09/05/2026
اے اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں چین کی نیند سونے والو،
تمہارے گھروں میں اے سی چلتے ہیں، پنکھے گھومتے ہیں، بستر نرم ہیں۔ رات بھر سکون کی نیند آتی ہے تمہیں۔
لیکن ہم غریبوں کا کیا قصور ہے؟
ہمارے گھر مٹی کے ہیں، چھتیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ گرمی میں دیواریں تندور بن جاتی ہیں۔ رات بھر پسینے میں بھیگتے ہیں، مچھروں سے لڑتے ہیں، اور صبح پھر محنت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
تمہارے محل، تمہاری گاڑیاں، تمہارا ٹھنڈا کمرہ... یہ سب اسی عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے۔ اسی غریب کی کمائی سے چلتا ہے جس کے پاس خود ایک پنکھا خریدنے کے پیسے نہیں۔
ہم شکایت نہیں کرتے۔ ہم محنت کرتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں۔
بس ایک التجا ہے:
ہماری پکار سنو۔
ہم بھی انسان ہیں۔ ہمیں بھی سکون چاہیے۔ ہمیں بھی عزت سے جینے کا حق ہے۔
ہم سے ٹیکس تو لیتے ہو، بدلے میں کم از کم انصاف تو دو۔
اگر آج تم ہماری آواز نہیں سنو گے، تو کل تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