Lala's Kitchen

Lala's Kitchen We share easy, delicious, and mouthwatering recipes for food lovers of all kinds – from quick snacks to full-course meals.
(1)

Follow us for daily cooking inspiration, tips, and the love of good food! ���

وکرانت گپتا کا پاکستان کی شکست پر ردعمل: بنگلہ دیش نے پاکستان کو ہوم اور اوے دونوں سیریز میں بیک ٹو بیک شکست دے کر مکمل ...
20/05/2026

وکرانت گپتا کا پاکستان کی شکست پر ردعمل:
بنگلہ دیش نے پاکستان کو ہوم اور اوے دونوں سیریز میں بیک ٹو بیک شکست دے کر مکمل طور پر 'براؤن واش' (Brown washed) کر دیا ہے۔ پہلے انہوں نے پاکستان کو اسی کے گھر (راولپنڈی) میں 2-0 سے وائٹ واش کیا، اور اب اپنے ملک (ڈھاکہ اور سلہٹ) میں بھی 2-0 سے کلین سویپ کر دیا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پاکستان کا اب تک کا سب سے نچلا درجہ (Lowest Point) ہو سکتا ہے۔ پاکستان، جو کبھی دنیا کے لیے تیز ترین اور خطرناک ترین فاسٹ بولنگ کا پاور ہاؤس مانا جاتا تھا، اب ٹیسٹ کرکٹ میں عام سے میڈیم پیسرز کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے، اور اصل پریشانی کی بات یہی ہے۔

بریڈ سے گلاب جامن بنانا نہایت آسان اور جھٹ پٹ بننے والی ریسپی ہے۔ آپ صرف 10 سے 15 منٹ میں بازار جیسے نرم اور رسیلے گلاب ...
20/05/2026

بریڈ سے گلاب جامن بنانا نہایت آسان اور جھٹ پٹ بننے والی ریسپی ہے۔ آپ صرف 10 سے 15 منٹ میں بازار جیسے نرم اور رسیلے گلاب جامن گھر پر تیار کر سکتے ہیں۔
نیچے اس کا آسان طریقہ اور ضروری اجزا دیے گئے ہیں:

ضروری اجزا (Ingredients)
بریڈ سلائس: 8 سے 10 عدد (سفید بریڈ)
دودھ: 4 سے 5 کھانے کے چمچ (گوندھنے کے لیے)
کھویا یا ملک پاؤڈر (آپشنل): 2 کھانے کے چمچ (بہتر ذائقے کے لیے)
گھی یا تیل: تلنے (فرائی کرنے) کے لیے
چاشنی کے لیے:
چینی: 1.5 کپ
پانی: 1.5 کپ
سبز الائچی: 3 سے 4 عدد (کٹی ہوئی)
لیموں کا رس: آدھا چائے کا چمچ (تاکہ چینی جمے نہیں)

بنانے کا طریقہ (Step-by-Step)
1. چاشنی تیار کریں
ایک برتن میں چینی، پانی اور کٹی ہوئی الائچی ڈال کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔
جب پانی میں ابال آ جائے اور چینی مکمل گھل جائے، تو اسے 5 منٹ مزید پکائیں۔
چاشنی کو زیادہ گاڑھا یا تار والا نہیں بنانا، بس ہلکا سا چِپچِپا ہونا چاہیے۔
آخری میں لیموں کا رس شامل کریں اور چاشنی کو ہلکا گرم رہنے کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔

2. بریڈ کا آٹا (Dough) بنائیں
تمام بریڈ سلائس کے کناروں (براؤن حصوں) کو چھری سے کاٹ کر الگ کر دیں۔
بریڈ کے سفید حصے کو ہاتھوں سے چھوٹا چھوٹا توڑ لیں یا بلینڈر میں ڈال کر چورا (crumbs) بنا لیں۔
اب اس میں تھوڑا تھوڑا کر کے دودھ شامل کریں اور نرم آٹا گوندھ لیں۔
ٹپ: دودھ ایک ساتھ نہ ڈالیں، ورنہ آٹا پتلا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس موقع پر ملک پاؤڈر بھی شامل کر سکتے ہیں۔

3. گلاب جامن کے بالز بنائیں
ہاتھوں پر ہلکا سا گھی یا تیل لگا لیں۔
آٹے سے تھوڑا سا حصہ لے کر چھوٹی چھوٹی گول بالز (گولیاں) بنا لیں۔

