Muhammad ilyas khan

Call Contact the business

Muhammad ilyas khan hiking, sports, education, health,entertainment

ایک درخت پر 8 پرندے اچانک تیز ھوا سے دو پرندے اڑ گئے۔بتائیں،اب کتنے پرندے رہ گئے؟؟؟
01/10/2026

ایک درخت پر 8 پرندے اچانک تیز ھوا سے دو پرندے اڑ گئے۔
بتائیں،اب کتنے پرندے رہ گئے؟؟؟

‎"یقین کرو، کوئی ایسا دکھ، کوئی ایسا پچھتاوا، کوئی ایسی یاد نہیں جو ہمیشہ رہے۔‎یہاں تک کہ بڑی محبت بھی بھلا دی جاتی ہے۔‎...
30/09/2026

‎"یقین کرو، کوئی ایسا دکھ، کوئی ایسا پچھتاوا، کوئی ایسی یاد نہیں جو ہمیشہ رہے۔
‎یہاں تک کہ بڑی محبت بھی بھلا دی جاتی ہے۔
‎یہی زندگی کی اداسی بھی ہے اور خوبصورتی بھی۔"
‎

29/09/2026

آذادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا آپ کو آذادی چھینی پڑتی ھے۔
#مرشد

اپنی ذہانت ازمائیں ۔کونسی گاڑی اگر ریورس کی جائے تو ٹریفک کا مسلۂ حل ھوگا
19/09/2026

اپنی ذہانت ازمائیں ۔
کونسی گاڑی اگر ریورس کی جائے تو ٹریفک کا مسلۂ حل ھوگا

کونسی گاڑی 'Y'تک پہنچے گی؟ذہین لوگوں جواب دیں
17/09/2026

کونسی گاڑی 'Y'تک پہنچے گی؟
ذہین لوگوں جواب دیں

دماغ کی بتی جلائیں
15/09/2026

دماغ کی بتی جلائیں

وہ کونسی چیز ھے جو حرام ھے مگر اسے پینے سے ثواب ملتا ھے۔میرے اس پیج کو لائک اور فالو کریں۔
11/09/2026

وہ کونسی چیز ھے جو حرام ھے مگر اسے پینے سے ثواب ملتا ھے۔
میرے اس پیج کو لائک اور فالو کریں۔

دماغ کی بتی جلائیں ۔ایک اینٹ تبدیل کر کے اس سے بڑا نمبر بنائیں۔
09/09/2026

دماغ کی بتی جلائیں ۔
ایک اینٹ تبدیل کر کے اس سے بڑا نمبر بنائیں۔

‎روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ...
08/09/2026

‎روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
‎ہمدان کے لوگ ڈر کے مارے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف، اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
‎چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورے شہر کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ میدان میں خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
‎چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
‎"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت ہوشیار، عقل مند اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی مشہور ہے، کہتے ہیں: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’ – یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہیں جانتے۔"
‎پھر اس نے اعلان کیا:
‎"میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی۔ لیکن اگر جواب غلط ہوا… تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ یہی کرے گا!"
‎میدان میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ لوگ کانپنے لگے۔
‎چنگیز خان نے نظریں گھمائیں، پھر گرج کر پوچھا:
‎"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں؟ یا اپنی مرضی سے؟"
‎کسی کے پاس ہمت نہ تھی جواب دینے کی۔ علماء، دانشور، اور بزرگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ سوال صرف ایک دلیل نہیں تھا، بلکہ پورے شہر کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔
‎ہر چہرہ پریشان، ہر آنکھ سوالی بنی ہوئی تھی۔ اور تب… ہجوم سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔
‎نہ وہ عالم تھا، نہ دانشور۔ مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت تھی، دل میں سچائی۔
‎چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:
‎"اگر میں جواب سنوں گا، تو تجھ سے سنوں گا!"
‎چرواہے نے بے خوفی سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
‎"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
‎نہ تم اپنی مرضی سے آئے ہو…
‎تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔
‎جب ہم نے عقل والوں کو نظر انداز کیا،
‎علم والوں کو پیچھے دھکیلا،
‎اور جاہلوں، خوشامدیوں، اور نالائقوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دی—
‎تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا طے تھا!
‎تم ہماری نادانی، بے انصافی اور بصیرت سے خالی قیادت کا نتیجہ ہو!"
‎میدان میں گہری خاموشی چھا گئ
‎چنگیز خان ساکت ہو گیا۔ شاید یہ سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔
‎اور پھر… اس نے سب کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔
‎ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے۔
‎یہ قوموں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
‎Copy past

Address

Al Madenah Al Reyadhya
11565

Telephone

+923425551388

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad ilyas khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad ilyas khan:

Shortcuts

Share

Category