16/09/2026
*سیف الرحمن طیب: وزیرستان میں جماعت اسلامی کی بنیاد اور جدوجہد کا نام*
جنوبی وزیرستان جیسے مشکل ترین، قبائلی روایات اور حساس جغرافیائی حالات والے علاقے میں جماعت اسلامی کا تعارف کرانا اور اسے عوامی سطح پر مقبول کرنا کسی عام آدمی کا کام نہیں ہے۔ یہ کارنامہ جناب *سیف الرحمن طیب* کے نام سے جڑا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف جماعت اسلامی وزیرستان کے بانی ہیں بلکہ انہوں نے اپنی علمی بصیرت، فکری گہرائی اور عملی جدوجہد سے پورے علاقے میں جماعت کا تشخص قائم کی
1. *فکری بنیاد: ملکی و علاقائی سیاست کا گہرا مطالعہ*
سیف الرحمن طیب کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا مطالعہ اور فکر تھی۔ انہوں نے ملکی سیاست کے نشیب و فراز کو بھی گہرائی سے پڑھا اور علاقائی قبائلی نظام، روایات اور مسائل کو بھی سمجھتے ہیں
ان کی یہ خصوصیت تھی کہ "اپنے اور پرائے" میں فرق کیے بغیر وہ حق بات کرتے تھے۔ اسی وجہ سے جماعت اسلامی کو وزیرستان میں وہ مقبولیت ملی جو صرف سیاسی نعروں سے نہیں ملتی۔ لوگوں نے ان میں ایک مخلص، باکردار اور باشعور رہنما دیکھا۔
وہ مولانا مودودیؒ کے فکری وارث تھے۔ مولانا مودودی کے افکار کا گہرا مطالعہ انہوں نے کیا اور اسے وزیرستان کے تناظر میں پیش کیا۔ ان کی تقریروں اور تحریروں میں مدلل جواب، قرآن و سنت کی روشنی اور عصری تقاضوں کا ادراک نمایاں ہے اسی علمی بنیاد نے جماعت کو یہاں "صرف ایک مذہبی جماعت" نہیں بلکہ "فکری تحریک" بنا دیا۔
2. *سیاسی آغاز: اسلامی جمعیت طلبہ سے*
سر جی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز *اسلامی جمعیت طلبہ* سے کیا۔ جمعیت کا پلیٹ فارم نوجوانوں کی تربیت، کردار سازی اور فکری آمادگی کے لیے بہترین مدرسہ تھا۔
جمعیت میں رہ کر انہوں نے قیادت، نظم و ضبط، دعوت اور تنظیم کا عملی سبق سیکھا۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے بعد میں انہیں ایک پوری جماعت کھڑی کرنے کے قابل بنایا۔
3. *جنوبی وزیرستان میں جماعت کی بنیاد*
جب سیف الرحمن طیب نے جنوبی وزیرستان میں جماعت اسلامی کا کام شروع کیا تو حالات انتہائی مشکل تھے۔
1. *قبائلی نظام*: یہاں سیاسی جماعتوں کو روایتی طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے
2. *سیکیورٹی مسائل*: دہشتگردی، آپریشنز اور نقل مکانی کے ادوار میں کام کرنا انتہائی رسک بھرا تھا
3. *فکری خلا*: جماعت کے نظریے کو سمجھانے کے لیے طویل محنت درکار ہے
ان سب کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو "صرف ایک تنظیم" نہیں رہنے دیا بلکہ اسے وزیرستان کی پہچان بنا دیا۔ ان کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج جنوبی وزیرستان میں جماعت اسلامی کا ایک کارکن بھی فخر سے اپنا تعارف کراتا ہے۔
انہوں نے مساجد، مدارس، جرگوں اور نوجوانوں کے حلقوں میں جا کر جماعت کا پیغام پہنچایا۔ ان کا طریقہ کار دلیل، اخلاق اور خدمت تھا۔ اسی وجہ سے مخالفین بھی ان کی عزت کرتے تھے۔
4. *میراث اور سبق*
سیف الرحمن طیب کی جدوجہد ہمارے لیے روشن چراغ کی مانند ہے:
1. *علم کے بغیر دعوت نہیں*: انہوں نے ثابت کیا کہ گہرا مطالعہ ہی مدلل جواب دیتا ہے
2. *مشکل حالات میں استقامت*: علاقے کے مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے جمعیت اور جماعت کا کام جاری رکھا
3. *کردار سے پہچان*: انہوں نے جماعت کو نعرے سے نہیں بلکہ کردار سے متعارف کرایا
4. *فکرِ مودودی کی عملی تطبیق*: انہوں نے مولانا مودودی کے افکار کو وزیرستان کی مٹی میں عملی شکل دے رہے ہیں
*نتیجہ:*
سیف الرحمن طیب صرف ایک فرد کا نام نہیں، وہ ایک مکتبِ فکر ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو، مطالعہ گہرا ہو اور کردار مضبوط ہو تو دنیا کی مشکل ترین سرزمین پر بھی حق کی آواز کو مقبول کیا جا سکتا ہے۔
آج جنوبی وزی
رستان میں جماعت اسلامی جس مقام پر کھڑی ہے، اس کی بنیاد میں سیف الرحمن طیب کی راتوں کی محنت، آنسو اور قربانی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق دے۔ آمین
Saif Ur Rehman Tayyab
Musharaf Danish