دھیان رکھیں کہ بالز بالکل ہموار (smooth) ہوں اور ان میں کوئی دراڑ (crack) نہ ہو، ورنہ تلتے وقت گلاب جامن ٹوٹ سکتے ہیں۔

4. گلاب جامن فرائی کریں
کڑاہی میں گھی یا تیل گرم کریں۔ آنچ کو درمیانا (medium-low) رکھیں۔

گرم تیل میں آرام سے بریڈ کے بالز ڈالیں۔
چمچ کو لگاتار ہلکا ہلکا گھماتے ہوئے انہیں سنہرا (golden brown) یا ڈارک براؤن ہونے تک فرائی کریں۔

5. چاشنی میں ڈبوئیں
فرائی کیے ہوئے گلاب جامن کو تیل سے نکال کر سیدھا نیم گرم چاشنی میں ڈال دیں۔
گلاب جامن کو چاشنی میں کم از کم 1 سے 2 گھنٹے کے لیے ڈھانپ کر رکھ دیں تاکہ وہ اندر تک رسیلے اور نرم ہو جائیں۔
آپ کے مزیدار اور سوفٹ بریڈ گلاب جامن تیار ہیں! آپ انہیں بادام یا پستے سے سجا کر گرم یا ٹھنڈا پیش کر سکتے ہیں۔

ایک باپ جو غربت اور بیماری سے ہار کر دنیا چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ جب ایک انسان کے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا کوئی راس...
20/05/2026

ایک باپ جو غربت اور بیماری سے ہار کر دنیا چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ جب ایک انسان کے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا، تو وہ ایسی کڑی سزا خود کو دینے کا سوچتا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے آس پاس کتنے ہی لوگ ہوں گے جو ایسی ہی خاموش تکلیف سے گزر رہے ہوں گے۔ ہمیں اپنے اردگرد نظر رکھنی چاہیے تاکہ کسی اور کو اپنی زندگی کا خاتمہ یوں نہ کرنا پڑے۔ ایسے حالات میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور کسی کی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے اس کی مدد کریں۔

"منقول "

کل ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں دو نوجوان اپنی گاڑیوں میں اتشیں اسلحہ لیکر سان دیاگوس کی مسجد پر حملہ کرنے آئے ۔ اس وق...
19/05/2026

کل ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں دو نوجوان اپنی گاڑیوں میں اتشیں اسلحہ لیکر سان دیاگوس کی مسجد پر حملہ کرنے آئے ۔
اس وقت مسجد میں چھوٹے بچے موجود تھے ۔

مبینہ طور پر سیکورٹی گارڈ سے مڈبھیڑ کے نتیجے میں وہ دونوں مارے گئے اس دوران سیکورٹی گارڈ بھی فرض کی ادائیگی میں اللہ کو پیارا ہوگیا ۔

یہ خبر آپ کو ہر اخبار کے چوتھے صفحے پر مل جائے گی ۔ مگر ان حملہ آوروں کے نام کیا تھے ۔ ان کے اس قتال کے ارادے کی وجہ کیا تھی ۔ مسجد پر حملہ کیوں کرنا چاہتے تھے ۔ یہ حصہ آپ کو کسی بھی بڑے میڈیا گروپ پر نظر نہیں آئے گی اس خبر میں یہ تک تفصیل مل جائے گی کہ سیکورٹی گارڈ بے چارہ آٹھ بچوں کا باپ تھا ۔ یہ تفصیل بھی مل جائے گی کہ ایک نوجوان کی والدہ نے پولیس کو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ اس کا بیٹا اسلحے سے بھری گاڑی لیکر گھر سے نکل گیا ہے
لیکن اس سب تفصیل کے باوجود ان نوجوانوں کا نام اور حملے کی وجہ غائب نظر آئی گی جانتے ہوں کیوں ۔ چلیں رہنے دیں آپ جانتے ہی ہیں اتنے بچے تھوڑے ہیں

یہی نہیں کہ وجہ یا تفصیل نہیں بتائی جائے گی

بلکہ
۔اس واقعہ کو دہشتگردی بھی نہیں کہا جائے گا ۔

ان حملہ آوروں کے مذہب کا نام بھی استعمال نہیں کیا جائے گا ۔

ان کی کسی مقدس کتاب کی آیتیں پڑھ کر بھی حوالہ نہیں دیا جائے گا کہ یہ دیکھیں انہوں نے یہاں سے سب سیکھا ہے

