12/09/2026
“راولاکوٹ میں 96 دنوں سے قائم محض دھرنا نہیں، بلکہ ایک نئے انسانی سماج کی بنیاد ہے”
گزشتہ تین ماہ سے بالعموم کشمیر اور بالخصوص پونچھ پابندیوں، کرفیو جیسے حالات اور شدید مشکلات سے گزر رہا ہے۔ مگر انہی حالات میں راولاکوٹ کی دھرتی پر ایک ایسا سماجی ماڈل بھی ابھر رہا ہے جو آنے والے کل کی سمت متعین کرتا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے شازیب حبیب فری میڈیکل کیمپ کے بعد رضاکارانہ سکولوں کا آغاز کیا ہے، جبکہ دھرنے کے قریب مختلف سٹالز بھی خالص انسانی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں مقصد منافع کمانا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا بوجھ بانٹنا اور انسان کو انسان کے کام آنا ہے۔
یہ چھوٹے اقدامات نہیں۔ یہ اس سوال کا عملی جواب ہیں کہ یہاں کے عوام کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں؟
ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں بچے کی تعلیم اس کے والدین کی مالی حیثیت کی محتاج نہ ہو، جہاں مریض کا علاج کاروبار نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری ہو، جہاں بھوک کسی کی مجبوری سے منافع کمانے کا ذریعہ نہ بنے، اور جہاں صحت، تعلیم، خوراک اور بنیادی ضروریات کو مراعات نہیں بلکہ انسان کے بنیادی حقوق سمجھا جائے۔
جس شہر کے لوگ منافع کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوں، جس معاشرے میں استاد رضاکارانہ طور پر بچے کو پڑھائے، ڈاکٹر انسان کا درد کم کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھے اور لوگ اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کا سہارا بنیں، وہاں ایک سوشل ڈیموکریٹک، انسان دوست اور آفاقی نظام کی بنیاد خود بخود پڑنے لگتی ہے۔
اصل سیاسی تبدیلی صرف چہرے بدلنے کا نام نہیں۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ ریاست اور سماج کی ترجیحات بدلیں۔
منافع سے پہلے انسان،
اقتدار سے پہلے عوام،
اور مراعات سے پہلے بنیادی حقوق۔
راولاکوٹ میں آج جو کچھ رضاکارانہ بنیادوں پر ہو رہا ہے، وہ شاید آنے والے کشمیر کی ایک مختصر سی تصویر ہے۔
اور جس معاشرے کے لوگ مشکل ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کے لیے سکول، علاج اور سہارا کھڑا کر دیں، وہ معاشرہ ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بنیاد ضرور رکھتا ہے۔
قارون کے بیٹو! مری للکار کو سُن لو
ترویجِ مساوات یہاں ہو کے رہے گی
یا میرے بھی بچوں کو یہاں رزق ملے گا
یا آپ کی اولاد بھی فاقوں سے مرے گی