23/11/2025
جب شبانہ محمود برطانیہ میں اقتدار کی مسند پر تشریف فرما ہوئیں تو پاکستانی کمیونٹی گویا ہوا میں اڑنے لگی اور خوشی سے ناچنے لگی کہ اب انکے دکھ درد دور ہوگئے اور بس وہ لیگل ہوگئے اور پاسپورٹ انکے ہاتھ آگئے،شروع کے دنوں میں انہوں اپنائیت بھرے انداز میں اپنی پہاڑی بولی میں اپنا رویہ نرم رکھا اور پیغام دیا کہ سب اچھا ہوگا،،بدقسمتی دیکھئے کہ جب عملی اقدامات کا وقت آیا تو محترمہ نے پاکستانیوں سمیت دیگر ایشین و غیرملکیوں کے لئے ایسے ایسے اقدامات و قوانین وضع کیے کہ سب کے کانوں سے خون ملا دھواں نکال دیا،ایسے ایسے قوانین لانے کا عندیہ دیا کہ گورے بھی پریشان کہ زیادہ "چ ول" کون ہے،گورے کی ازلی غلامی اور "مہمان کو دوسرا مہمان" اچھا نہیں لگتا " والا محاورہ سچ ثابت ہوا حالانکہ شبانہ محمود کے والدین و دیگر عزیز و اقربا بھی کبھی یونہی لائنوں کگے ہونگے کبھی انہوں نے کچھ دن ہی سہی مگر خواری تو کاٹی ہوگی،اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہ عورت ان قوانین میں بہتری لاتی اور احساس کرتی مگر اس نے گورے کو سو سال پہلے والا پیغام دیا کہ ہم غلام ابن غلام ابن غلام ہیں اور ہم اپنوں کو تم سے زیادہ خوار کرینگے تم بس ہمیں ایک دفعہ اپنا پٹہ ہمارے گلے میں ڈال کر تو دیکھو۔ افسوس صد افسوس ایسی ذہنیت پر۔