Maktab

Maktab مکتب شہد رجسٹرڈ، خالص دیسی شہد، قیمت سب سے کم، کوالٹی س?

03/03/2026

آج کے تناظر میں کچھ لوگ ایران کو پاکستان کے مقابلے میں ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں اور دلیل یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی امریکہ سے اس طرح ٹکر لی ہو تو پتہ چلے، پاکستان تو ہمیشہ امریکہ کے سامنے جھک جاتا ہے، ریمنڈ ڈیوس، مشرف کے اڈے وغیرہ وغیرہ...

پاکستان نے یقیناً امریکی بلاک میں رہتے ہوئے کچھ غلطیاں بھی کیں اور کمزوریاں بھی دکھائیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں پاکستان نے امریکہ سے پنگا نہیں لیا یا اس کو چیلنج نہیں کیا یا اس کے ارادوں کے برعکس عمل نہیں کیا...

اس وقت ایران پر امریکہ اور اس کا طاغوتی نیٹ ورک جس ایک بڑی وجہ کو بنیاد بنا کر چڑھ دوڑا ہے وہ ہے ایران کو جوہری پروگرام حاصل کرنے سے روکنا...

پاکستان نے بھی امریکہ کی مخالفت کر کے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا تھا، ایٹمی پروگرام کی تیاری کی رکاوٹ میں سی آئی اے اور موساد نے ایسے ایسے جال بنے تھے کہ الامان اس کے باوجود پاکستان نے دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بننے کے عزم کو حقیقت میں بدلا...

آپ اپنے حکمرانوں کو جرنیلوں کو جتنا مرضی برا کہہ لیں مگر ایک بات ذہن نشین رہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو، غلام اسحاق خان اور نواز شریف جیسے وزرائے اعظم نہ ہوتے اور جنرل ضیاءالحق جیسا دبنگ جرنیل نہ ہوتا تو آپ ایٹمی طاقت بننے کا خواب بھی دیکھ پاتے یا نہیں...

کسی کے دور میں یہ شروع ہوا تو کسی کے زمانے میں مکمل مگر یہ تینوں شخصیات بجا طور پر داد و تحسین کی مستحق ہیں...

ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت ہر وہ سائنسدان جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی مخلصانہ جدوجہد کی وہ بھی ہمارے ہیرو ہیں...

اس ایٹمی پروگرام کی تیاری کے بعد جب اس کے تجربات کا اہم ترین مرحلہ آیا تو ہمارے مبینہ آقا امریکہ کے صدر نے مبینہ غلام پاکستان کے وزیراعظم کو کال کر کے کہا تھا:

"خبردار جو یہ تجربات کیے، اقتصادی پابندیوں میں جکڑ دیں گے، معاشی بائیکاٹ کر دیں گے"

جب اس دھمکی سے پاکستان کے وزیراعظم نہیں مانے تو پھر پیشکش ہونے لگی:

"پاکستان کے قرضوں میں ریلیف ہو گا، پاکستان کو زبردست معاشی پیکج دیا جائے گا اور وزیراعظم صاحب آپ کو ذرا "پرسنلی" بھی تگڑی رقم ملے گی..."

مگر آپ کے غلام پاکستان نے سخت ترین معاشی حالات اور مستقبل کے معاشی بحران کے شدید خطرے کے باوجود بل کلنٹن کی فون کال یہ کہہ کر کاٹ دی:

"اب بہت دیر ہو چکی ہے"

اور پھر پوری دنیا نے پاکستان کی باغیانہ جرات و شجاعت کے شعلے چاغی سے بلند ہوتے دیکھے...الحمدللہ!

اس لئے ہر وقت اپنے وطن میں مایوسی پھیلا کر دوسروں کو جراتمند دلیر اور نہ جانے کیا کچھ بنا کر پیش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ہم اپنے ملک کی یہ ناقدری کر کے اللہ کریم کی کتنی ناشکری کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں محض 76 سالوں میں وہ مقام دیا ہے جو صدیوں سے قائم مسلم تہذیبوں اور اقوام کو بھی حاصل نہیں ہو سکا...

