ڈیرے مہراں دے

ڈیرے مہراں دے یہ پیج بنانے کا مقصد چک 425 ج-ب کی مہر برادری کو متحد کرنا ہےـ

10/04/2026

یہ وہ کسان ہے جو اپنے کاروبار میں کلی طور پر آزاد تھا، خود انحصاری تھی، سارے ایگری آپریشن میں ڈیزل کی ایک بوند تک درکار نہ تھی۔ کھیت میں ہل چلانا ہو، زیر زمین پانی نکالنا ہو، جانوروں کے پٹھے کترنے ہوں، بار برداری کرنی ہو۔۔۔۔۔سب کچھ گاؤں کے مقامی وسائل پر لوہار ترکھان اپنی انجینئرنگ کے بل بوتے پر گاؤں میں بیٹھ کر خود تیار کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس چارپائی پر وہ بیٹھا کرتے تھے اُسے بننے والا سوتر تک چائنہ کی بجائے گاؤں میں تیار ہوتا تھا۔

زیادہ پیداواروں کے جھانسوں نے آج کسان کو پائی پائی کا محتاج کر دیا ہے۔ آج زمین تو موجود ہے مگر ہل چلانے کو ڈیزل جوگے پیسے کوئی نہیں، ہايبریڈ بیج، کھاد، سپرے، جانوروں کی خوراک۔۔۔۔۔سبھی کُچھ تو درآمد ہونے لگا ہے۔ یہاں تک کہ کسان کے جانور کے گلے میں ڈلی رسی تک چائنہ سے آنی ہے۔ جبتک کسان خود کو مختلف مافیاز کے چنگل سے آزاد نہیں کرواتا اور اپنی خود انحصاری واپس نہیں جیتتا، ہم زراعت کی بدحالی اور فوڈ کرائسس سے قریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔ سسٹین ایبل یعنی مستحکم ایگری کلچر کے مختلف طریقوں کی طرف آنے میں ہی کسان کی اور اس ملک کے لوگوں کی بقاء ہے۔

*شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟**محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......*اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہ...
21/08/2025

*شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟*
*محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......*

اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ، جو آج بھی اتنی موثر ہے کہ کوٸی بھی اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کرنے کی کوشش کرے مگر کاغذات مال کا ریکارڈ کسی مصلحت سے کام نہیں لیتا۔ تحصیل یا ضلعی محافظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے ،یہ ریکارڈ پردادا کے بھی پردادا کی قوم ، کسب اور سماجی حیثیت نکال کر سامنے رکھ دے گا۔ بہرحال یہ موضوع سخن نہیں ۔ جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے، ان کے وارثوں کے نام شجرے کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثتی مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے ۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں ۔
شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت جسے جمع بندی کہتے ہیں اور اب اس کا نام رجسٹر حقداران زمین تبدیل ہوا ہے، وجود میں آیا ۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام ،نمبر کھیوٹ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوا۔ ہر چار سال بعد اس دوران منظور ہونے والے انتقالات بیعہ ، رہن ، ہبہ، تبادلہ ، وراثت وغیرہ کا عمل کر کے اور گزشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت، کاشت کار کی تبدیلی ، رجسٹر گرداوری کی تبدیلی یا زمین کی قسم کی تبدیلی وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹر حقداران تیار ہوتا ہے اور اس کی ایک نقل ضلعی محافظ خانہ میں داخل ہوتی ہے ۔ اس دستاویز کے نئے اندراج کے لئے انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ کار موجود ہے ۔ اس کی تیاری میں جہاں حلقہ پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے ،وہاں گرداور اور حلقہ آفیسر ریونیو سو فیصد پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کی صحت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ ضابطے کے مطابق افسران مذکور کا متعلقہ گائوں میں جا کر مالکان کی موجودگی میں اس کے اندراج کا پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست جاری کرنا ضروری ہے، جن کی درستی کا پٹواری ذمہ دار ہوتا ہے۔ آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ اب یہ غلطیوں سے مبرا ہے۔
رجسٹر حقداران زمین کے ساتھ رجسٹر گرداوری بھی تیار ہوتا ہے، جس میں چار سال کے لئے آٹھ فصلات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ مارچ میں فصل ربیع اور اکتوبر میں فصل خریف مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ موقع پر جا کر پٹواری مالکان و کاشتکاران کی موجودگی میں فصل کاشتہ و نام مالک ،حصہ بقدر اراضی اور نام کاشتکار کا اندراج کرتا ہے۔ ہر فصل کے اختتام پر ایک گوشوارہ فصلات برآمدہ تیار کر کے اس کتاب کے آخر میں درج کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے کتنی برآمد ہوئی۔ اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوائی جاتی ہے ، جس سے صوبہ اور ملک کی آئندہ برآمدہ اجناس کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس رجسٹر میں نہری اور بارانی علاقوں کی موقع کی مناسبت سے اقسام زمین نہری، ہیل، میرا، رکڑ ، بارانی اول ، بنجر ، کھندر وغیرہ کے علاوہ روہڑ ، بن ، سڑکیں، رستہ جات ، قبرستان ، عمارات اور مساجد وغیرہ بھی تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ رجسٹر ریونیو کی اہم دستاویز ہے اور مطابق قانون اس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر کر کے نتائج تحریر کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ رجسٹر انتقالات میں جائیداد منتقلہ کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس میں نام مالک ، جس کے نام جائیداد منتقل ہوئی، گواہان ، نمبر کھیوٹ ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ حصہ منتقلہ ، زر ثمن ، پٹواری مفصل تحریر کرتا ہے ،گرداور جملہ کوائف تصدیق کرتا ہے اور ریونیو آفیسر (تحصیلدار) بوقت دورہ پتی داران، نمبرداران کی موجودگی میں تصدیق کر کے فیصلہ کرتا ہے ۔ پرت پٹوار پر حکم لکھتا ہے اور پرت سرکار برائے داخلہ تحصیل دفتر ہمراہ لے جاتا ہے ۔ کاغذات مال متذکرہ کے علاوہ بھی کئی دستاویزات ہوتی ہیں، جن سے جملہ ریکارڈ آپس میں مطابقت کرتاہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔ جو کاغذات ہر وقت استعمال میں رہتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ،ورنہ پٹواری کے پاس ایک’’لال کتاب‘‘بھی ہوتی ہے،جس میں گائوں کے جملہ کوائف درج ہوتےہیں جیسے اس گائوں کاکل رقبہ،مزروعہ کاشتہ،غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ،مردم شماری کا اندراج ، مال شماری جس میں مویشی ہر قسم اور تعدادی نر، مادہ ، مرغیاں ، گدھے ، گھوڑے ، بیل،گائے،بچھڑے غرض کیا کچھ نہیں ہوتا۔ جس طرح یہ محکمہ بنا اور اس کے قواعدوضوابط بنائے گئے اور متعلقہ اہلکاران و افسران کی ذمہ داریاں مقرر ہوئی تھیں، اگر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو اس سے بہتر نظام زمین کوئی نہیں۔ یہ نظام انگریز کے دور میں بہترین اور 1964-65ء تک نسبتاً بہتر چلتا رہا...