ان کے مذہب کے لوگوں سے باربار مذمت کرنے کا بھی نہیں کہا جائے گا

۔ ایسا کوئی طعنہ بھی نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس معاشرے میں ضم ہونے کے قابل نہیں

سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی اور نفرت کا سمندر بھی موجزن نہیں ہوگا

ان کی امریکہ شہریت چھیننے کا بھی نہیں کہا جائے گا

ان کے والدین ان کے دوستوں ان کے محلے کے مذہبی پیشوا کو بھی کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جائے گا

جانتے ہیں کیوں ؟

چلیں چھوڑیں آپ جانتے ہی ہیں اتنے بچے تھوڑی ہیں

ان میں سے ایک کا نام کائین کلارک اور دوسرے کا نام کالب ہے

#محموداصغرچودھری

ہمارے معاشرہ اتنا بے حس کیوں ہے؟؟تصویر میں اپ کو موٹر سائیکل سے پیچھے, جھگی دکھائی دے رہی ہے!!وہاں دو بوڑھے میاں بیوی رہ...
19/05/2026

ہمارے معاشرہ اتنا بے حس کیوں ہے؟؟
تصویر میں اپ کو موٹر سائیکل سے پیچھے, جھگی دکھائی دے رہی ہے!!
وہاں دو بوڑھے میاں بیوی رہتے ہیں،
ان کے پاس تین بکریاں اور چھوٹے چھوٹے بکریوں کے بچے تھے،
جنہیں وہ پالتے اور ضرورت پڑنے پر بیچ لیتے۔۔
کل رات کوئی تین ۔چار بجے،ان کی تینوں بکریاں چرا کر لے گیا۔۔
وہ بیچارے پاس ہی سوئے ہوئے تھے،
بلکہ ذرا فاصلے پر کچھ اور لوگ بھی باہر گلی میں ہی سوئے ہوئے تھے،
کسی کو پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی کسی کی انکھ کھلی۔
جب ان کی انکھ کھلی اور انہوں نے دیکھا کہ ان کی بکریاں اپنی جگہ پر نہیں،انہوں نے ارد گرد لوگوں کو اٹھایا اور ہمارے گھر کی بھی بیل دی،
میرے میاں باہر گئے،
جب کافی دیر واپس نہ ائے تو میں نے بھی اٹھ کر گیٹ میں جا کے دیکھا کہ ابھی تک واپس کیوں نہیں ائے!؛
گیٹ میں سے دیکھا تو باہر چار پانچ لوگ کھڑے تھے،
ساتھ ہی میرے دل میں یہ بات اگئی کہ لازمی کوئی مسئلہ بنا ہے،اتنی صبح کیوں کوئی کسی کے گھر کی بیل بجائے گا۔۔۔
واپس ا کر انہوں نے مجھے بتایا کہ سامنے والے بابے کی کوئی بکریاں چرا کر لے۔۔
جو لوگ چوری کرتے ہیں ،کیا وہ انسان نہیں ہوتے؟کیا ان کے دل اور ضمیر نہیں ہوتے؟
چوری بذات خود ایک غلط کام ہے،لیکن وہاں چوری!!!جو بیچارے اپنے کھانے سے بھی تنگ ہوں۔۔۔
شاید ان کے اندر ضمیر نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی ۔۔
ایسے لوگوں کے بارے میں اپ کا کیا خیال ہے!!

اگر آپ کے پاس پریشر کوکر موجود نہیں ہے، یا آپ گیس کا سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ گیس بھی کم خرچ ہو اور قرب...
19/05/2026

اگر آپ کے پاس پریشر کوکر موجود نہیں ہے، یا آپ گیس کا سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ گیس بھی کم خرچ ہو اور قربانی کا گوشت بھی جلدی گل جائے، تو ان آزمودہ ٹوٹکوں پر ضرور عمل کریں:

۱. کچے پپیتے کا استعمال

کچا پپیتا گوشت گلانے کے لیے سب سے بہترین اور قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے۔
طریقہ استعمال: کچے پپیتے کو چھلکے سمیت پیس کر پیسٹ بنا لیں۔ ایک کلو گوشت کے لیے ایک سے ڈیڑھ کھانے کا چمچ پپیتے کا پیسٹ لگا کر اچھی طرح مکس کریں اور کم از کم آدھے سے ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔ اس میں موجود قدرتی اینزائمز گوشت کے ریشوں کو نرم کر دیتے ہیں جس سے گوشت بہت جلدی گل جاتا ہے۔