اس لئے ہم میں برائیاں ہوں گی، ہمارے لیڈران اور جرنیل بھی کمزور ہوں گے مگر ساری برائیاں اور کمزوریاں جمع کر کے دیکھ لو اچھائی اور خیر کا رنگ غالب ہی ملے گا ان شاءالله بس ذرا وابستگی کا چشمہ اتار کے کیونکہ آپ کا وہ چشمہ دور کا ہے نا...🥰

پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

آپ کا بھائی
محمد عبدالودم

03/03/2026
02/12/2025

انتظار کی گھڑیاں ختم
ایرانی مبروم کھجور آگئی ہے

0300 7003300
25/11/2025

0300 7003300

22/08/2025

میسج # 17)

باب: رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہ کرنا،

حدیث:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟

پھر آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کیا پھر (پوری نماز میں) رفع الیدین نہیں کیا۔

اہلحدیث مسلک کے محقق ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے

(سنن نسائی، حدیث 1026،

صفحہ 168، کتاب الافتتاح،

ناشر: مکتبہ المعارف، ریاض)

میسج # 18)

ہمارے میسج # 17 میں جو نماز میں رفع الیدین نہ کرنے کے بارے میں حدیث ہے اس کو علامہ ابن حزم نے صحیح کہا ہے،

اور اس حدیث کے تمام راوی صحیح مسلم والے ہیں اس لیے علامہ ماردینی بھی اسکی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی مسلم کی شرائط کے مطابق ہیں"

(جوہر النقی،

جلد 2، صفحہ 77 او ر 78،

ناشر: تالیفات اشرفیہ، ملتان)

میسج # 19)

حدیث:

اسود تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے تھے پھر پوری نماز میں کسی بھی جگہ نہیں کرتے تھے

(مصنف ابن ابی شیبہ،

جلد1، صفحہ 237،

حدیث 2469،

کتاب الصلاۃ،

باب: جسنے کہا رفع الیدین صرف پہلی تکبیر کے وقت ہے،

ناشر: دارالقبلہ، جدہ)

علامہ ابن ترکمانی فرماتے ہیں

اس حدیث کی سند صحیح ہے

(جوہر النقی،

جلد 2، صفحہ 75،

ناشر: دائرۃ المعارف، حیدر آباد)

15/08/2025

میسج # 15)

حنبلی مسلک کے علماء نے بھی انہی الفاظ کو چھاپا ہے

حوالہ یہ ہے

(مسند حمیدی،

جلد 2، صفحہ 277،

حدیث 614،

ناشر: مکتبہ سلفیہ، مدینہ)

حوالے اور بھی بہت ہیں لیکن ماننے والوں کے لیے اتنے ہی کافی ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے لاکھ بھی کم ہیں، امید ہے کہ حق کو تلاش کرنے والے لوگ ان صحیح احادیث کو ضرور مانیں گے



میسج # 16)

حدیث:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں نماز کےشروع اور درمیان میں رکوع کےوقت رفع الیدین کیا کرتےتھے

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمدینہ کی طرف ہجرت کی تو (ایام اخیرہ میں) نماز کےدرمیان رکوع کےوقت رفع الیدین چھوڑ دیااور نماز کےشروع میں رفع الیدین کرتےرہے

(اخبار الفقہاء والمحدثین

صفحہ 214

ناشر:دارالکتب بیروت)

علامہ ابوشعیب اس حدیث پر ہونےوالے تمام اعتراض کےجواب دےکے کہتےہیں اسکی سند صحیح ہے

(قرۃ العینین

صفحہ164

ناشر: مکتبہ جنید کراچی)

پرائیویسی سے متعلق وضاحتکچھ دنوں سے ایک پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ "فیس بک یا میٹا آج سے...
11/08/2025

پرائیویسی سے متعلق وضاحت

کچھ دنوں سے ایک پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ "فیس بک یا میٹا آج سے ہماری تصاویر اور معلومات استعمال کر سکتا ہے، اگر ہم اپنی اجازت واپس نہ لیں۔"
یہ خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔

✅ فیس بک کی پرائیویسی پالیسیز میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس سے وہ ہماری ذاتی معلومات یا تصاویر بغیر اجازت استعمال کر سکے۔
✅ ایسی پوسٹیں قانون یا پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتیں — صرف آفیشل ذرائع ہی قابلِ بھروسہ ہیں۔
✅ کسی بھی اپڈیٹ کی اطلاع فیس بک خود دیتا ہے، اور آپ ہمیشہ اپنی پرائیویسی سیٹنگز کنٹرول کر سکتے ہیں۔

📎 تفصیلات کے لیے: facebook.com/privacy/policy

ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے معلومات کی تحقیق کر لیا کریں تاکہ ہم بے بنیاد خبروں کا حصہ نہ بنیں۔

شکریہ

یہ کوئی بازار نہیں بلکہ کوٹ چاندنہ کا افغان کیمپ ہے جہاں اپنے وطن واپس جانے والے افغانی اپنا سامان فروخت کر رہے ہیں۔ آج ...
11/08/2025

یہ کوئی بازار نہیں بلکہ کوٹ چاندنہ کا افغان کیمپ ہے جہاں اپنے وطن واپس جانے والے افغانی اپنا سامان فروخت کر رہے ہیں۔

آج کوٹ چاندنہ کیمپ، ضلع میانوالی میں افغانستان واپس جانے والے مہاجرین نے اپنا سامان فروخت کے لئے پیش کیا۔ لوٹ کا مال سمجھ کر لوگ گاڑیاں بھر بھر کر پہنچ گئے۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ سیل نہیں لگی بلکہ افغانی اپنے قیمتی سامان کی مناسب قیمت مانگ رہے ہیں۔
اکثریتی لوگوں کو مایوسی ہوئی لیکن کچھ لوگوں نے مناسب قیمت پر چیزیں خرید لیں۔
عوام سے گزارش ہے افغانی اپنے وطن واپس جا رہے ہیں دہائیوں سے ان کی یہاں سے اچھی یادیں وابستہ ہیں تھوڑے سے فائدے کیلئے ان سے زیادتی نہ کریں۔
کسی مجبور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا نہ تو اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی شرعی طور پر۔