زمین ریکارڑ سے بہترین شجرہ نسب کا کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا۔

1.
2.

16/06/2025

اگر آپ زراعت سے امیر ہونا چاہتے ہیں تو زرعی کتابوں کی بجائے کاروباری کتابیں پڑھیں۔

آئیے میں آپ کا وقت اور پیسہ بچاتا ہوں۔ اگر آپ کا مقصد زراعت سے دولت مند ہونا ہے تو ایک راز سنیں: بہتر کسان بننے پر توجہ نہ دیں، بلکہ بہتر کاروباری بننے پر توجہ دیں۔

زیادہ تر لوگ کاشتکاری کی تکنیکی باتوں میں اُلجھے رہتے ہیں — مٹی کا پی ایچ، چارے کے تناسب، فصلوں کا فاصلہ — جبکہ پیسے والے پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر چھوٹے کسان غریب ہی رہتے ہیں یا بمشکل گزارہ کر پاتے ہیں۔

کسان نہیں، ایگری پرینیور بنیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا کام فارم کی ہر تکنیکی بات جاننا نہیں ہے — بلکہ آپ کا کام یہ ہے کہ ایک ایسا کاروبار بنائیں جو زراعت کو آمدنی پیدا کرنے، روزگار دینے اور وسعت دینے کے لیے استعمال کرے۔

جی ہاں! آپ کو ایسے لوگ ضرور رکھنے چاہییں جو زرعی کتابیں پڑھیں۔ ان لوگوں کو ملازم رکھیں جو کھاد، چارے اور جانوروں کے چکر میں مہارت رکھتے ہوں۔ یہ ان کا کام ہے۔ آپ کا کام ہے کاروبار چلانا، بڑے فیصلے کرنا اور چیک پر دستخط کرنا۔

آئیے حقیقت پسند بنیں:

یونیورسٹیاں اور زرعی کالج ہر سال ہزاروں گریجویٹس نکال رہے ہیں۔ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ یہ سب اپنے فارم یا کاروبار شروع کریں گے؟
نہیں! وہ نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ آپ کا موقع ہے۔ ان سے مقابلہ نہ کریں — انہیں ملازم رکھیں۔

مجھے بکری کے اندر کے حیاتیاتی عمل جاننے کی ضرورت نہیں کہ میں منافع بخش بکری فارم چلا سکوں۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ منافع کیسے نکالا جاتا ہے، عملہ کیسے سنبھالا جاتا ہے، کام کیسے بڑھایا جاتا ہے اور بڑی مقدار میں خریدار کیسے ملتے ہیں۔ یہی کھیل ہے۔

کاشتکاری کو اسکول کے پروجیکٹ کی طرح نہ کریں۔ اسے بزنس کی طرح چلائیں۔ پروجیکٹس وسیع نہیں ہوتے۔ بزنس وسیع ہوتے ہیں۔

ایک بار کسی نے کہا، "میں زرعی کالج جانا چاہتی ہوں تاکہ ایک دن منافع بخش فارم چلا سکوں۔"
میں ہنس پڑا — اس لیے نہیں کہ وہ کامیاب نہیں ہو سکتی، بلکہ اس لیے کہ وہ غلط دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

