05/02/2026
IRON LADY Julie K.Brown
اسٹیپن فائلز کیس دوبارہ ری اوپن کرنے اور دنیا بھر کے درندوں کو بے نقاب کرنے کا سہرا خاتون صحافی جولی کے براوئن کے سر جاتاہے ۔
جب ایف بی آئی تحقیقات میں 30 سے زائد بچیوں کی جنسی استحصال کا کیس سامنے آیا ، شواہد ملے ، تو جیفری ایپسٹن کو 18 مہینے کی سزا ملی جسمیں 5 مہینے کی سزا معاف کردی گئ اور باقی کے دن یہ آزاد ہوتا جبکہ سونے کیلئے جیل آتا ۔
اسے 22 جولائی 2009 کو امریکی عدالت انصاف نے رہا کر دیا ۔
جس سرکاری وکیل نے اسٹیپن کو رہائی دلوائی اسے ٹرمپ نے 2017 میں وزیر محنت تعینات کردیا اسی وقت اس بہادر خاتون نے اس کیس پر کام شروع کردیا ۔
سال 2017 اور 18 میں جولی کے براوئن نے ایپسٹن کے شکار کئے ہوئے لڑکیوں کی تلاش شروع کی ۔
تقریباً ایک سال کی محنت کے بعد خاتون نے اپنا تحقیقاتی مراسلہ "انصاف کی پامالی" تین حصوں میں میامی ہیرالڈ اخبار میں شائع کردیا ۔
تقریباً 8 مہینے بعد اس سفاک ملزم جیفری ایپسٹن کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ۔
اس تحقیقات میں 80 بچیوں کو تلاش کیا گیا اور ثبوت دیا گیا ہے جیفری ایپسٹن نیٹ ورک نے انکا جنسی استحصال کیا ۔
8 خواتین نے انٹرویو دیئے جبکہ 4 خواتین نے ٹی وی کے سامنے اپنا بیان دیا ۔
اکثریت لڑکیوں کی عمر 13.14 سال تھی ۔
دنیا بھر کی سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افراد اور ارب پتی سرمایہ کاروں کو جیفری ایپسٹن یہ بچیاں پیش کرتا اور انکی ویڈیوز تصاویر محفوظ رکھتا ۔
اور یہ آگے اسرائیلی انٹلیجنس کو فراہم کرتا ۔
جو انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتے ۔
آگر یہ بہادر خاتون نہ ہوتی تو بائیں بازوں کے نوم چومسکی ، اِنسانیت کے علمبردار بل گیٹس ، ٹرمپ ، کلنٹن ، وغیرہ جیسے کئ درندے بے نقاب نہ ہوتے ۔