02/08/2026
کویٹہ یکم اگست
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی مسلسل کوششوں اور نگرانی میں سرنج کوئلہ کان میں دھماکے کے بعد جاری مشترکہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 34 کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی گئیں۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (PEOC) کو 30 جولائی کو سہ پہر تقریباً 4 بجے ایس ایچ او ہنہ کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ سرنج کے علاقے میں واقع کوئلہ کان میں دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد کان کن اندر پھنس گئے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے بلوچستان نے فوری طور پر اپنی ریسکیو فورس کو الرٹ کیا اور محکمہ مائنز کی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ رابطہ اور مربوط کارروائی کا آغاز کیا۔
ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی کی خصوصی ہدایات پر پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس نے ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو اصغر علی جمالی کی سربراہی میں پانچ ایمبولینسز اور ضروری ریسکیو آلات کے ساتھ فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانگی اختیار کی۔
محکمہ مائنز کی ریسکیو ٹیم، پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس اور مقامی کان کنوں پر مشتمل مشترکہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن شروع کیا گیا۔ آپریشن کے دوران پی ڈی ایم اے، محکمہ مائنز، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے درمیان مسلسل اور مؤثر رابطہ برقرار رکھا گیا۔
انتہائی دشوار حالات میں کئی گھنٹوں پر محیط ریسکیو کارروائی کے دوران 31 جولائی کی صبح تقریباً 3 بج کر 40 منٹ تک 32 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ مزید گہرائی میں پھنسے ہوئے دو کان کنوں کی لاشیں یکم اگست کی صبح تقریباً 8 بجے برآمد کی گئیں۔ اس طرح جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی مجموعی تعداد 34 ہوگئی اور مشترکہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن اختتام پذیر ہوگیا۔
ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے محکمہ مائنز کی ریسکیو ٹیم، پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور مقامی رضاکاروں کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں نے انتہائی مشکل حالات میں مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