The Mountain Taste

The Mountain Taste "Safe Food now for a Healthy tomorrow"
Balti Traditional Food cooking Point

10/06/2025
09/06/2025

سینو ایک پُرامن، مذہب دوست اور باشعور بستی ہے، جہاں ہمیشہ اجتماعی فیصلوں کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے چند مخصوص افراد نے خود کو “سرکردہ” کہلوا کر نہ صرف گاؤں کے تعلیمی معاملات بلکہ مذہبی اور سماجی امور پر بھی غیرجمہوری اور غیرشرعی مداخلت شروع کر دی ہے۔

تعلیم میں مخلوط نظام کے خاتمے کی عوامی کوششوں کے خلاف سازش کر کے ایک مخصوص سوچ رکھنے والے افراد نے عوامی مطالبے کے برخلاف قراردادیں پیش کیں، اور اسے اپنی “قابلِ فخر خدمت” کے طور پر پیش کیا۔ یہی نہیں، شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں نعت، قصیدہ، منقبت اور درود شریف جیسے پاکیزہ اور روحانی کلام پر پابندی عائد کرنے کی کوشش، سنو کے دینی وقار، صوفی روایت، اور عوامی آزادیوں پر ایک حملہ ہے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے تمام غیرجمہوری اقدامات، جو بند کمروں میں چند افراد کے درمیان طے ہوں اور جن کا عوامی مشاورت سے کوئی تعلق نہ ہو، انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ سنو کے عوام باشعور ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اپنی دینی، تعلیمی اور ثقافتی آزادیوں کا تحفظ کریں۔ اگر سرکردگی کا دعویٰ ہے، تو پہلے عوام کا اعتماد حاصل کریں، بصورت دیگر ایسی سرکردگی عوامی نمائندگی نہیں بلکہ ذاتی مفاد ہے۔




09/06/2025

گزشتہ دنوں سینو میں چند مخصوص افراد نے ایک بند کمرے میں میٹنگ منعقد کر کے ایک ایسی قرارداد پیش کی جو نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ اجتماعی شعور اور روایتی ہم آہنگی کے سراسر منافی ہے۔ اس قرارداد میں نعت رسول ﷺ، منقبت، درود شریف، اور قصیدہ بردہ شریف جیسے روحانی کلام کو شادی بیاہ اور سماجی تقریبات میں پڑھنے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی، جو کہ قابلِ مذمت اور غیر شرعی اقدام ہے۔ نعت اور درود نہ صرف ہمارے ایمان کا حصہ ہیں بلکہ روحانی تسکین، عقیدت اور معاشرتی اتحاد کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ کلام وہ آواز ہے جو نسلوں کو نبی پاک ﷺ کی محبت سے جوڑتی ہے۔ اقبال نے فرمایا تھا: “کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔” کیا کوئی باشعور مسلمان ایسی آواز پر پابندی برداشت کر سکتا ہے؟
اس افسوسناک فیصلے کی جڑ میں ایک ایسا فرد ہے جو ماضی میں بھی اپنی ذاتی انا اور گروہی مفاد کے لیے تعلیم، سماجی نظم، اور گاؤں کے مختلف معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرتا رہا ہے۔ اسی فرد نے ماضی میں ایک قابل، دین دار اور محنتی استاد کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپوزلز کے ذریعے تبادلے کی کوشش کی، اور جب ادارے نے انکار کیا تو مختلف راستوں سے دباؤ ڈال کر اپنی مرضی منوانے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد واضح ہے: گاؤں کے اجتماعی نظم کو ذاتی کنٹرول میں لانا۔ ایسا عمل تعلیم دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ جہاں اساتذہ کی عزت پامال ہو، وہاں نسلیں برباد ہوتی ہیں۔ تعلیم کا شعبہ عوامی امانت ہے، جس میں ذاتی خواہشات کی نہیں بلکہ اجتماعی بہتری کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہییں۔
ان حالات میں سینو کے باشعور عوام، خصوصاً نوجوانوں اور والدین کو اب بیدار ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فیصلے تبھی معتبر ہوتے ہیں جب وہ عوامی مشاورت، دینی بصیرت اور عقلی بنیادوں پر کیے جائیں۔ گاؤں کی اکثریت اگر کسی قرارداد یا فیصلے سے نالاں ہے تو اس کا نفاذ نہ صرف غیر جمہوری بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ہمیں وہی آواز بلند کرنی ہے جو حق کی ہو، عدل کی ہو، اور نبی کریم ﷺ کی محبت سے سرشار ہو۔ “جہاں آوازِ نعت دبائی جائے، وہاں زوال کی ابتدا ہو جاتی ہے۔” سنو کو ایسے افراد کی اجارہ داری سے آزاد کرنا وقت کا تقاضا ہے، تاکہ ہماری دینی، تعلیمی اور ثقافتی شناخت سلامت رہے، اور آئندہ نسلیں ایک منصفانہ اور باشعور معاشرے میں سانس لے سکیں

19/01/2025

تمام اہل تصوف سے شرکت کی درخواست ہے۔

www.nyfpak.org

19/01/2025

Matt Henry shone with a stellar four-wicket haul, but New Zealand’s efforts fell short in the final ODI against Sri Lanka

19/01/2025

ابوبکر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ زمین فروخت کرکے دو بچوں کے باپ ابوبکر کو بہتر مستقبل کےلیے اسپین بھیجنے کی حامی بھری۔
تفصیل پہلے کمنٹ میں دیکھیں۔۔۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا اپنے سیاسی مقاصد کے لیے قرآنی آیات کا غلط استعمال ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت عمل ہے۔ ...
16/01/2025

عوامی ایکشن کمیٹی کا اپنے سیاسی مقاصد کے لیے قرآنی آیات کا غلط استعمال ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت عمل ہے۔ قرآن مجید کسی بھی صورت میں نفرت، شرانگیزی یا جھوٹے الزامات کا سہارا لینے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ یہ انصاف، صلح اور حق پر مبنی رویے کا حکم دیتا ہے۔ سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو، اور انصاف سے کام لو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے” (سورہ الحجرات: 9)۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جھگڑوں میں صلح کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ مزید تنازع پیدا کرنا یا مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لینا۔ کسی کو یہودی یا دشمن قرار دینا، بغیر کسی ثبوت یا دلیل کے، قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ النور میں فرمایا ہے: “اور جب تمہیں کوئی خبر ملے تو اس کی تحقیق کیا کرو” (24:6)۔ تحقیق اور دلیل کے بغیر الزامات لگانا نہ صرف دینی طور پر غلط ہے بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی علامت ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآنی آیات کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ان کے اپنے کردار کو مجروح کرتا ہے۔ قرآن کا مقصد انسانیت کو جوڑنا اور عدل قائم کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کو فرقہ واریت اور نفرت کی آگ میں دھکیلنا۔ یہ رویہ ان کی علمی و اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور انہیں جذباتی کھیل کھیلنے والے “پڑھے لکھے جاہل” لوگوں میں شامل کرتا ہے۔

انہیں سمجھنا ہوگا کہ قرآن حق و سچائی کا آئینہ ہے، اور اس کے احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے صبر، تحمل، اور دانشمندی کی ضرورت ہے۔ دلیل سے بات کرنے اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کے بجائے جذبات اور نفرت کو ہوا دینا صرف ان کی تنظیم کے زوال کا سبب بنے گا۔ عوام ان کے جذباتی بیانیے کو اب قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، اور یہ وقت ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور سچائی اور عدل کی روشنی میں اپنے بیانات کو ترتیب دیں۔

Address

Skardu
16100

Telephone

+923455999531

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Mountain Taste posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share