کسی انڈسٹری کو بدلنے کے لیے اندرونی آدمی ہونا ضروری نہیں۔ مختلف سوچنا ضروری ہے۔ میں اصولوں کی پیروی نہیں کرتا۔ میں پیسے کی پیروی کرتا ہوں۔ میں وہی کرتا ہوں جو کام کرتا ہے۔

آپ کو مزید زرعی علم کی ضرورت نہیں۔ آپ کو کاروباری علم کی ضرورت ہے۔

سیلز، آپریشنز، مارکیٹنگ، کیش فلو اور لیڈرشپ پر کتابیں پڑھیں۔

مذاکرات کرنا، نظام بنانا اور وسعت دینا سیکھیں۔

برانڈنگ اور کسٹمر سائیکالوجی کو سمجھیں۔

لازمی سامان کی ترسیل اور سپلائر نیٹ ورک کو قابو کریں۔

ٹیکنالوجی استعمال کریں تاکہ آپ کا کاروبار خودکار، ٹریک اور ترقی کرے۔

اسی طرح آپ مرغیوں کو کیش فلو میں بدلتے ہیں۔ اسی طرح آپ بند گوبھی کو سرمایہ میں بدلتے ہیں۔ اسی طرح آپ زمین کے لیے کام کرنا چھوڑتے ہیں اور زمین کو اپنے لیے کام پر لگا دیتے ہیں۔

کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں

تا کہ

شعور پھیلے آگہی پھیلے۔

2 ایکڑ کے چھوٹے رقبے پر زمین کی منصوبہ بندیصرف 2 ایکڑ زمین پر کامیاب مخلوط کھیتی کرنے کے لیے محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے ...
24/03/2025

2 ایکڑ کے چھوٹے رقبے پر زمین کی منصوبہ بندی

صرف 2 ایکڑ زمین پر کامیاب مخلوط کھیتی کرنے کے لیے محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ ہر شعبے کو مناسب جگہ ملے، رہائش آرام دہ ہو، اور جانوروں کے لیے خوراک کی مناسب پیداوار ممکن ہو۔ نیچے ایک عملی منصوبہ دیا گیا ہے جس میں ایک ایسے کسان کے لیے زمین کے استعمال کا خاکہ شامل ہے جس کے پاس 4 گائیں، 3 بچھڑے، اور 6 بکریاں ہیں اور جو اپنی خاندانی رہائش، ایک بورہول، اور انسانی خوراک و جانوروں کے چارے کی کاشت کے لیے جگہ رکھنا چاہتا ہے۔

1. مویشیوں کی ضروریات کا اندازہ

رہائش اور باڑہ بندی

گائیں اور بچھڑے (4 گائیں، 3 بچھڑے) کے لیے مضبوط، ہوادار شیڈز ضروری ہیں، خاص طور پر اگر زیرو گریزنگ یا نیم زیرو گریزنگ کا نظام اپنایا جائے۔

بکریاں (6 بکریاں) کے لیے چھوٹے مگر خشک اور نمی سے محفوظ باڑے کی ضرورت ہے۔

چارہ کی ضروریات

مویشی روزانہ بڑی مقدار میں خوراک کھاتے ہیں۔ محدود چراگاہ کی صورت میں زیادہ پیداوار دینے والا چارہ (جیسے چارہ مکئی، یا علاقائی موسمی چارہ جات) اگانا بہت ضروری ہے۔

پروٹین کی مقدار بڑھانے کے لیے لیگومز (جیسے لوسرن یا ڈس موڈیم) کاشت کریں۔

فضلہ مینجمنٹ

کھاد گڑھا یا کمپوسٹ ایریا رکھنا مفید ہے تاکہ مویشیوں کا فضلہ فصلوں کی زمین میں قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

2. خاندانی خوراک کی کاشت

چونکہ زمین محدود ہے، اس لیے زیادہ قیمت اور زیادہ پیداوار والی فصلیں اگانے پر توجہ دیں جو گھر کی خوراک میں مددگار ہوں (جیسے مکئی، دالیں، اور سبزیاں جیسے پالک، بند گوبھی، یا ٹماٹر)۔

جگہ بچانے کے لیے انٹراکروپنگ کریں، مثلاً مکئی اور دالوں کو ایک ساتھ لگائیں۔

3. رہائش اور بنیادی سہولیات

گھر کے لیے مناسب جگہ جہاں مستقبل میں توسیع ممکن ہو، ساتھ میں ایک چھوٹا کچن گارڈن اور پانی ذخیرہ کرنے کی جگہ ہو۔

بورہول گھر کے قریب یا ایسی جگہ کھودا جائے جہاں سے پانی جانوروں اور کھیتوں تک آسانی سے پہنچ سکے۔

4. فارم کا خاکہ اور زوننگ

کارکردگی: مویشیوں کی رہائش ایسی جگہ ہو جہاں سے چارہ آسانی سے ان تک پہنچایا جا سکے۔

