Dairy Vetz

Dairy Vetz Dairy farming is an emerging business not only in Pakistan but also all over the globe.

Dairy Vetz team provide you updated and current knowledge about dairy and dairy farming.

Stay safe and keep yours animal safe 👍
04/09/2025

Stay safe and keep yours animal safe 👍

03/08/2025

"پاکستان میں 2021 سے لے کر اب تک تقریباً 3 لاکھ کے قریب لمپی اسکن بیماری کے کیسز آ چکے ہیں، یہ بیماری پھر دوبارہ آ رہی ہے۔ کیا آپ لوگوں میں کسی نے کوئی نیا کیس دیکھا ہے؟"


لمپی اسکِن بیماری مویشیوں میں پھیلنے والی ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو مکھیوں اور کیڑوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری م...
12/04/2025

لمپی اسکِن بیماری مویشیوں میں پھیلنے والی ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو مکھیوں اور کیڑوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری میں جانوروں کی جلد پر سخت گٹھلیاں بن جاتی ہیں، بخار ہوتا ہے، اور دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں اس بیماری سے لاکھوں مویشی متاثر ہوئے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پاکستان نے لمپی اسکِن بیماری کے خلاف اپنی پہلی مقامی "پیٹنٹ ویکسین" تیار کر لی ہے۔ یہ ویکسین جانوروں کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی اور دیہی معیشت کو سہارا دے گی۔ مویشی پال حضرات کو چاہیے کہ بروقت ویکسین لگوائیں۔

لمپی اسکِن بیماری (Lumpy Skin Disease) سے بچاؤ کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

1. ویکسینیشن کروائیں: مویشیوں کو وقت پر L*D کی ویکسین لگوائیں۔

2. کیڑوں سے بچاؤ: مکھیوں، مچھروں اور چیچڑیوں کا خاتمہ کریں، کیونکہ یہ وائرس پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

3. علیحدہ رکھنا: بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے فوراً الگ کریں۔

4. صفائی کا خیال: باڑہ اور جانوروں کے رہنے کی جگہ کو صاف اور خشک رکھیں۔

5. آنے جانے پر کنٹرول: باہر سے آنے والے جانوروں کو قرنطینہ میں رکھ کر ان کا معائنہ کریں۔

6. ماہر ڈاکٹر سے رجوع: بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

یہ اقدامات بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

16/05/2022


09/05/2022

موسم گرما اور ہمارے جانور

پاکستان کے بیشترعلاقوں کے موسم شدید ہوتے ہیں۔ موسم گرما کی شدت نہ صرف انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔بلکہ جانور بھی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جانوروں کے اعصابی نظام پر گرمی بہت زیادہ اثر کرتی ہے۔ اس وجہ سے جانوروں سے حاصل ہونی والی غذائی اشیاءمثلاً دودھ ، گوشت اور انڈوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مویشی خانوں اور مرغی خانوں کی لمبائی شرقاً ،غرباً جبکہ چوڑائی شمالاً، جنوباً رکھی جاتی ہے۔ عمارت کا رخ جنوب کی طرف رکھنا چاہیے۔ تاکہ سردیوں میں سورج کی ترچھی شعاعیں عمارت کے اندر داخل ہو سکیں اور گرمیوں کے موسم میں سورج کی شعائیں شیڈزمیں داخل نہ ہو سکیں۔ یہاں پالتوجانوروں پر زیادہ گرمی کے اثرات کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ہر جانور کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے جسم کا درجہ حرارت زیادہ نہ بڑھے ۔ اس لیے شدید گرمی میں ہر جانور زیادہ پانی پیتا ہے اور چرنا کم کردیتا ہے۔
جانور خوراک کی کمی کے باعث نسبتاً کمزور ہو جاتا ہے۔ جسم کی گرمی باہر نکالنے کے لیے قدرتی طور پر سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اورجانور ایک دوسرے سے دوررہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر درجہ حرارت اور زیادہ بڑھ جائے توجانور زیادہ تیزی سے سانس لیتا ہے جس کا مقصد جسم سے زیادہ گرمی خارج کرنا ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت مزید بڑھ جائے تو لڑکھڑانے لگتا ہے اور آخر میں موت واقع ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔اسی طرح کسی جانور کے صاف اور سیدھے بال بھی گرم لو سے بچاتے ہیں اورگرمی خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے بھیڑوں کی بعض نسلیں مثلاً مرینوں نسل کی بھیڑیں، اون اتارنے کے بعد زیادہ گرمی برداشت نہیں کر سکتیں اور بہت کم حاملہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح پرندے شدید گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چونچ اور پر کھول دیتے ہیں۔ مرغی کم انڈے دیتی ہے۔ اسکے انڈوں کے خ*ل بھی پتلے ہو جاتے ہیں۔
اگر چھوٹے چوزوں کو 90ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اچھی طرح پر ورش نہ پاسکیں گے۔ بالخصوص جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت بڑھ جاتاہے وہاں چھوٹے پرندوں کو پالنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے ۔