۲. سفید سرکہ یا لیموں کا رس
سرکہ اور لیموں کا رس دونوں ہی تیزابی (acidic) خاصیت رکھتے ہیں، جو گوشت کو نرم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

طریقہ استعمال: گوشت کو پکانے سے پہلے اس میں دو سے تین کھانے کے چمچ سفید سرکہ یا لیموں کا رس لگا کر آدھے گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ یہ نہ صرف گوشت کو جلدی گلائے گا بلکہ قربانی کے گوشت کی مخصوص مہک کو بھی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔

"اگر کسی بھی بھائی یا بہن کا گوشت گلانے کے حوالے سے کوئی سوال ہو، یا آپ کچھ بھی پوچھنا چاہتے ہوں، تو نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔ انشاء اللہ ہر ایک کو جواب دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر گوشت کو جلدی گلانے کا کوئی اور طریقہ یا ٹوٹکہ آپ کے علم میں ہے، تو وہ بھی کمنٹ سیکشن میں ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں!"

دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی جو صرف کچھ دنوں کے لیے لگ گئی ہے۔ لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، انالحمد وان نعمت لک...
19/05/2026

دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی جو صرف کچھ دنوں کے لیے لگ گئی ہے۔

لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، انالحمد وان نعمت لک والملک لا شریک لک…لبیک اللھم لبیک۔
اے پاک پروردگار ہمیں بھی اس سعادت سے بہرہ ور فرما آمین۔

18/05/2026

💥 بیٹا! تم راشن بھجواتے ہو، میرا باورچی خانہ بھر جاتا ہے۔ تم بل بھرتے ہو، گھر روشن ہو جاتا ہے۔ مگر جب تم خود آتے ہو نا… تو یہ ماں جی اٹھتی ہے۔"

18/05/2026

مجھے لگتا ہے کہ سرکار بجلی کے بلوں میں کوئی بڑا جھٹکا دینے جا رہی ہے ۔ یہ جو ان ظالموں نے سبسڈی اور QR کوڈ سکینگ کا تماشا شروع کیا ہے اس کے پیچھے ہی کوئی بڑا لوچا چُھپا ہے ۔ واللہ اعلم

طارق نعیم شاہ

18/05/2026

ذہین عورت کا فوبیا

کافی دن سے سوشل میڈیا پہ ذہین عورتوں سے خوفزدہ مردوں کی عجیب و غریب پوسٹیں گردش کر رہی ہیں جس نے مجھے اس ٹاپک پہ لکھنے پہ مجبور کیا۔

زہین عورت وہ عورت ہوتی ہے جو خود شناس ہو اسے اپنی خوبیوں، خامیوں، کمزوریوں کا بہت اچھی طرح ادراک ہو۔

اور جو خود شناس ہو گا اسے کوئی کچھ بھی کہہ کے بیوقوف نہیں بنا سکتا ورغلا نہیں سکتا وہ کسی کے لالچ اور جھانسے میں نہیں آئے گا۔

جو لوگ ذہین عورتوں سے خوفزدہ ہیں وہ صرف اس لیے خوفزدہ ہیں کہ اس کے آگے ان کی غیر معیاری بازاری سوچ اور حربے بالکل نہیں چلنے۔ اس عورت میں خود شناسی بھی ہے خود اعتمادی بھی اور حقیقت پسندی بھی۔

وہ تمام مرد جو احساس برتری کا جس قدر شدید شکار ہیں وہ ذہین عورت سے اسی قدر خوفزدہ ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے۔

وہ اس عورت کو یہ کہہ کے دبا نہیں سکتے کہ تمہیں کیا پتہ۔۔۔۔۔؟
وہ اسے جاہل، کم عقل عورت نہیں کہہ سکتے۔
وہ اس کی بات کو آسانی سے ریجیکٹ نہیں کر سکتے۔