حفاظت: جانوروں کی جگہ کو گھر سے تھوڑا الگ رکھیں تاکہ بو اور کیڑوں سے بچا جا سکے۔

پانی تک رسائی: بورہول مرکزی جگہ پر ہو تاکہ پانی کی ترسیل آسان ہو۔

5. 2 ایکڑ کی تقسیم کا نمونہ

6. عملی مشورے

✅ فصلوں کا تناوب: مٹی کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے دالوں اور اناج (جیسے مکئی) کو باری باری اگائیں۔
✅ کھاد کا استعمال: جانوروں کے فضلے سے بنی کھاد فصلوں میں ڈالیں تاکہ کیمیائی کھادوں کی ضرورت کم ہو۔
✅ پانی کا انتظام: بارش کا پانی ٹینکوں میں جمع کریں تاکہ بورہول کے پانی کی بچت ہو۔
✅ بیماریوں کا کنٹرول: مویشیوں اور فصلوں میں متوازن طریقے سے کیڑے مار ادویات اور دیگر حفاظتی اقدامات کریں۔
✅ ریکارڈ رکھیں: خرچ، پیداوار، اور چارے کے استعمال کا حساب رکھیں تاکہ کارکردگی بہتر کی جا سکے۔

نتیجہ

اگر زمین سمجھداری سے تقسیم کی جائے تو 2 ایکڑ پر جانوروں، خوراک اور رہائش کے لیے ایک متوازن فارم بنایا جا سکتا ہے۔ اسمارٹ پلاننگ کے ذریعے خودکفالت اور منافع دونوں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ تصویر یمن کے علاقے حضرموت کی ہے، جہاں دو خواتین بکریوں کے ریوڑ چراتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ یہ خواتین سیاہ عبایا اور نقا...
12/03/2025

یہ تصویر یمن کے علاقے حضرموت کی ہے، جہاں دو خواتین بکریوں کے ریوڑ چراتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ یہ خواتین سیاہ عبایا اور نقاب پہنے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے سروں پر مخصوص انداز کی چوڑے کناروں والی ٹوپی ہے جو دھوپ سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

یہ لباس اور طرز زندگی حضرموت کے دیہی علاقوں میں عام ہے، جہاں بکریوں اور دیگر مویشیوں کی پرورش ایک بنیادی معاشی سرگرمی ہے۔ حضرموت کا موسم سخت اور صحرائی ہے، جہاں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے یہاں کے چرواہے خود کو سورج کی تپش سے بچانے کے لیے مخصوص لباس اور سر ڈھانپنے کے روایتی طریقے اپناتے ہیں۔

خواتین کا بکریاں چرانا اس بات کی علامت ہے کہ یمن کے دیہی علاقوں میں خواتین بھی زراعت اور مویشی پالنے جیسے کاموں میں سرگرم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تصویر ان کی محنت، عزم اور ثقافتی ورثے کو نمایاں کرتی ہے جو آج بھی یمن کے دیہی علاقوں میں زندہ ہے۔

پیاری لائف انجوائے کروں یا بکریوں کو چارہ ڈالوں؟پیارے بھائی ! ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں صرف ایک پہلو نہ دیکھا کریں ، عا...
09/03/2025

پیاری لائف انجوائے کروں یا بکریوں کو چارہ ڈالوں؟
پیارے بھائی ! ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں صرف ایک پہلو نہ دیکھا کریں ،

عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمت نیچے چلی جاتی ہے مگر گوشت کی قیمتیں آج تک نیچے نہیں آئیں ،
اور نہ ہی دُودھ کی ضرورت میں آج تک کبھی کمی آئ بلکہ اب تو اکثر گاؤں میں بھی تازہ دُودھ بمشکل ملتا ہے،

بہت سے لوگ راحت وآرام کے چکر میں جانوروں کے کام چھوڑ چکے ہیں ، جبکہ نومولود بچوں کی بہترین بڑھوتری کیلئے دو سال دُودھ ضروری ہوتا ہے جو کہ ہر بندہ چاہتا ہے اپنی اولاد کی پرورش خالص دودھ سے کرے،

آج بچوں کو خالص دُودھ نہ پلانے کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت کمزور ہے سردی برداشت کرتے ہیں نہ گرمی ، موسم کی ہلکی سی تبدیلی سے فوراً بیمار ہو جاتے ہیں ، خالص دودھ نہ پینے کی وجہ سے بڑوں کا بھی یہی حال ہے جس وجہ سے آج ہسپتال بھرے پڑے ہیں ، تو جان لیجئے جان ہے تو جہان ہے۔

مسلمانوں کی عظیم ترین عبادت قربانی قیامت تک رہے گی جس پر ہر سال قربانی کے جانوروں کی ڈیمانڈز بڑھ جاتی ہیں عام دنوں کی نسبت جانور مہنگے فروخت ہوتے ہیں ،

شوق والے نسلی خوبصورت ترین جانوروں کی قیمتیں اس طرح آسمانوں پر ہیں جیسے چاند 🌙 ستارے ⭐ ✨ اس کے باوجود شوقین منہ مانگی قیمت ادا کرتے ہیں ،

جانوروں میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار فوائد رکھے ہیں ،
جدید دور کے سبب یہ کام اب پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہو گیا ہے،
فائدہ مند مشکل کام کو سرے سے ختم کرنے کی بجائے اسے جدید ٹیکنالوجی کے دور کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ، کیا اس کا کوئ آسان حل آیا ہے یا نہیں ؟