مغربی ممالک میں جانوروں کو شدید گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان ملکوں کے جانور ہمارے ملک کے جانوروں کی نسبت 9.6فیصد جلد نشو ونما پا کر نسل کشی کے قابل ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ ہمارے مویشی پال حضرات کی نسبت زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
جانوروں کی طاقت بحال رکھنے کے لیے انہیں زیادہ اور قوت بخش خوراک دیں کیونکہ زیادہ ریشے دار اجزاءوالی خوراک جانوروں کو ہضم کرنے میں دقت ہوتی ہے، اس سے پیاس بھی زیادہ لگتی ہے اور جانور گوبر کے ساتھ غیر ہضم شدہ اجزاءزیادہ مقدار میں خارج کرتے ہیں۔
اس کے برعکس تازہ چارہ جات میں پانی کی مقدار 80فیصد سے زیادہ ہوتی ہے اور اُن میں ریشہ دار اجزاءنسبتاً کم ہوتے ہیں۔
ایک درجن انڈوں میں ادھا لیٹر پانی ہوتا ہے۔ انڈے نہ دینے والی مرغیاں ایک کلو خوراک کے ساتھ ساتھ ایک لیٹر پانی پیتی ہیں۔ جبکہ انڈے دینے والی مرغیاں خوراک کی مقدار کے ساتھ نسبتاً پانی زیادہ پیتی ہیں۔
تجربات سے یہ معلوم ہو ا ہے کہ اگر چوزوں کے سامنے ہر وقت پینے کا پانی موجود رہے تو وہ مقرر اوقات پر پانی نسبتاً زیادہ پیتے ہیں۔ اگر چوزوں کو چند گھنٹے پیاسا رکھا جائے اور پھر پانی دیا جائے تو ان میں اموات واقع ہو سکتی ہیں۔
نئی فصل کے اناج میں پانی28فیصد تک ہوتا ہے اورآخر میں یہ مقدار 13فیصد رہ جاتی ہے، اس لیے چوزوں کو خوراک دیتے وقت نمی کی اس زائد مقدار کا خیال رکھا جائے۔
عام طور پر جانوروں کے لیے 60سے73درجے فارن ہائیٹ درجہ حرارت نارمل ہے۔ لیکن مرغیاں 50سے75درجے فارن ہائیٹ پر خوش رہتی ہیں۔ اس سے زیادہ درجہ حرارت ان کے لیے خطرناک ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر مرغیوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے ۔ شدید گرمی میں پانی پینے کے برتنوں کی تعداد خوراک کے برتنوں کی تعداد سے دوگنی کر دینی چاہیے۔
دوسرے جانوروں کو بھی کھلی ہوادار اور سایہ دار جگہوں پر رکھیں۔ جانوروں سے کڑکتی دھوپ میں زیادہ کام نہ لیں۔ مویشیوں کو چند میل چلانے کے بعد سایہ دارجگہ پر آرام کریں۔ گائے بھینس کو گرمی کے اوقات میں پانی سے نہلائیں۔

