Faisal Abbasi

Faisal Abbasi help those people They don't about sach beautiful place store or clinic

29/05/2026

What is ibrahimi mohidaa

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ کوئی ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ معاہدوں کے مجموعے کو ابراہیمی معاہدہ یا ابراہیمی معاہدے کہتے ہیں۔ صدر بل کلنٹن کا دور صدارت 1993 سے 2001 تک تھا۔ ایک دفعہ انھوں نے اپنے دور صدارت کے دوران کہا تھا کہ’’ مجھے نہیں پتہ کہ مسلمان اور یہودی آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟ یہ تو آپس میں کزن ہے۔‘‘
ان کا اشارہ یہ تھا کہ یہ دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولادیں ہیں اور یوں یہ آپس میں کزن ہوئے، ہرچند کہ اب ان کا یہ بیان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ہوا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کی بنیاد تو 1979 میں مصر اسرائیل معاہدے کے ساتھ رکھ دی گئی تھی جس کو دنیا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نام سے جانتی ہے اور ویسے بھی اس وقت تک ابراہیمی معاہدے کی اصطلاح کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس معاہدے کے ذریعے مصر نے اسرائیل کے ساتھ اپنی جنگ کا خاتمہ کیا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہ معاہدہ انور سادات کی جان لے گیا۔
اسی معاہدے کی دوسری قسط 25 جولائی 1994 میں چلی جب اردن کے شاہ حسین نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن سے ملاقات کی، جہاں انھوں نے واشنگٹن ڈیکلریشن پر دستخط کیے۔ جس سے اردن اور اسرائیل کے درمیان 46 سال سے جاری جنگ کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہوا۔ آخرکار، 26 اکتوبر 1994 کو اردن نے اردن،اسرائیل امن معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آئے اور ان کے درمیان علاقائی تنازعات کا خاتمہ ہوا۔ آج اردن اسرائیل کا بالواسطہ نگہبان ہے۔
2000 سے پہلے ہی اسرائیل نے دو مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہترکر لیے تھے۔ اس دوران بہت سارے سنی مسلمان ممالک کے حکمران اپنی حکومت بچانے کے لیے اسرائیل سے پس پردہ گفت و شنید اور مفاہمت کا آغاز کر چکے تھے۔ انھیں خطرہ شیعہ ایران سے تھا۔ ان تعلقات کا آغاز 2010 کی دہائی میں ہوا اور 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہوگئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی دورے اور محدود فوجی و انٹیلیجنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ امریکا نے عرب ممالک کو ایران سے ڈرانے اور اسرائیل کی قانونی حیثیت کو قبول کروانے کا ایک منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کا نام ابراہیمی معاہدہ رکھا گیا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلام، یہودیت اور عیسائیت یعنی تینوں بڑے مذاہب ایک معزز پیغمبر سمجھتے ہیں۔

یہودیوں کو آخری نبی کے آنے کا پورا یقین تھا لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، اسی لیے انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو ماننے سے انکارکیا اور قرآن میں بہت سی جگہوں پر اس کا ذکر ہے۔ ہم واپس ابراہیمی معاہدے پر آتے ہیں۔ اسرائیل اور امارات کے درمیان 13 اگست 2020 کو معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی بحرین کے حکام نے جیرڈ کشنر اور اوراہم برکووٹز کو پیغام دیا کہ ہم اگلا ملک بننا چاہتے ہیں۔ بالآخر 15 ستمبر 2020 کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان اور بحرینی وزیر خارجہ عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں واقع ٹرومین بالکونی پر معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ شاندار تقریب ماضی کے اہم معاہدوں کی طرز پر منعقد کی گئی تھی۔
اسرائیل سوڈان میں تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ 23 اکتوبر 2020 میں ہوا اور یوں مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان پانچواں عرب ملک ہوا کہ جس نے اسرائیل سے معاہدہ کیا، ہرچند کہ یہ معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ رہا۔ 10 دسمبر 2020 کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور مراکش نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انھیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ مشرق وسطی کا سب سے اہم ملک سعودی عرب ہے، اسی لیے اس پر سب سے زیادہ دباؤ اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے ہیں۔ اس سے آپ کو پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ صدر ٹرمپ تو دیگر مسلمان مگر غیر عرب ممالک کو بھی اس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔
آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے کی آٹھ مسلم ممالک نے تائید کی ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ مسلمان ممالک کے لیے مسئلہ فلسطین تو اب پس منظر سے بھی غائب ہوچکا ہے اور ہر ملک اپنی قیمت کا تعین کرکے ابراہیمی معاہدہ کر رہا ہے، مگر آخر میں ساری قیمتیں دھری کی دھری رہ جائے گی اور ہوگا وہی جو اسرائیل چاہے گا۔ اس کالم میں ہم نے اختصار کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کی تاریخ اور ایک عمومی جائزہ پیش کیا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ آنے والے دن بہت ہیجان انگیز اور ہنگامہ خیز ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دور صدارت دنیا پر دورس نتائج کا حامل ہوگا۔ ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل اور جمہوریہ ترکیہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ہیں۔ اسرائیل اور ترکیہ کے تعلقات باضابطہ طور پر مارچ 1949 میں طے پائے تھے اور ترکیہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلمان اکثریتی ملک بنا تھا۔
ابراہیمی معاہدہ اسرائیل کو مسلمان ریاستوں سے ایک قانونی ریاست کے طور پر قبول کروانے کی ایک کوشش کا نام ہے اور اگر آپ اس سے زیادہ سچ پڑھنے کے لیے تیار ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ ابراہیمی معاہدہ وسیع تر اسرائیل یا گریٹر اسرائیل کی جانب دوسرا قدم ہے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرکے چند مسلمان ریاستیں پہلے ہی پہلا قدم اٹھا چکی ہے اور اب تو اسرائیل کے دوڑنے کی باری ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ریاست کو عقائد نہیں بلکہ مفادات کے تحت چلانا چاہیے اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک کو پتہ ہے کہ اب ان کا مفاد کہاں ہے اورکس میں ہے۔

