10/04/2026
یہ وہ کسان ہے جو اپنے کاروبار میں کلی طور پر آزاد تھا، خود انحصاری تھی، سارے ایگری آپریشن میں ڈیزل کی ایک بوند تک درکار نہ تھی۔ کھیت میں ہل چلانا ہو، زیر زمین پانی نکالنا ہو، جانوروں کے پٹھے کترنے ہوں، بار برداری کرنی ہو۔۔۔۔۔سب کچھ گاؤں کے مقامی وسائل پر لوہار ترکھان اپنی انجینئرنگ کے بل بوتے پر گاؤں میں بیٹھ کر خود تیار کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس چارپائی پر وہ بیٹھا کرتے تھے اُسے بننے والا سوتر تک چائنہ کی بجائے گاؤں میں تیار ہوتا تھا۔
زیادہ پیداواروں کے جھانسوں نے آج کسان کو پائی پائی کا محتاج کر دیا ہے۔ آج زمین تو موجود ہے مگر ہل چلانے کو ڈیزل جوگے پیسے کوئی نہیں، ہايبریڈ بیج، کھاد، سپرے، جانوروں کی خوراک۔۔۔۔۔سبھی کُچھ تو درآمد ہونے لگا ہے۔ یہاں تک کہ کسان کے جانور کے گلے میں ڈلی رسی تک چائنہ سے آنی ہے۔ جبتک کسان خود کو مختلف مافیاز کے چنگل سے آزاد نہیں کرواتا اور اپنی خود انحصاری واپس نہیں جیتتا، ہم زراعت کی بدحالی اور فوڈ کرائسس سے قریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔ سسٹین ایبل یعنی مستحکم ایگری کلچر کے مختلف طریقوں کی طرف آنے میں ہی کسان کی اور اس ملک کے لوگوں کی بقاء ہے۔