  of dairy cattle
23/12/2021

of dairy cattle

16/10/2021

Fog Fever سردیوں میں سبز چارے کی ٹھنڈک اور دھند کا نمونیا اور بخار
محکمہ لائیو سٹاک پچھلے چند سالوں سے اس بیماری کے متعلق آگاہی مہم چلا رہا ہے۔ فوگ فیور Fog Fever کیسے ہوتا ہے، وجوہات اور بچاو¿ کی تدابیر، موجودہ دنوں میں جب جانور کم پروٹین والے چارہ جات جیسے مکئی، جوار ،باجرہ، یا سبز چارے کی کمی کی وجہ سے زیادہ مقدار میں خشک چارہ جیسے توڑی، پرالی وغیرہ کھا رہے ہوں تو معدہ کے خوردبینی جاندار اپنے آپ کو ان چارہ جات کے مطابق ڈھال لیتے ہے لیکن جیسے ہی ایک دم سے سبز اور زیادہ پروٹین والا چارہ مثلاً لوسن، سرسوں اور خاص طور پر برسیم کھلایا جاتا ہے تو جانور ایک خطرناک، لاعلاج اور مہلک مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ کم پروٹین اور خشک چارہ کھانے والے جانوروں میں یکدم سبز اور پروٹین سے بھرپور چارہ کھانے کے 4 دن سے 10 دن تک ہوسکتا ہے۔ سبز اور زیادہ پروٹین والے چارہ جات میں پروٹین کا ایک جزو (امینو ایسڈ) ٹرپٹوفان (Tryptophan) ہوتا ہے، جس کو خشک چارہ کھانے والے جانوروں کے معدے میں موجود بیکٹریا ایک زہریلے کیمیکل
3-methylindole (3-MI)
میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ تھوڑی مقدار میں تو جسم اس کو برداشت کر لیتا ہے لیکن اگر معدہ میں اس کیمیکل کی مقدار زیادہ پیدا ہو تو یہ پھیپھڑوں میں پہنچ کر ان کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے بیکٹیریا خشک اور کم پروٹین والا چارہ کھانے جانوروں کے معدے میں زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں اور جیسے ہی ان کو یکدم زیادہ پروٹین ملتی ہے تو یہ زیادہ مقدار میں زہریلا کیمیکل بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کیمیکل سے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اسی لئے بیماری کی علامت نمونیا جیسی ہوتی ہیں!!
سانس لینے میں دشواری/ کھینچ کر سانس لینا
جانور کھڑا رہتا ہے، بیٹھنے کی کی کوشش کرتا ہے لیکن پھپھڑوں کی سوزش اور درد کی وجہ سے بیٹھ نہیں پاتا۔کھانسی، زکام، ناک سے ریشہ اور پانی منہ سے زیادہ جھاگ کا گرنا ۔ جانور کا الگ تھلگ، سست ہوجانا اور کھانا پینا کم کردینا
اکثر جانور کا ٹمپریچر نارمل ہی رہتا ہے بخار نہیں ہوتا، اور اگر ہو تو گائے بھینس میں بخار 103 تک ہی ہوتا ہے لیکن اوپر بیان کی گئی علامات ہوتیں ہیں۔
کچھ جانور ایک دو دن میں خود ٹھیک ہوجاتے ہیں اور اس مسئلہ کا زیادہ شکار نہیں ہوتے، لیکن کچھ جانوروں میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ حالانکہ سب جانوروں کو ایک ہی طرح کی خوراک دی جا رہی ہوتی ہے۔ اگر 100 جانوروں کا فارم ہو اور خشک چارہ کھا رہے ہوں اور اسی طرح اچھی پروٹین والے سبز چارے ایک دم سے شروع کروا دئیے جائیں تو 50 جانور بیمار ہوسکتے ہیں اور 30 جانور اس بیماری سے مر بھی سکتے ہیں۔
کیونکہ یہ کیمیکل پھیپھڑوں پر اثر کرتا ہے اس لئے نمونیا اور سانس کی بیماری والی علامات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس بیماری کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا جو اس زہریلے کیمیکل کو ختم کرسکے۔ اللہ نہ کرے اگر یہ مسئلہ جانوروں میں ہو جائے تو کوئی دوائی، کوئی ٹیکہ، ڈرپ بوتل کچھ بھی علاج نہیں ہے۔ اور اگر جانور کو یہ بیماری ہو جائے تو 6-8گھنٹے میں جانور مر بھی سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط ہی علاج ہے!
جانور لوسن, برسیم, سرسوں وغیرہ کو بہت پسند کرتے ہیں اس لئے وہ زیادہ کھاتے ہیں اور بیمار ہوسکتے ہیں۔ جانور بھوکا ہو اور بہت زیادہ مقدار میں اچھی پروٹین والا سبز چارہ کھا لے تو بھی یہ بیماری ہوسکتی ہے۔
”جانور کم پروٹین والی خوراک، چارہ کھا رہا ہو اور ایک دم سے اچھی پروٹین والا چارہ دیا جائے تو اس بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے“
کوشش کریں کہ نئے چارے کو مکمل تبدیل کرنے میں 10-12 دن لگائیں، تھوڑی مقدار سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ خوراک تبدیل کریں تاکہ معدہ کے خوردبینی جاندار اپنے آپ کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھال سکیں اس بیماری کو فوگ فیور Fog Fever کہتے ہیں، پاکستان میں اس کو سردیوں کا بخار بھی کہا جاتا ہے۔
فوگ fog دھند کو کہتے ہیں دھند کا اس بیماری سے کوئی تعلق نہیں، فوگ بخار(Fog Fever) چارے کو بھی کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس بیماری کا نام فوگ فیور ہے۔
یہ بیماری ”فوگ فیور“ لاعلاج ہے لیکن اگر چھوٹی سی احتیاط کی جائے تو اس بیماری سے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے۔ چارہ ایک دم تبدیل نہ کریں، جو چارہ استعمال کر رہے ہیں اس کو نئے چارے سے آہستہ آہستہ تبدیل کریں۔ برسیم کو ہمیشہ خشک چارہ کے ساتھ ملا کر دیں۔ برسیم سرسوں وغیرہ کو کاٹ کر چند گھنٹے ایسے ہی پڑا رہنے دیں تاکہ اس میں نمی کی مقدار کچھ کم ہوسکے۔ زیادہ نمی پانی والے چارے سے جانور کو اپھارہ بھی ہوسکتا ہے۔ جانور کو رات کا ٹھنڈا پانی نہ پلائیں، تازہ پانی پلائیں، رات کو پانی کے برتن، کھرلیاں خالی کر تاکہ کہیں جانور خود ہی ٹھنڈا پانی نہ پی لیں۔ دودھ نکالنے کے بعد جانور کو تازہ پانی ضرور پلائیں۔ جانوروں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو ٹھنڈی ہوا سے بچائیں۔
بیماری بہت خطرناک ہے لیکن احتیاط بہت چھوٹی سی ہے کہ سردیوں کا چارہ ایک دم سے تبدیل نہ کریں۔
اگر یہ احتیاط کریں تو اس بیماری کا بالکل بھی کوئی خطرہ نہیں۔