تو جانیئے ! روزانہ سبز چارے کاٹنے کی ضرورت نہیں رہی اب ،
ایک ہی دن مشین سے سارے چارے کی کٹائی کروا کے دھوپ میں خشک کرکے اسٹور میں اسٹاک کر دیا جائے جو صرف صبح وشام جانوروں کے آگے ڈال دیا جائے ،

صبح دوپہر شام ان کو سنگل زنجیر رسی سے پکڑ کر ان کو دھوپ یا چھاؤں والی خشک جگہ پر باندھنے اور پانی کی جگہ پر لے جانے کی ضرورت نہیں رہی،

اب جانور فارم کی باڑ یا چار دیواری میں کھلے چھوڑے جائیں ، جانور خود ہی دھوپ چھاؤں خشک جگہ کی تبدیل کر لیتے ہیں ، پانی کی جگہ پر جا کر پانی پی لیتے ہیں ،

پہلے دودھ ہاتھوں سے نکالنا پڑتا تھا اب وہ ایک چھوٹی سے مشین کے ذریعے تھوڑے وقت میں زیادہ جانوروں سے دُودھ نکال سکتے ہیں ،

پہلے صبح وشام جانوروں کے نیچے سے صفائ کرنی پڑتی تھی گندگی نہ اُٹھانے سے کئ بیماریاں پھیلتی تھیں ،
اب پلاسٹک فلور لگائیں اور 24 گھنٹے آٹو میٹک جگہ صاف شفاف پائیں ، فضلہ جات خود بخود نیچے چلے جاتے ہیں اور جانور صاف شفاف اور خشک رہتے ہیں بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں ،
جب جگہ صاف شفاف ہو جانور صاف شفاف ہوں تو بدبو والا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے،

جانوروں کا فضلہ جات آپ کے پاس بہترین دیسی کھاد کے طور پر استعمال ہو جاتا ہے جس سے فصلیں بہت خوب بڑھتی پھولتی پھلتی ہیں۔

فینسی پرندوں کے شوقین جانتے ہیں کہ اس وقت جانوروں کے فضلہ جات سے ایک صنعت کا کام لیا جا رہا ہے اس میں کیڑے مکوڑے سونڈیاں پالی جاتی ہیں جو کہ پرندوں کی بہترین بڑھوتری کیلئے بہترین خوراک ہیں جو کہ پرندے پالنے والے شوقین مہنگے داموں خرید کر اپنے پرندوں کو کھلاتے ہیں۔

لائف انجوائے کروں یا بکریوں کو چارا ڈالوں؟
ہم پوچھنا چاہتے ہیں ، کیا بغیر پیسے کے لائف انجوائے ممکن ہے؟
بکریوں کو چارا ڈالنا کیا کوئ موت کا پھندہ ہے؟ کوئ آج تک سنا کہ بکری کو چارا ڈالنے سے مر گیا ہے؟

آخر کچھ نہ کچھ کام تو ضرور کرنا ہے ، بغیر محنت گزارہ نہیں ،

کاموں کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے اندر تبدیلی لیکر آئیں روایتی طور طریقوں سے آپ کی جان جاتی ہے تو جدید طریقے اپنائیں جس حد تک آپ کیلئے ممکن ہیں،

15 وجوہات جن سے لوگ ڈیری گوٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ 1. بکری کے دودھ کی زیادہ مانگ: بکری کا دودھ غذائیت سے بھرپ...
03/03/2025

15 وجوہات جن سے لوگ ڈیری گوٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

1. بکری کے دودھ کی زیادہ مانگ: بکری کا دودھ غذائیت سے بھرپور ہے اور مارکیٹ میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
2. مختلف ماحول کے مطابق موافقت پذیر: بکریاں مختلف آب و ہوا اور خطوں میں پروان چڑھ سکتی ہیں۔
3. کم ابتدائی سرمایہ کاری: بکریوں کا فارم قائم کرنے کے لیے دوسرے مویشیوں کے مقابلے میں کم سرمایہ درکار ہوتا ہے۔
4. فوری واپسی: بکریاں جلد بالغ ہو جاتی ہیں اور ایک سال کے اندر دودھ پیدا کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
5. اعلی تولیدی شرح: بکریاں تیزی سے تولید کرتی ہیں، جس سے ریوڑ بڑھتا ہے۔
6. بکری کی مصنوعات کی استعداد: دودھ کے علاوہ، بکری گوشت، فائبر اور جلد فراہم کرتی ہے۔
7. پائیدار کاشتکاری: بکریوں کی فارمنگ ماحول دوست ہے اور پائیدار زراعت کا حصہ بن سکتی ہے۔
8. کم جگہ درکار: بکریوں کو گائے جیسے بڑے مویشیوں سے کم جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
9. حکومتی تعاون: بہت سی حکومتیں ڈیری گوٹ فارمنگ کے لیے ترغیبات اور مدد فراہم کرتی ہیں۔
10. روزگار کے مواقع: بکریوں کی فارمنگ ملازمتیں پیدا کرتی ہے اور مقامی معیشتوں کو سہارا دیتی ہے۔
11. کم دیکھ بھال: بکریوں کو دوسرے مویشیوں کے مقابلے میں کم دیکھ بھال اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔
12. صحت کے فوائد: بکری کا دودھ ہضم کرنا آسان ہے اور اس کے متعدد صحت کے فوائد ہیں۔
13. آمدنی میں تنوع: کاشتکار بکریوں کی فارمنگ کے ذریعے اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا سکتے ہیں۔
14. برآمدی امکانات: بکری کی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں بہت زیادہ مانگ ہے۔
15. بیماریوں سے لچک: بکریاں نسبتاً سخت اور بہت سی بیماریوں کے خلاف مزاحم ہوتی ہیں۔

