13/06/2026
دل کی بے چینی، اڑتی ہوئی دھول، اور گزرا ہوا فسانہ۔
غبارِ جاں
ہمیں اب زندگی میں کوئی بھی امید نہ رہی
تیرے جانے سے میری جان کوئی عید نہ رہی
دل کے ویرانے میں اڑتی ہے تمنا کی دھول
اب کسی خواب کی آنکھوں کو تو دید نہ رہی
ہم نے چاہا تھا کہ سینے میں چھپائیں گے یہ درد
مگر اس دل کو تو رونے کی بھی تائید نہ رہی
تیری یادوں کے غبارے ہیں میری روح کے پاس
اب محبت میں کوئی بات بھی جدید نہ رہی
وقت لے جائے گا یادوں کے دھندلکے بھی یہاں
اب کسی عہد کی جذبوں میں تمدید نہ رہی
ہم تو بیٹھے رہے چاہت کی گلی میں تنہا
اور اب دل کو کسی نام کی تاکید نہ رہی
سلسلہ ختم ہوا چاہتِ جاں کا کامر
اب زمانے میں میری کوئی بھی تقلید نہ رہی
✒️ مہرکامر