07/06/2026
________ معجزۂ مصطفیٰ ﷺ ________
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد ( حضرت عبداللہ بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ ) فوت ہوئے تو ان کے ذمے ایک یہودی کا تیس وسق غلہ قرض تھا ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے مہلت دینے سے انکار کر دیا ، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ یہودی سے ان کی سفارش کر دیں ، چنانچہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے تشریف لے جا کر یہودی سے بات چیت کی ( اور یہ پیش کش کی ) کہ ان پر جو قرض ہے اس کے بدلے وہ ان کی کھجوروں کا سارا پھل لے لے تو اس ( یہودی ) نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو مہلت دینے کا کہا تو اس نے اس سے بھی انکار کر دیا ،سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے اور درختوں کے درمیان چلے ، پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، پھل اتارو اور اسے اس کا حق پورا دے دو ، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد انہوں نے پھل اتار کر تین وسق کھجوریں اس ( یہودی ) کو دے دیں اور بارہ وسق کھجوریں بچ گئیں ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس واقعہ کی خبر دینے کے لیے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ موجود نہیں ، جب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو جابر رضی اللہ عنہ نے حاضر خدمت ہو کر اطلاع دی کہ انہوں نے اس ( یہودی ) کو پوری ادائیگی کر دی ہے ، اور جو مقدار بچ گئی تھی وہ بھی بتائی ، چنانچہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، عمر بن خطاب کو بھی یہ بات بتاؤ ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں یہ بات بتائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ، جب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اس ( باغ ) میں چل رہے تھے تو مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس پھل میں ضرور برکت عطا فرمائے گا ۔
( سنن ابن ماجہ۔24344 )
#حدیثشریف