بکریوں کو گرمی اور سردی سے بچانے کے لیے درج ذیل 25 طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:گرمی سے بچاؤ کے طریقے:1. شیڈ کا انتظام: بکری...
27/02/2025

بکریوں کو گرمی اور سردی سے بچانے کے لیے درج ذیل 25 طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:

گرمی سے بچاؤ کے طریقے:

1. شیڈ کا انتظام: بکریوں کے لیے سایہ دار جگہ فراہم کریں۔

2. پنکھے اور ایگزاسٹ فین: ہوا کی آمد و رفت بہتر بنائیں۔

3. ٹھنڈے پانی کی دستیابی: دن میں کئی بار تازہ پانی فراہم کریں۔

4. گیلا بوری یا چھڑکاؤ: شیڈ میں پانی کا چھڑکاؤ کریں یا گیلی بوری لٹکائیں۔

5. گھاس اور چارہ خشک رکھیں: گیلے چارے سے بدہضمی ہو سکتی ہے۔

6. دوپہر کے وقت چراگاہ نہ لے جائیں: سورج کی شدت کم ہونے پر چرنے دیں۔

7. زیادہ چکنائی والی خوراک نہ دیں: ہلکی اور تازہ خوراک دیں۔

8. نمکیات اور معدنیات کی دستیابی: بکریوں کو نمک اور معدنی سپلیمنٹ دیں۔

9. ٹھنڈی جگہ پر آرام کرنے دیں: زمین پر پانی کا ہلکا چھڑکاؤ کریں۔

10. براہ راست سورج کی روشنی سے بچائیں: بکریوں کے لیے چھت یا درختوں کا انتظام کریں۔

11. برف کے ٹکڑے یا یخنی دیں: بہت زیادہ گرمی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

12. بکریوں کو ہجوم سے بچائیں: زیادہ تعداد میں اکٹھا ہونے سے گرمی بڑھتی ہے۔

سردی سے بچاؤ کے طریقے:

13. بند اور محفوظ شیڈ بنائیں: ہوا کے داخلے کو محدود کریں۔

14. پلاسٹک شیٹ یا ترپال کا استعمال: شیڈ کے اندر گرم ماحول بنانے کے لیے۔

15. خشک اور گرم بستر فراہم کریں: بھوسہ یا سوکھی گھاس بچھائیں۔

16. رات کے وقت کمبل یا بوری اوڑھائیں: خاص طور پر بچوں کو۔

17. گرم پانی فراہم کریں: ٹھنڈے پانی کے بجائے ہلکا گرم پانی دیں۔

18. سورج کی روشنی میں رکھیں: دن میں کچھ دیر دھوپ میں رکھنے سے فائدہ ہوگا۔

19. ہجوم میں رکھنے سے بچیں: زیادہ بکریاں اکٹھا ہونے سے سانس کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

20. کھانے میں توانائی والی خوراک دیں: مکئی، جو، گڑ، تیل والے بیج وغیرہ شامل کریں۔

21. بارش سے بچاؤ: شیڈ کو لیک پروف بنائیں تاکہ بارش اندر نہ آئے۔

22. نمی کو کم کریں: زیادہ نمی سے بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔

23. ہیٹر یا انگیٹھی کا استعمال: ضرورت کے مطابق شیڈ میں گرمائش پیدا کریں۔

24. چھوٹے بچوں کو زیادہ حفاظت دیں: کمزور بکری کے بچے سردی میں جلد متاثر ہوتے ہیں۔

25. ویکسین اور حفاظتی اقدامات: موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوائیں۔

یہ تمام اقدامات بکریوں کی صحت اور پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔



#زراعت #فارمنگ #ایگریکلچر #فصلیں

بکری پالنے کے بہت سے فوائد ہیں۔ جو ذیل میں بیان کیئے گئے ہیں۔1. بکری کی مصنوعات صحت مند اور آسانی سے ہضم ہوتی ہیں۔دودھ ا...
23/02/2025

بکری پالنے کے بہت سے فوائد ہیں۔ جو ذیل میں بیان کیئے گئے ہیں۔
1. بکری کی مصنوعات صحت مند اور آسانی سے ہضم ہوتی ہیں۔
دودھ اور گوشت جیسی بکری کی مصنوعات نہ صرف غذائیت اور آسانی سے ہضم ہوتی ہیں بلکہ غریب ، بے زمین اور پسماندہ کسانوں کی باقاعدہ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ دیہی معیشت اور قومی آمدنی میں بہت زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ اس کا گوشت اور دودھ کولیسٹرول سے پاک اور آسانی سے ہضم ہوتا ہے۔ بکری کا دودھ مختلف قسم کے کھانے بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں دودھ ، گوشت ، جلد ، ریشہ اور کھاد پیدا کر سکتے ہیں۔

