20/08/2026
عہدِ نو کے سناٹے اور روپ بدلتے انسان کا المیہ
#کامرلطیف
سایہ سا کوئی خواب
یہ کھوکھلے سے مکاں کس نے دیکھنا سیکھے
کوئی نہ تھا تو میری سمت کون دیکھ گیا
یہ چمکتی ہوئی دیواریں ہیں اپنا بدن
تیری نگاہ کا دھوکا کسی کو کھا گیا
ہجومِ نو میں پرانا وجود روتا ہے
ہر ایک شخص عجب مرحلے پہ آ گیا
وہ حرف کیا تھا کہ تقدیر ہی پلٹ دی گئی
دلِ خراب کِس اک سمت کو چلا گیا
ہماری ذات پہ کتبہ کوئی نیا لکھ دو
پرانا خواب تو دیوار سے گرا گیا
یہ شورِ شہر ہے یا اپنی خامشی کا عذاب
یہ کون سا ترے کوچے میں حادثہ ہوا گیا
✍️ مہرکامر