐛𝐨𝐨𝐤𝐢𝐧𝐠 & 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐥𝐬
✉𝒊𝒏𝒇𝒐@𝒃𝒐𝒅𝒚𝒆𝒙𝒑𝒆𝒓𝒕𝒔.𝒄𝒐𝒎.𝒑k
🌐𝐡𝐭𝐭𝐩://𝐛𝐨𝐝𝐲𝐞𝐱𝐩𝐞𝐫𝐭𝐬.𝐜𝐨𝐦.𝐩𝐤
📱𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 / 𝐂𝐚𝐥𝐥+𝟗𝟐𝟑𝟑𝟐𝟖𝟎𝟎𝟎𝟗𝟎𝟑


04/02/2024
ﻣﺼﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ...
18/01/2024

ﻣﺼﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﻥ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ، ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﭨﯿﺴﭧ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺎﺱ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﻣﺼﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻥ ﮔﻦ ﮔﻦ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻗﺼﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭘﮭﻴﻨﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﯾﮧ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔
ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺑﺲ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺼﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﻮ ، ﯾﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ۔
ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺍﺋﮯ ، ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﮏ ﺍﭖ ﮐﺮﻭﺍ ﺁﺋﯿﮟ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﯾﻮﺭﭖ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺍﺋﮯ ، ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺟﮍ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔
ﺍُﺳﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﻋﻼﺝ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺒﯽ ﷺ ﻧﮯ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺻﺪﻗﮧ ﮨﺮ ﺑﻼ ﮐﻮ ﭨﺎﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺷﺌﯿﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ اللہ تعالی عمل کرنے کی توفیق عطا فرماہیں آمین

💔💔💔💔💔
02/01/2024

💔💔💔💔💔

26/12/2023
𝐃𝐫. 𝐒𝐚𝐢𝐟𝐮𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐃𝐮𝐫𝐫𝐚𝐧𝐢 are here to provide personalized care and address your health concerns.👨🏻‍⚕️We aim to create a sup...
09/12/2023

𝐃𝐫. 𝐒𝐚𝐢𝐟𝐮𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐃𝐮𝐫𝐫𝐚𝐧𝐢 are here to provide personalized care and address your health concerns.👨🏻‍⚕️

We aim to create a supportive and confidential environment to ensure you receive the best possible guidance and treatment recommendations. 😊

𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭 𝐛𝐨𝐝𝐲 𝐞𝐱𝐩𝐞𝐫𝐭𝐬 𝐭𝐨𝐝𝐚𝐲📱
𝗙𝗼𝗿 𝐛𝐨𝐨𝐤𝐢𝐧𝐠 & 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐥𝐬
🌐𝐡𝐭𝐭𝐩://𝐛𝐨𝐝𝐲𝐞𝐱𝐩𝐞𝐫𝐭𝐬.𝐜𝐨𝐦.𝐩𝐤
📱𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 / 𝐂𝐚𝐥𝐥+𝟗𝟐𝟑𝟑𝟐𝟖𝟎𝟎𝟎𝟗𝟎𝟑

😓 سی ایس ایس سے موت تک کا سفر 😓بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی ...
30/11/2023

😓 سی ایس ایس سے موت تک کا سفر 😓
بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔

بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

لیکن عرفان خان نے کیا زبردست جملہ بولا تھا کہ "جب ہم جیسوں کےدن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے"۔ بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں)۔ میں خود گورنمنٹ سروس میں ہوں تو جانتا ہوں کہ کس قدر آپ کو پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ یہ ارب پتی باپ طارق جمیل کے ارب پتی بیٹے کو بھی دبوچ لیتی ہے اور یہ ایک مزدور باپ کے افسر بیٹے بلال پاشا کو بھی نہیں چھوڑتی۔ دوسرا۔۔ ہمیں اپنے خوابوں کے پیچھے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہیے کہ وہ ہمارے لئے Pyrrhic Victory ثابت ہو ( فرانس کا نپولین بوناپارٹ روس کو شکست دینے کے لئے اپنی چھ لاکھ فوجوں کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ جنگ تو جیت گیا لیکن سرد موسم کی وجہ سے صرف دس ہزار فوجیوں کو بچا کر واپس آیا اور تب تک پیرس کا بھی محاصرہ ہوچکا تھا) ۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے " جس کی طلب میں تڑپ رہے ہو، وہ مل بھی بھی گیا تو کیا کرو گے"۔ یا پھر چارلس بکوسکی سے نے کہا تھا " ڈھونڈو اسے جس سے تم محبت کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں مارسکے"۔ بلال کو بھی سی ایس ایس کرنے نے مار دیا۔ لہذا سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا " یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے"۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں) اب قیامت گزر چکی ہے۔

آج کی رات بلال کے باریش والد کے لئے بہت بھاری ہے۔ آج وہ اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کے سونے جیسے جسم کو سپرد خاک کرے گا۔ آج کی رات بہت طویل ہے۔۔ بہت کٹھن۔۔ ہر طرف چیخ و پکار ہوگی۔۔ بلال کی میت کو روکا جائے گا۔۔ لیکن جانے والے کو کوئی روک پایا ہے؟ آج رات تو ہوگی لیکن اس کی سحر نہیں ہوگی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوگا تو اس کا باریش باپ گلیوں گلیوں صدائیں لگاتا ہوا اسی مسجد کے صحن میں جا پہنچے گا جہاں سے بلال نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار وہ میسر نہیں ہوگا۔ اب کی بار مسجد کے درودیوار سے بس آہ و بکا سنائی دے گی۔۔ وحشت نظر آئے گی۔۔ لیکن بلال کہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔ وہ اس نیلی بتی۔۔۔ سبز نمبر پلیٹ ۔۔۔ اور اس سماج کے خودساختہ معیار سے بہت دور جاچکا ہوگا۔ اب کی بار وہ لوٹ کے نہیں آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ بلال۔۔۔۔۔


27 نومبر 2023ء)

Address

Shahrah Liaqat Quetta
Quetta
8300

Telephone

+923408398512

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when mohin kakar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category