21/10/2025
برائلر چکن بمقابلہ دیسی چکن — سچائی کیا ہے؟
کیا واقعی برائلر چکن آپ کے جسم میں بیماریاں پیدا کرتا ہے؟ کیا یہ آپ کے ہارمونز کو متاثر کرتا ہے؟ اور کیا وہ چکن جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو تقریباً ہر گھر میں زیرِ بحث رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت جاننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ برائلر اور دیسی چکن کے درمیان اصل فرق کیا ہے۔
دیسی چکن فطری ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ وہ سارا دن آزاد گھومتا ہے، دانا چگتا ہے، کیڑے مکوڑے کھاتا ہے، اور قدرتی انداز میں بڑھتا ہے۔ اسی لیے اس کا گوشت مضبوط اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ چونکہ وہ زیادہ حرکت کرتا ہے، اس کی نشوونما سست ہوتی ہے، لیکن وہ صحت مند ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی چکن کا گوشت اور انڈے زیادہ قیمتی اور غذائیت سے بھرپور سمجھے جاتے ہیں۔
دوسری جانب برائلر چکن کو دیکھا جائے تو اس کی افزائش آج کے دور میں بہت عام ہو چکی ہے۔ برائلر چکن چند ہفتوں میں ہی بڑا ہو جاتا ہے، اور اس کی تیزی سے نشوونما کا راز ‘‘سیلیکٹیو بریڈنگ’’ نامی سائنسی عمل ہے۔ اس عمل میں مخصوص نسلوں کو ملا کر ایک ایسی نسل تیار کی جاتی ہے جو بہت تیزی سے وزن بڑھاتی ہے۔ ان چکنز کو خاص فیڈ دی جاتی ہے جو انہیں جلدی بڑا کرتی ہے۔ البتہ چونکہ یہ بند ماحول میں رہتے ہیں، ان کی قوتِ مدافعت نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے ان کو اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
اب یہاں مسئلہ برائلر چکن کے وجود میں نہیں، بلکہ اسے پالنے کے طریقے میں ہے۔ پولٹری فارمز پر اکثر مرغیوں کو تنگ جگہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ نہ چلیں، کیونکہ چلنے پھرنے سے ان کا وزن کم بڑھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ مرغیاں جسمانی طور پر کمزور لگتی ہیں اور عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ برائلر چکن غیر صحت مند ہے۔ حالانکہ اگر یہی برائلر چکن آپ گھر میں پالیں، اسے چلنے پھرنے کی آزادی دیں، تو وہ بالکل صحت مند اور متوازن انداز میں بڑھے گا۔
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ برائلر اور دیسی چکن کے درمیان غذائیت کے اعتبار سے زیادہ بڑا فرق نہیں۔ دونوں میں پروٹین، آئرن اور دیگر غذائی اجزاء کی مقدار تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ اگرچہ دیسی چکن کا ذائقہ زیادہ قدرتی اور فیٹ کم ہوتا ہے، لیکن اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برائلر چکن آج بھی عوام کے لیے پروٹین کا سب سے قابلِ رسائی ذریعہ ہے۔
ہماری آبادی کا تقریباً 80 فیصد طبقہ اپنی روزمرہ کی پروٹین کی ضرورت پوری نہیں کر پاتا۔ اگر آپ دیسی چکن خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو یقیناً وہ ایک بہتر انتخاب ہے۔ لیکن اگر آپ افورڈ نہیں کر سکتے تو برائلر چکن کھانے میں کوئی نقصان نہیں۔ اصل فرق اس بات میں ہے کہ آپ کا لائف اسٹائل کیسا ہے۔
اگر آپ رات بھر جاگتے ہیں، ورزش نہیں کرتے، کھانے کے فوراً بعد لیٹ جاتے ہیں، اور دن کا زیادہ تر وقت بیٹھے گزارتے ہیں، تو پھر چاہے آپ دنیا کا مہنگا ترین دیسی چکن بھی کھالیں، وہ آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ کولیسٹرول بڑھے گا، دل کے امراض ہوں گے، ہارمونل عدم توازن پیدا ہوگا، اور وزن بڑھتا جائے گا۔
اصل مسئلہ برائلر چکن نہیں بلکہ ہمارا غیر متوازن طرزِ زندگی ہے۔
لہٰذا اگر آپ اپنی صحت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی روزمرہ عادات پر نظر ڈالیں۔ متوازن غذا کھائیں، روزانہ چہل قدمی کریں، نیند پوری کریں، اور ذہنی دباؤ کم کریں۔ اس کے بعد چاہے آپ برائلر کھائیں یا دیسی، دونوں آپ کے جسم کو توانائی دینے کے قابل ہوں گے۔
آخر میں یاد رکھیں — بیماری گوشت میں نہیں، طرزِ زندگی میں ہے۔