2. آسان دیکھ بھال اور کم سرمایہ:

چھوٹے سائز کے جانور ، بکریوں کی دیکھ بھال اور آسانی سے خواتین اور بچے کرتے ہیں۔ ایک کامیاب بکری فارمربننے کے لیے ،آپ کو کچھ عام اور سادہ سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کھانا کھلانا ، دودھ نکالنا اور دیکھ بھال کرنا۔ ان کاموں کے لیے زیادہ سامان ، سرمایہ ، اور محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان پر کی گئی سرمایہ کاریکی واپسی کا تناسب بہت اچھا ہوتا ہے۔ گوٹ فارمنگ کا کاروبار بہت منافع بخش ہے ، اس لیے بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری بینک اس کاروبار کو شروع کرنے کے لیے قرض دے رہے ہیں۔

3. کسی بڑی جگہ کی ضرورت نہیں:

بکریوں کو ان کے چھوٹے سائز کی وجہ سے رہائش کے لیے بہت بڑا علاقہ درکار نہیں ہوتا۔ یہ آسانی سے اپنے مالکان یا اس کے دوسرے مویشیوں کے جانوروں کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ ان کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ، بکریاں دوسرے گھریلو جانوروں کے ساتھ مخلوط پرورش کے لیے بہت موزوں ہیں۔

4. اچھے بریڈرز:

بکریاں نہ صرف بہت دوستانہ رویہ رکھتی ہیں اور فطرت میں پیاری لگتی ہیں ، بلکہ بہترین افزائش نسل کرنے والی بھی ہوتی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ وہ اپنی 7-12 ماہ کی عمر میں جنسی پختگی کو پہنچ جاتی ہیں اور مختصر وقت کے اندر بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ، بکری کی کچھ نسلیں ایک وقت میں بہت سے بچے پیدا کرسکتی ہیں۔

5. کم رِسک:

یہ جاننا اچھا ہے کہ خشک سالی والے علاقوں میں بھی بکریوں کی پرورش ہو سکتی ہے۔ ایسا کسی دوسرے مویشی پالنے کے کاروبار میں نہیں ہو سکتا۔ ضرورت کے مطابق بکریوں کا دودھ نکالا جا سکتا ہے۔ یہ کام ریفریجریشن کے اخراجات اور دودھ کے ذخیرہ کرنے کے مسائل سے بھی بچاتا ہے۔

6. مارکیٹ میں مساوی قیمت:

کیا آپ جانتے ہیں کہ نر اور مادہ دونوں بکریوں کی مارکیٹ میں قیمت تقریبا برابر ہے۔ ہاں! یہ سچ ہے. نیز ، بکریوں کی پرورش اور گوشت کے استعمال کے خلاف کوئی مذہبی ممانعت نہیں ہے۔ لہذا ، کمرشل بکریوں کے فارمنگ کے کاروبار نے بے روزگار لوگوں کے لیے روزگار کا ایک ممکنہ ذریعہ پیدا کیا ہے۔ان کے گوشت کی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں بہت زیادہ مانگ اور زیادہ قیمت ہے۔ آپ زیادہ منافع کے لیے اپنی مصنوعات کو بیرونی ممالک میں برآمد کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔

7. اچھی موافقت اور بیماریوں کا کم خطرہ:

بکریاں اپنے آپ کو تقریبا تمام اقسام کے زرعی موسمی ماحول اور حالات کے ساتھ ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوری دنیا میں زیادہ اور کم درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہیں اور خوشی سے رہ سکتی ہیں۔ نیز وہ کسی بھی دوسرے جانوروں سے زیادہ گرم آب و ہوا کو برداشت کر سکتی ہیں۔ بکریوں کو دیگر گھریلو جانوروں کے مقابلے میں بیماریاں بھی کم لگتی ہیں۔

8. دودھ کے بہترین منبع:

اس معیار کی وجہ سے ، بکریوں کو “انسان کی رضاعی ماں” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا دودھ جانوروں کے دودھ کی دوسری نسلوں کے مقابلے میں انسانی استعمال کے لیے بہترین دودھ سمجھا جاتا ہے۔اسکا دودھ کم قیمت ، غذائیت بخش ، صحت بخش اور آسانی سے ہضم ہوتا ہے۔ در حقیقت ، بچے سے لے کر بوڑھے تک سبھی بوڑھے کا دودھ آسانی سے ہضم کر سکتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں الرجی کے مسائل بھی کم ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک آیورویدک دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو ذیابیطس ، دمہ ، کھانسی وغیرہ سے بیمار ہیں۔

بکری فارمنگ میں نقصان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں انتظامی، ماحولیاتی، صحت سے متعلق اور مالی عوامل شامل ہیں۔ یہاں 2...
21/02/2025

بکری فارمنگ میں نقصان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں،

جن میں انتظامی، ماحولیاتی، صحت سے متعلق اور مالی عوامل شامل ہیں۔ یہاں 25 اہم عوامل درج کیے جا رہے ہیں جو نقصان کا سبب بن سکتے ہیں:

1. بریڈ (نسل) کا غلط انتخاب

مقامی موسمی حالات اور منڈی کی طلب کے مطابق مناسب نسل نہ چننا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

