12/08/2026
تیری یادوں کا چراغ دل میں جلائے بیٹھے ہیں،
ہم تری چاہت کو دنیا سے چھپائے بیٹھے ہیں۔
تو جو مل جائے تو ہر غم بھی خوشی بن جائے،
ہم اسی خواب کو آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔
تیری آواز کی خوشبو ابھی باقی ہے کہیں،
ہم تری بات کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔
فاصلوں نے ہمیں توڑ تو دیا ہے لیکن،
ہم محبت کو ابھی دل میں بسائے بیٹھے ہیں۔
تُو اگر پوچھے کہ کیا مانگتے ہو رب سے کبھی،
ہم فقط تیرا ہی نام لب پہ لائے بیٹھے ہیں۔ ❤️