02/08/2025
پاکستان-امریکہ تجارتی معاہدہ اور بھارت کا ردعمل
حالیہ خبروں کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو اس کے "بڑے" تیل کے ذخائر کو تیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور پہلی اگست تک معاہدہ مکمل کرنے کی خود ساختہ ڈیڈلائن گزر چکی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، بھارت نے تجارتی معاہدے کی ان کی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، خاص طور پر اس نے اپنی زراعت اور ڈیری مصنوعات کی منڈیوں کو کھولنے اور روس سے تیل اور ہتھیار خریدنے کا سلسلہ جاری رکھنے سے گریز کیا ہے۔ اس کے جواب میں، صدر ٹرمپ نے نہ صرف بھارت پر 25% نیا ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے بلکہ ایک "غیر متعینہ جرمانے" کی بھی دھمکی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید ایک دن پاکستان بھارت کو تیل فروخت کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تبصرہ دراصل بھارت کو چھیڑنے اور اس پر تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اس اقدام کو پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو "ہتھیار" کے طور پر استعمال کرنا قرار دیا جا رہا ہے تاکہ بھارت پر اپنی شرائط منوائی جا سکیں۔
دوسری جانب، بھارت نے کہا ہے کہ وہ نئے ٹیرف کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے، لیکن وہ امریکہ کے ساتھ ایک "منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدے" کے معاہدے کے لیے پرعزم ہے۔ بھارت نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی تجارتی مذاکرات میں اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔
J-35 طیارہ
Shenyang J-35 ایک چینی پانچویں نسل کا اسٹیلتھ ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جسے Shenyang Aircraft Corporation نے تیار کیا ہے۔ یہ طیارہ پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) اور پیپلز لبریشن آرمی نیول ایئر فورس (PLANAF) دونوں کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ بحری ورژن خاص طور پر چین کے طیارہ بردار جہازوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