2. ناقص مینجمنٹ

فارم کی صفائی، ویکسینیشن، خوراک اور پانی کی مناسب سہولت نہ ہونے سے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔

3. غیر متوازن خوراک

غذائیت سے بھرپور خوراک نہ دینے سے بکریوں کی صحت متاثر ہوتی ہے، جس سے وزن میں کمی اور دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔

4. بیماریوں کی روک تھام نہ کرنا

بروقت ویکسینیشن اور طبی چیک اپ نہ کروانے سے مہلک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔

5. ناقص رہائش اور وینٹیلیشن

بکریوں کے لیے مناسب شیڈ نہ ہونے سے وہ گرمی، سردی اور بارش سے متاثر ہو سکتی ہیں، جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

6. زچہ و بچہ کی نگہداشت میں غفلت

حمل اور پیدائش کے دوران مناسب دیکھ بھال نہ کرنا مادہ اور بچے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

7. پانی کی کمی

صاف اور تازہ پانی نہ ملنے سے بکریاں بیمار ہو سکتی ہیں اور ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

8. اندرونی اور بیرونی پیراسائٹس

جلدی کیڑے، جوئیں اور آنتوں کے کیڑے اگر کنٹرول نہ کیے جائیں تو بکریوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

9. پیداواری صلاحیت کا درست اندازہ نہ لگانا

مناسب ریکارڈ نہ رکھنے سے فارمر کو بکریوں کی پیداوار، وزن میں اضافے اور بیماریوں کا درست علم نہیں ہوتا۔

10. مارکیٹنگ اور سیلز کی کمزوری

صحیح وقت پر مناسب منڈی تک نہ پہنچنے سے بہتر قیمت حاصل نہیں ہو پاتی اور منافع کم ہو جاتا ہے۔

11. حد سے زیادہ جانور رکھنا

گنجائش سے زیادہ بکریاں رکھنے سے شیڈ میں جگہ کم پڑ جاتی ہے، جس سے بیماریاں اور جھگڑے بڑھ سکتے ہیں۔

12. غیر معیاری افزائش نسل

قریبی رشتہ دار بکریوں کی کراس بریڈنگ کرنے سے بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اگلی نسل کمزور ہو سکتی ہے۔

13. غلط طریقے سے چارہ دینا

اچانک خوراک میں تبدیلی یا خراب چارہ دینے سے نظامِ ہاضمہ خراب ہو سکتا ہے اور بکریاں بیمار ہو سکتی ہیں۔

14. موسمی اثرات کا خیال نہ رکھنا

شدید گرمی، سردی یا بارش سے بچاؤ کا بندوبست نہ ہونے سے بکریاں بیمار ہو سکتی ہیں۔

15. چوری اور شکاری جانوروں کا حملہ

چوروں اور جنگلی جانوروں سے بچاؤ کے لیے سیکیورٹی کا بندوبست نہ ہونا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

16. ناقص دودھ کی پیداوار

بکریوں کو مناسب خوراک نہ دینا اور دودھ نکالنے کی صحیح تکنیک نہ اپنانا دودھ کی پیداوار کم کر سکتا ہے۔

17. جلدی بیماریوں کی روک تھام نہ کرنا

خارش، گلٹیوں اور پھوڑے جیسے مسائل پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو فارمنگ متاثر ہو سکتی ہے۔

18. مالیاتی منصوبہ بندی کی کمی

بجٹ اور اخراجات کا حساب نہ رکھنا نقصان اور دیوالیہ پن کا سبب بن سکتا ہے۔

19. تجربے اور معلومات کی کمی

فارمنگ کا مناسب تجربہ نہ ہونے اور جدید تکنیک سے ناواقفیت نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

20. طبی سہولیات کی عدم دستیابی

قریبی علاقے میں ویٹرنری ڈاکٹر یا میڈیکل سہولیات نہ ہونے سے بیماریوں کا بروقت علاج نہیں ہو پاتا۔

21. نقل و حمل میں مسائل

دور دراز علاقوں میں بکریاں لے جانے کے دوران پانی، خوراک اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے وہ بیمار ہو سکتی ہیں۔

22. تولیدی مسائل

بانجھ پن، قبل از وقت پیدائش اور حمل کی پیچیدگیاں نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

23. فارم کے مقام کا غلط انتخاب

فارم کو ایسے علاقے میں بنانا جہاں پانی، چارہ اور منڈی تک رسائی مشکل ہو نقصان کا باعث بنتا ہے۔

24. انتظامی عملے کی نااہلی

اگر کام کرنے والا عملہ فارمنگ کے جدید اصولوں سے ناواقف ہو تو فارمنگ میں مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

25. منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ نہ لگانا

قیمتوں میں تبدیلی کے رجحانات پر نظر نہ رکھنے سے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر جب قیمتیں کم ہوں۔

نتیجہ

اگر بکری فارمنگ کو منافع بخش بنانا ہے تو ان تمام عوامل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اچھی منصوبہ بندی، جدید تکنیک، اور محتاط مینجمنٹ سے ان نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔



ڈیرے مہراں دے

Address

Chak 425 J. B Toba Tak Singh Road Gojra
Toba Tek Singh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈیرے مہراں دے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category