20/08/2021

دودھ میں چکنائی بڑھانے میں روڈ گراس ہیے کا کردار
(Milk Fat and Rhode grass Hay)

🔸راشن، منرلز اور DCAD راشن:

دودھ دینے والے جانورں کو پروٹین اور انرجی کی طرح مختلف منرلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان منرلز کے اوپر منفی یا مثبت برقی چارج ہوتا ہے، راشن میں منرلز کے اوپر ان برقی چارج کی بنیاد پہ ہم راشن کو DCAD راشن کہتے ہیں. (DCAD: Dietary Cation Anion Difference)

اگر ٹوٹل راشن میں منفی چارج مثبت چارج سے زیادہ ہو تو راشن کو DCAD نیگیٹو راشن کہتے ہیں اور اگر مثبت چارج منفی چارج سے زیادہ ہوں تو راشن کو DCAD پازیٹو راشن کہتے ہیں۔ ان دونوں چارج کے حامل منرلز کا توازن میں ہونا DCAD Balance کہلاتا ہے اور جانور کے صحت مند ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

گائے کو بچہ جننے کے21 دن پہلے DCAD نیگٹو راشن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچہ پیدا ہونے کے بعد گائے کو مِلک فیور، LDA, RDA اور Ketosis وغیرہ سے بچایا جا سکے۔
چونکہ کلورائیڈ (Cl) اور سلفر (S) پر منفی برقی چارج ہوتا ہے اس لیے انکی مقدار بڑھا دینے سے راشن DCAD نیگٹو ہو جاتا ہے۔ اس کیلیے مارکیٹ میں Closeup minerals کے بہت سے منرلز برانڈز موجود ہیں۔

