22/12/2025
دو سال میں شہریوں کو نیا اسلام آباد دکھانے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی
کیا وہ اسلام آباد جو درختوں، پہاڑیوں اور قدرتی خاموشی کی پہچان تھا، اب کنکریٹ کے قلعے میں بدل دیا جائے گا؟ وہ شہر جس کی روح اس کی سبزہ زاری تھی، اب شیشے اور سیمنٹ کے جنگل میں دفن کر دی جائے گی؟
پچاس پچاس سال پرانی مساجد اس دلیل پر مسمار کر دی گئیں کہ یہ جنگل کاٹ کر بنائی گئی تھیں، مگر کچھ ہی عرصے بعد شکرپڑیاں روڈ کے اردگرد پورا جنگل بے دریغ صاف کر دیا گیا۔ یہ کیسا اصول ہے؟ کیسی منطق ہے؟
ہر گزرتے سال کے ساتھ اسلام آباد کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے، آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پانی اور ہوا دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ درخت لگائے جاتے، سبزہ بڑھایا جاتا مگر یہاں تو الٹا درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ شعور اور منصوبہ بندی کے بغیر کی جانے والی یہ ترقی دراصل شہر کی تباہی ہے۔
سی ڈی اے جو کبھی شہر کی نگہبان تھی، آج کنکریٹ مافیا کی سہولت کار دکھائی دیتی ہے۔
یہ حکمران چند برس اقتدار میں رہیں گے، شہر کی فضا آلودہ کر کے خود محفوظ جزیرے تلاش کر لیں گےلیکن یہاں رہنے والوں کے حصے میں کیا آئے گا؟ صرف گرم شہر، بیمار بچے، اور ایک کھویا ہوا حسن
ہماری اپیل ہے🙏🏻اسلام آباد کے لیے آواز بلند کریں۔ یہ محض شہر نہیں، ایک امانت ہے۔ خدارا اس کے قدرتی حسن کو مت ختم ہونے دیں۔ ترقی وہی ہے جو انسان اور فطرت دونوں کو ساتھ لے کر چلے باقی سب تباہی ہے۔