یہاں ایک اور اہم بات بھی ہے کہ مرد صرف ذہین عورتوں کو بیوی بنانے سے ڈرتا ہے جبکہ ذہین ماں اور بیٹی سے اسے کوئی مسئلہ نہیں۔
کیونکہ بیوی کا تصور کچھ مردوں کے نذدیک جیون ساتھی کا نہیں بلکہ ایک باندی کا ہے۔ جس کا کام مرد کو وقت پہ ضروریات زندگی مہیا کرنا، اس کا گھر سنبھالنا، اس کے بچوں کی دیکھ بھال کرنا، اور مرد کے سمانے ہاتھ باندھ کے کھڑے رہنا ہے۔
جہاں اس نے رائے دی یا اپنی پسند نا پسند کا اظہار کیا وہیں اسے شٹ اپ کال دے کے بٹھا دیا۔
پھر یہی مرد بیٹیوں کی ذہانت، خود اعتمادی کو پسند کرتے ہیں اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹیوں کو ہرگز دبا کے نہیں رکھتے۔

ایک مسئلہ اور بھی درپیش ہو گیا ہے گزرے وقت میں کافی سارے مرد اچھی خاصی ذہین و فطین، باصلاحیت عورتوں کو آسانی کے کھا پی کے ہضم کر گئے۔ تب عورت مرد پہ معاشی انحصار اور اولاد کی پرورش کی بلیک میلنگ پہ نبھا کر جایا کرتی تھی چاہے اسے دیمک لگ جائے یا گھن وہ سہتی تھی لیکن پھر اس نے اپنی بیٹی کو معاشی اور جذباتی خود انحصاری سیکھائی۔ کہ جاو بیٹی مرد عزت کرئے تو مرتے دم تک ساتھ دینا بات بات پہ دھتکارے تو صرف خرچے اور اولاد کا نام پہ بلیک میل ہو کے خود کو تباہ مت کرنا۔

یہاں سوچنا تو مرد کو تھا کہ اب حالات بدل چکے ہیں اولاد عورت کی ہے تو اولاد مرد کی بھی ہے شادی چلانے کی فکر عورت کو ہی نہیں مرد کو بھی کرنی پڑے گی ایک سائڈ تذلیل اور دوسری سمجھوتے پہ اب نہیں چلے گی۔ مرد نے اپنا طرز عمل درست کرنے کے بجائے رونا دھونا شروع جر دیا۔

یہی نہیں بلکہ اب عورت کے پاس مرد کو ریجیکٹ کرنے کا اختیار بھی ہے وہ اپنے سے کم ذہنی سطح کے مرد کے ساتھ بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی کجا کے شادی کر کے اسے اپنے سر پہ مسلط کرئے کیونکہ پچھلے زمانے میں کچھ مردوں کا یہ بھی محبوب مشغلہ تھا کہ کچھ بھی کر کے بہترین عورت کو حاصل کر لو اس کے بعد اسے ٹارچر کر کر کے اسکا بھرکس نکال دو۔

اب عورت ایسے مرد سے اول تو شادی ہی نہیں کرتی اور اگر قسمت سے ہو بھی جائے تو کسی پریشر یا مجبوری میں شادی نہیں چلاتی شادی کے بعد بھی آسانی سے الگ ہو سکتی ہے وہ ظلم برداشت نہیں کرتی تو اب یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ جس عورت تک پہنچ نا سکو اسے بدنام کر دو یہ مغرور ہے، بدتمیز ہے، تیز ہے، گھر بسانے لائک نہیں، ذہین ہے۔
جبکہ اصل بات یہ ہے آپ اس کے لائک نہیں۔ آب جاہل ہیں، اجڈ ہیں۔

ذہین عورت کو صرف عزت اور دیانتداری
چاہیے اور یہ کہ اسکا مرد اس سے مخلص ہو اسے غلام نہیں جیون ساتھی سمجھتا ہو اسے اہمیت دیتا ہو۔ پھر ذہین عورت تنگ دستی بھی کاٹے گی مشکلات بھی، حالات کے ساتھ سمجھوتہ پٹی نہیں کرئے گی بلکہ حالات بدلنے میں اپنے مرد کا ساتھ بھی دے گی۔ معاشی بوجھ بننے کے بجائے معاون بنے گی ضروری نہیں کما کے ہی لائے بلکہ مرد کی آمدنی کو بہترین مینیج کرئے گی۔

کچھ مرد یہ پھبتی کستے ہیں کہ پڑھی لکھی عورتوں کے شوہر تندور سے روٹیاں لینے والی لائن میں پائے جاتے ہیں۔
میں یہ کہتی ہوں جاہل عورتوں کے مرد بچوں کے ٹیوشن سینٹر کے چکر لگاتے پائے جاتے ہیں۔