بچہ پیدا ہونے کے بعد راشن کا DCAD Balance کرنا ضروری ہوتا ہے اس کے لیے ہم منرلز سے کلورائیڈ (Cl) اور سلفر (S) کو کم کرتے ہیں اور سوڈیم (Na) اور پوٹاشیم (K) کی مقدار بڑھا دیتے ہیں کیونکہ سوڈیم (Na) اور پوٹاشئیم (K) پر برقی مثبت چارج ہوتا ہے۔ راشن کا DCAD نیگیٹو سے DCAD Balance کرنے کے لیے مارکیٹ میں بہت سے منرلز کے برانڈز موجود ہیں جو آپ اپنے فارم ویٹ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں۔

🔸پوٹاشئیم (K):

پوٹاشئیم ایک مثبت برقی چارج کے حامل منرل ہے جس کے دودھ دینے والے جانوروں پہ بہت مثبت اثرات ہیں۔ مختلف ریسرچ بتاتی ہیں کہ پوٹاشئیم۔۔۔
▫️گرمی کے دباؤ کو کم کرتا ہے۔
▫️دودھ کی پیداوار اور دودھ میں چکنائی کی پیداوار بڑھاتا ہے۔
▫️ گرمی اور حبس کے موسم میں گائے کو Dehydration سے بچاتا ہے۔
▫️خون میں تیزاب کی مقدار کو کم کر کے pH کو Neutralize کرتا ہے۔

🔸روڈ گراس ہیے (Hay) اور پوٹاشئیم:

اب ہم Rhode grass Hay کی بات کرتے ہیں۔ یہ پروٹین اور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ سوڈیم اور خصوصاً پوٹاشئیم کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ Rhode grass Hay کے ایک کلو گرام ڈرائی میٹر میں۔۔۔
▫️کیلشیم 4.6 گرام
▫️فاسفورس 4.2 گرام
▫️سوڈیم 8.9 گرام اور
▫️پوٹاشیم 23.8 گرام* ہے۔
یہ پوٹاشیم راشن کا DCAD بیلنس کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں گائے موسمِ گرما میں Heat stress سے محفوظ رہتی ہے اور اس کے ساتھ دودھ کی پیداوار اور دودھ میں چکنائی کا بھی اضافہ ہوتا ہے۔

نوٹ: 3 سے 4 کلو گرام Rhode grass Hay کھلانے کے لیے اسکا اچھی کوالٹی کا ہونے کے ساتھ کترائی اچھی ہونی چاہئیے۔ ایک سے ڈیڑھ انچ کا Straw size اور تھوڑی سی مقدار شیرہ کی لے کر اچھی طرح مکس کرنا ضروری ہوگا۔


29/07/2021

Bovine Ephemeral fever(BEF):-
یہ وائرس بارشوں کے موسم میں ایکٹیو ہوتا ہے اور مکھیوں، مچھروں کی وجہ سے آگے دوسرے جانوروں میں پھیلتا ہے ۔۔
علامات:
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں جتنی بھی وائرل بیماریاں ہیں آن میں بخار لازمی ہوتا ہے ۔ سست ہوجاتا ہے
جانور کھانا چھوڑ دیتا ہے ۔
اب اصل وجہ پہ اتے ہیں کہ ایسا ہوتا کیو ہے ۔
وائرس جب جانور کے جسم میں پھیلتا ہے یعنی اپنی تعداد بڑھتا ہے تو ساتھ ایک خاص قسم کا زہریلا مادہ (toxin)خارج کرتا ہے اِسی ٹوکسن کی وجہ سے جانور میں بیماری پھیلتی ہے۔
1جانور کو بخار ہوتا ہے۔
2 رومن میں یہ ٹاکسن ہاضمے کو ڈسٹرب کرتا ہے
جانور چارہ نہیں کھاتا۔
مہ سے رال پانی ٹپکنا
3 باقی ہر وائرس جسم کہ مختلف حصوں پر ایفیکٹ کرتا ہے۔
علاج:
🦠 وائرس کا کوئی علاج نہیں ہم وائرس کو ڈائریکٹ ختم نہیں کر سکتے۔
ہاں البتہ اس کے اثرات کو کم یا ختم کر سکتے ہیں ۔
تقریباً سبھی وائرس کا علاج ایک جیسا ہی ہے
جیسے کہ ٹاکسن کو ختم کرنا ،بخار کا علاج ، رومن کو بوسٹ کرنا ۔
جس سے جانور 12 سے 24 گھنٹے کے اندر اندر نارمل روٹین پہ آجاتا ہے !