02/05/2026

KYA YEH BAAT THEEK HAI

Yeh ek gehri aur sanjida baat hai jo aaj kal har ghar mein discuss ho rahi hai. Is mein koi shak nahi ke 2000 ke baad paida hone wali nasal (Gen Z) ko makhsoos qism ke nafsiati (psychological) aur j**mani masail ka samna hai.
​Lekin, is ke peeche sirf "kamzoori" nahi, balkay badalte hue zamane ke kuch thos asbaab hain. Aayiye is par zara tafseel se baat karte hain:

​1. Nafsiati Dubao (Psychological Stress) ki Wajuhat

​Aaj ki nasal ko woh "mental pressure" mehsoos hota hai jo pehle shayad itna zyada nahi tha:

​Social Media ka Muqabla: Har waqt doosron ki "perfect" zindagi dekh kar apni zindagi se na-umeedi paida hoti hai. Har waqt khud ko doosron se compare karna zehni dabao ki bari wajah hai.

​Information Overload: Internet ki wajah se itni zyada maloomat aur dunya bhar ki buri khabrein har waqt aankhon ke samne rehti hain ke dimaag thak jata hai.

​Mustaqbil ka Dar: Career, inflation (mehangai), aur competition itna barh gaya hai ke ye nasal har waqt "piche reh jane" ke khauf mein rehti hai.

​2. Jismani Kamzoori aur Laghar-pan ki Wajuhat

​Agar humein ye nasal j**mani tor par kamzor lagti hai, to us ki bari wajuhat ye hain:
Wajah
Tafseel
Ghair-Mutawazin Giza
Junk food, soft drinks, aur processed khano ka istemal barh gaya hai. Asli doodh, makhann aur ghar ki khalis gizayen kam ho gayi hain.
Physical Activity ki Kami
Pehle bachay galiyon mein khelte thay, ab "screen time" (Mobile/Gaming) ne unhein gharon tak mehdood kar diya hai.
Neend ki Kami
Raat bhar mobile ka istemal neend ka nizaam darham barham kar deta hai, jis se j**m ko recovery ka waqt nahi milta.
Vitamin D ki Kami
Dhoop mein nikalna kam ho gaya hai, jis se haddiyan aur muscles kamzor ho rahe hain.
Kya Ye Nasal Sach Mein "Kamzor" Hai?

​Ek pehlu ye bhi hai ke ye nasal kamzor nahi balkay mukhtalif hai.

​Zehni Bedari: Ye log apni mental health ke bare mein purani naslon se zyada ba-shaoor hain. Woh baat karte hain jab unhein dukh hota hai, jabke purani naslon mein jazbaat dabana "bahaduri" samjha jata tha.

​Technology ke Mahir: Inka j**m shayad sakht mehnat ka aadi na ho, lekin inka dimaag purani naslon se kaheen zyada tezi se maloomat ko process karta hai.

​Behtari Kaise Mumkin Hai?

​Agar hum chahte hain ke is nasal ka "laghar-pan" khatam ho, to kuch tabdeelian lazmi hain:

​Digital Detox: Din mein kuch ghante mobile se door rehna.

​Outdoor Activities: Kam az kam 30 minute dhoop aur khel kood.

​Ghar ki Giza: Fast food se parhez aur protein/vitamins se bharpoor khurak.