فیصلہ کر لیں تندور کی روٹیاں مہنگی پڑتی ہیں یا بچوں کی ٹیوشن۔
ذہین عورت کو پتہ ہوتا ہے کہاں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے اسے اپنی ترجیحات طے کرنا آتی ہیں اسے پتہ ہوتا ہے کون سے کام ملازموں سے اپنی نگرانی میں کروائے جا سکتے ہیں کون سے اس نے سو فیصد خود کرنے ہیں۔

سوشل میڈیا پہ عورتوں کے خلاف ہر وقت ہرزہ سرائی کرنے والے کچھ مرد ایسے بھی ہیں جن کی اپنی دال ان کے گھر میں نہیں گلتی اس لیے وہ سوشل میڈیا پہ اسکا زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ان کو مشورہ ہے گھر کے جھگڑے گھر میں نمٹائیں۔ سب خواتین کو بیچ میں نا لائیں۔

کچھ ایسے بھی کنوئیں کے مینڈک ہیں جنہوں نے کبھی اچھی عورت دیکھی ہی نہیں ان کے ارد گرد اگر نہیں ہیں تو اپنے کنوئیں سے باہر نکلیں لیکن ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے خود میں بھی تہذیب یافتہ لوگوں والی صلاحتیں پیدا کر لیں کیونکہ منفی کو منفی کھینچتا ہے مثبت کو مثبت۔
آپ مثبت ہو جائیں آپ کو سب مثبت لوگ ہی ملیں گے مرد ہوں یا خواتین۔

ورنہ ذہین عورت کا فوبیا آپ کو بے چین رکھے گا جس کو آپ بہکا نہیں سکتے، بہلا پھسلا نہیں سکتے، بات بات پہ بے عزت نہیں کر سکتے، دنیا کے سامنے تذلیل نہیں کر سکتے۔
پہلے خود کو اسقابل کریں ، ذہنی استعداد پہ کام کریں پھر سارا وقت بیٹھ کے عورتوں کو کوسیے گا۔
بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھیے خود کو ذہین عورت کے قابل بنائیے ذہین عورت خوش بخت لوگوں کو ملتی ہے۔ ورنہ لگے رہیے جہالت پہ اپنی ڈھاک بٹھانے میں۔

جویریہ ساجد

18/05/2026

زیادہ تر لوگ مہنگائی کو صرف ایک مسئلہ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی سے زیادہ خطرناک چیز “بے ترتیب خرچ” ہوتا ہے، کیونکہ جب

قیمتیں بڑھتی ہیں تو جو انسان اپنے پیسے کو کنٹرول نہیں کرتا وہ سب سے پہلے پریشان ہوتا ہے

مہنگائی میں سب سے پہلے کون سا خرچ بند کرنا چاہیے جو تمہاری زندگی پر زیادہ فرق ڈال سکتا ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ مہنگائی کے دور میں پیسہ بچانے کے لیے سب سے پہلے اپنی ترجیحات کو ٹھیک کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہر چیز ضروری نہیں ہوتی جو ہمیں اچھی لگے، اور جو انسان ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھ لیتا ہے وہ آدھے سے زیادہ خرچ خود ہی کم کر دیتا ہے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ بغیر پلان کے خریداری مہنگائی میں سب سے بڑا نقصان بن جاتی ہے، کیونکہ جب انسان بغیر سوچے سمجھے چیزیں لیتا ہے تو وہی چیزیں بعد میں بجٹ خراب کر دیتی ہیں، اس لیے ہر خرچ سے پہلے سوچنا ضروری ہے

تیسری چیز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے غیر ضروری خرچ مل کر بڑے نقصان میں بدل جاتے ہیں، جیسے روزانہ کی فضول خریداری، باہر کا کھانا یا فوری خواہشات، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ اپنا پیسہ کھو دیتے ہیں

سمجھدار لوگ مہنگائی میں گھبراتے نہیں بلکہ اپنے خرچ کو ترتیب دیتے ہیں، وہ اپنی آمدن کو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ضروری خرچ الگ رکھتے ہیں اور تھوڑی بہت بچت ضرور کرتے ہیں تاکہ مشکل وقت میں ان کے پاس سہارا موجود ہو

اصل سبق یہ ہے کہ مہنگائی مسئلہ نہیں ہوتی، اصل مسئلہ بے ترتیب خرچ اور بغیر سوچے سمجھے فیصلے ہوتے ہیں



Address

Sargodha

Telephone

+923000633098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lala's Kitchen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share