29/07/2021

Bovine Ephemeral fever(BEF):

یہ وائرس بارشوں کے موسم میں ایکٹیو ہوتا ہے اور مکھیوں، مچھروں کی وجہ سے آگے دوسرے جانوروں میں پھیلتا ہے ۔۔
علامات:
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں جتنی بھی وائرل بیماریاں ہیں آن میں بخار لازمی ہوتا ہے ۔ سست ہوجاتا ہے
جانور کھانا چھوڑ دیتا ہے ۔
اب اصل وجہ پہ اتے ہیں کہ ایسا ہوتا کیو ہے ۔
وائرس جب جانور کے جسم میں پھیلتا ہے یعنی اپنی تعداد بڑھتا ہے تو ساتھ ایک خاص قسم کا زہریلا مادہ (toxin)خارج کرتا ہے اِسی ٹوکسن کی وجہ سے جانور میں بیماری پھیلتی ہے۔
1جانور کو بخار ہوتا ہے۔
2 رومن میں یہ ٹاکسن ہاضمے کو ڈسٹرب کرتا ہے
جانور چارہ نہیں کھاتا۔
مہ سے رال پانی ٹپکنا
3 باقی ہر وائرس جسم کہ مختلف حصوں پر ایفیکٹ کرتا ہے۔
علاج:
🦠 وائرس کا کوئی علاج نہیں ہم وائرس کو ڈائریکٹ ختم نہیں کر سکتے۔
ہاں البتہ اس کے اثرات کو کم یا ختم کر سکتے ہیں ۔
تقریباً سبھی وائرس کا علاج ایک جیسا ہی ہے
جیسے کہ ٹاکسن کو ختم کرنا ،بخار کا علاج ، رومن کو بوسٹ کرنا ۔
جس سے جانور 12 سے 24 گھنٹے کے اندر اندر نارمل روٹین پہ آجاتا ہے !

09/07/2021

گرمی کے تناؤ(Heat stress) کا عملی انتظام:-

گرمی کے دباؤ کو کم کرنے کے سب سے زیادہ عملی طریقوں کو سایہ ، وینٹیلیشن ، اور کولنگ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔مداحوں(fans installation) اور چھڑکنے والے نظام کی تنصیب کو اکثر گرمی کے دباؤ کے مسئلے کے حل کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے۔گائے کے اوپر بڑھتے ہوا بہاؤ(air flow) کا جلد سے بخارات سے گرمی کے نقصان پر ڈرامائی اثر پڑتا ہے۔
~کچھ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ 60 سیکنڈ کی مدت میں گائے کو 1.5 لیٹر پانی کے ساتھ فیڈ اسٹینشن میں گیلا کرنا چاہئے ، اس کے بعد 10 کلومیٹر / گھنٹہ ہوا کے بہاؤ کے ساتھ 4 منٹ خشک ہونا چاہئے۔
~موسم گرما میں رکھے ہوئے ریوڑوں کے لئے چھتوں کا موصلیت شمسی دخ*ل(solar pe*******on) کو ڈرامائی طور پر کم کرسکتی ہے ، لیکن یہ ممکنہ طور پر ایک موجودہ عمارت کے ساتھ ایک مہنگا حل ہوگا ، لیکن نیا مویشیوں کے شیڈ کی تعمیر کے وقت اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔
~اونچی نمی کی وجہ سے سردیوں کے مہینوں میں گائیں گرمی کے دباؤ سے آزاد نہیں ہوتی ہیں ، جو ہوا میں ناقص ہواد کی وجہ سے رہائش پذیر ہوسکتی ہیں۔ مزید برآں اچھی طرح سے ذخیرہ کرنے والی عمارت میں درجہ حرارت باہر سے 10 ° C زیادہ گرم ہوسکتا ہے.


Address

217 GB Samundri

Telephone

+923084348303

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dairy Vetz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dairy Vetz:

  • Want your business to be the top-listed Food & Beverage Service?

Share