​Aap ke khayal mein, kya is mein thora qasoor humare badalte hue "lifestyle" ka hai ya waqt ki raftaar hi aisi ho gayi hai?
Kya Ye Nasal Sach Mein "Kamzor" Hai?

​Ek pehlu ye bhi hai ke ye nasal kamzor nahi balkay mukhtalif hai.

​Zehni Bedari: Ye log apni mental health ke bare mein purani naslon se zyada ba-shaoor hain. Woh baat karte hain jab unhein dukh hota hai, jabke purani naslon mein jazbaat dabana "bahaduri" samjha jata tha.

​Technology ke Mahir: Inka j**m shayad sakht mehnat ka aadi na ho, lekin inka dimaag purani naslon se kaheen zyada tezi se maloomat ko process karta hai.

​Behtari Kaise Mumkin Hai?

​Agar hum chahte hain ke is nasal ka "laghar-pan" khatam ho, to kuch tabdeelian lazmi hain:

​Digital Detox: Din mein kuch ghante mobile se door rehna.

​Outdoor Activities: Kam az kam 30 minute dhoop aur khel kood.

​Ghar ki Giza: Fast food se parhez aur protein/vitamins se bharpoor khurak.

​Aap ke khayal mein, kya is mein thora qasoor humare badalte hue "lifestyle" ka hai ya waqt ki raftaar hi aisi ho gayi hai?

09/03/2026

4 din kam 3 din aram maze he maze

09/03/2026
Yeh 17 saal k seri linkin players kangro k khilaf 100 mare hein eik like is k lie
16/02/2026

Yeh 17 saal k seri linkin players kangro k khilaf 100 mare hein eik like is k lie

اگر کل پاکستان انڈیا سے میچ جیتا تو اس پوسٹ پر آئے ہر بندے کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا، jis ka comment sub s...
15/02/2026

اگر کل پاکستان انڈیا سے میچ جیتا تو اس پوسٹ پر آئے ہر بندے کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا، jis ka comment sub sey zaida hoe ose eik gift mile ga

03/01/2026

حالات واضح ہے
اس وقت جنوبی یمن میں پاکستان ، سعودیہ ، ترکی
بمقابلہ
اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور انڈیا ہے

ڈاکٹر وردہ مشتاق پوری امید ہے کہ پولیس قاتلوں کو کیفرکردار تک  لے کر جائے گی ایبٹ آباد سے پوری امید ہے وہ اس کیس کی پیرو...
08/12/2025

ڈاکٹر وردہ مشتاق
پوری امید ہے کہ پولیس قاتلوں کو کیفرکردار تک لے کر جائے گی
ایبٹ آباد سے پوری امید ہے وہ اس کیس کی پیروی کریں گے
بلے دی ہٹی کا مکمل بائیکاٹ کریں

*🕯️ ڈاکٹر وردہ صاحبہ شہید – ایک اور بیٹی ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی💔🕯️*

ایبٹ آباد، شہرِ امن… آج چیخ چیخ کر سوال کر رہا ہے:
کیا یہاں *کسی بیٹی کی عزت، کسی ڈاکٹر کی جان* محفوظ نہیں رہی؟💔🙏😥

*ڈاکٹر وردہ*، بینظیر بھٹو ٹیچنگ ہسپتال (DHQ) میں خدمات انجام دینے والی ایک باہمت اور فرض شناس لیڈی ڈاکٹر،
تین روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوئی…
اور آج اس کی لاش *ٹھنڈیانی کے لڑی بانڈی کے جنگلوں* سے ملی۔
یہ صرف قتل نہیں… *انسانیت کا جنازہ ہے۔* 💔

اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحبہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی فیملی کو صبرجمیل عطا فرمائے آمین 🤲 😥 💔

تحقیقات کے مطابق،
یہ ظالمانہ سازش اس کی اپنی "دوست" نے کی —
صرف 67 تولے سونا واپس مانگنے پر!
اسی دوست نے اسے *جدون پلازہ* بلایا،
جہاں اسے *ٹھیکیدار ندیم (بنوٹہ)* کے حوالے کیا گیا۔
پھر *شمریز* اور دیگر ساتھی اسے سوزوکی میں لے کر نکلے…
اور ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔

کیا *سونا*، *لالچ* اور *دوستی کا دھوکہ*،
ایک قیمتی جان سے بڑھ کر ہو گیا ہے؟

*سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر وردہ کو کیوں مارا گیا —*
*سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ کب آواز اٹھائیں گے؟ کب انصاف لائیں گے؟*

📢 ہم خاموش نہیں رہیں گے
📢 ہم ڈاکٹر وردہ کے لیے انصاف مانگتے ہیں
📢 ہم اس ظلم پر پردہ نہیں پڑنے دیں گے!






---
😥💔🙏

Address

Rawalpindi
46300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faisal Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category