11/10/2026
_ دنیا ہے مدینے میں، عقبیٰ ہے مدینے میں _
_______________________________
دنیا ہے مدینے میں، عقبیٰ ہے مدینے میں
ایمان کا سرمایہ کیا کیا ہے مدینے میں
فردوس کو جانے کا رستہ ہے مدینے میں
انوارِ خدا کا اک دریا ہے مدینے میں
جس ذاتِ مقدس پر اللہ کا سایہ ہے
بے سایہ وہ نورِ کل رہتا ہے مدینے میں
کملی میں چھپائیں گے ہر اک کو مرے آقا
مزمل و مدثر، طٰہٰ ہے مدینے میں
ہر اک کی تمنا ہے دیدار ہو گنبد کا
ہر ایک کا ماویٰ اور ملجا ہے مدینے میں
بیمار ہو گر کوئی جسمانی یا روحانی
ہر اک کو شفا دینے والا ہے مدینے میں
کیا کہیے نصیب اُن کے رہتے ہیں جو طیبہ میں
بس پیش نظر اُن کے روضہ ہے مدینے میں
تقسیم میں کرتا ہوں دیتا ہے مگر اللہ
ہادیؔ کہو کیا قدرت والا ہے مدینے میں
_______________________________
نتیجۂ فکر ۔ جناب ھادی قادری صاحب
طالب دعا
ایس، اے، برکاتی