22/09/2026
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کا حساب مانگنے سے دل کو سکون نہیں ملتا۔ ہم چاہیں تو بہت سے سوال کر سکتے ہیں، پوچھ سکتے ہیں کہ وعدے کیوں ٹوٹے، محبت کیوں بدلی اور وہ شخص کیوں بدل گیا جسے ہم نے ہمیشہ سچا سمجھا۔ مگر ایک وقت آتا ہے جب انسان سوالوں سے بھی تھک جاتا ہے اور جوابوں کی خواہش بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ہم نے بھی یہی کیا۔ نہ کوئی وضاحت مانگی، نہ اپنے آنسوؤں کا حساب دیا، نہ اس سے یہ پوچھا کہ آخر ہماری محبت میں کیا کمی رہ گئی تھی۔ بس خاموشی سے اس شخص کو اپنے دل کی اس جگہ سے ہٹا دیا جہاں کبھی اسے سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔
دل سے کسی کو اتار دینا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اسے جس کے ساتھ بے شمار خواب جڑے ہوں۔ مگر کبھی کبھی اپنی عزت، اپنا سکون اور اپنی باقی ماندہ خوشی بچانے کے لیے یہی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
ہم نے حساب مانگا ہی نہیں اس بے وفائی کا ! بس دل سے اتار دیا جسے کبھی دل سے چاہا تھا۔