11/08/2025

دیکھیے، بات سیدھی ہے لیکن منافقین اسے الجھا کر اپنا بغض نکال رہے ہیں۔
قبضے کی زمین پر مسجد نہیں بن سکتی اور اگر مجھے علم ہو کہ کوئی مسجد قبضے کی زمین پر بنی ہے تو میں اس میں نماز نہ پڑھوں
لیکن مدنی مسجد کو پہلے قبضے کی زمین پر ثابت تو کیجیے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مسجد پاکستان بننے سے پہلے سے آباد ایک گاؤں کی مسجد تھی۔ اسلام آباد بنایا گیا تو گاؤں ختم ہو گیا لیکن مسجد قائم رہی۔ ازاں بعد اسے حکومت نے نئے سرے سے تعمیر کروایا۔
یہ کیسا قبضہ ہے کہ اس کی تعمیر وفاقی محکمہ کرتا ہے۔
یہ کیسا قبضہ ہے کہ چالیس سال سے قائم ہے۔
یہ کیسا قبضہ ہے کہ اسے بجلی اور پانی جیسی سہولیات حکومت دیتی ہے؟
یہ کیسا قبضہ ہے کہ خطیب کو اوقاف سے تنخواہ ملتی ہے؟
یہ کیسا قبضہ ہے کہ شاہراہ پر قائم ہونے کے باوجود قبضہ ہوتے، تعمیر ہوتے، آباد ہوتے کسی کو نظر ہی نہیں آیا؟
متعلقہ ادارے کہاں مرے ہوئے تھے؟
یہ راتوں رات قبضہ سب کو کیسے نظر آیا؟
اگر حکومت حق پر تھی تو دن کی روشنی میں یہ آپریشن کرتی۔ اخر یہ راتوں رات مسجد شہید کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟
یہ کیسا قبضہ تھا کہ حکومت عوام کو حقائق بتانے کی بجائے پروپیگنڈے سے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔
اور سب سے اہم۔۔۔۔۔۔
ایک اسلامی ملک میں مسجد کے لیے زمین فراہم کرنا کس کا کام ہے؟
پچیس کروڑ مسلمانوں کے دیس میں مذہبی جذبات کی پرواہ کیے بغیر مسجد بلڈوز کر کے کس کو خوش کیا گیا؟
کیا یہ وہی اسلام آباد نہیں جہاں کچھ سال قبل حکومت مندر بنا رہی تھی اور دس کروڑ روپے کے فنڈز بھی جاری کیے تھے حالانکہ اسلام اباد میں مندر کی ضرورت بالکل نہیں تھی جبکہ مساجد کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ایک اسلامی حکومت کی ذمے داریوں میں شرک کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مندر کی تعمیر بھی شامل نہیں۔
یہی ملک ہے کہ جس میں سو سے زائد مندروں کی مرمت کے لیے فنڈز جاری ہوئے تھے۔
اسی ملک کی یہی حکومت بڑے فخریہ انداز میں سینماؤں کی تعمیر کے اعلانات کرتی ہے ۔
یہ دشمنی آخر مساجد سے ہی کیوں ہے؟
اور سب س سے اہم بات۔۔۔۔۔
کسی ملک کا قانون وہاں کی آبادی کی خواہشات کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ کیا پچیس کروڑ مسلمانوں کا قانون یہاں کے مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق ہے؟
آخر یہ کس کی خواہشات کے قوانین ہم پر مسلط کیے جاتے ہیں۔
گنتی کے چند لبرلز کس بنیاد پر اسلامی شعائر پر زبان درازی کرتے ہیں؟
اور پھر اسی روڈ پر ۔۔۔۔۔
گرینڈ حیات ٹاور غیرقانونی ہے۔ کیوں نہیں گرایا گیا؟
اسلام آباد کلب غیر قانونی ہے، کیوں نہی گرایا گیا؟
بہت سے ہوٹلز گرین بیلٹ کی خلاف ورزی میں قائم ہیں، کیوں نہیں گرائے گئے؟
چند قدم اگے حکومت کے بدترین مخالف کا بنی گالہ محل غیر قانونی ہے۔ اسے کیوں نہی گرایا گیا؟
بہت سی ثابت شدہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں ہیں، کیوں مسمار نہیں کی جاتیں؟
ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسجد کے خلاف ایکشن سب سے آخر میں کیا جاتا۔ یہ ترجیحی بنیادوں پر مسجد ہی کیوں شہید کی گئی؟
حقیقت یہ ہے کہ اس دیس میں پچیس کروڑ مسلمان اور ان کے حقوق گنتی کے چند منافق لبرلوں، ملحدوں، دین بیزاروں، اسلام دشمنوں اور منافقوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔

والسلام
امام صافی

11/08/2025

میسج # 14)
اسکے علاوہ صحیح سند کے ساتھ یہی حدیث مسند حمیدی کے مختلف نسخوں میں بھی موجودہے،
ان میں سے کچھ کے حوالے درج ذیل ہیں،

1)
(مسند حمیدی جلد 2،
صفحہ 15، حدیث 614،
ناشر: عالم الکتب، بیروت)
2) اہلحدیث مسلک کے علماء نے انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث اپنے نسخے میں چھاپی ہے
(مسند حمیدی جلد 2،
صفحہ 277، حدیث 614،
ناشر:دارالسلفیہ، ممبئی)
میسج # 15)
حنبلی مسلک کے علماء نے بھی انہی الفاظ کو چھاپا ہے
حوالہ یہ ہے
(مسند حمیدی،
جلد 2، صفحہ 277،
حدیث 614،
ناشر: مکتبہ سلفیہ، مدینہ)

حوالے اور بھی بہت ہیں لیکن ماننے والوں کے لیے اتنے ہی کافی ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے لاکھ بھی کم ہیں، امید ہے کہ حق کو تلاش کرنے والے لوگ ان صحیح احادیث کو ضرور مانیں گے

میسج # 16)
حدیث:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں نماز کےشروع اور درمیان میں رکوع کےوقت رفع الیدین کیا کرتےتھے

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمدینہ کی طرف ہجرت کی تو (ایام اخیرہ میں) نماز کےدرمیان رکوع کےوقت رفع الیدین چھوڑ دیااور نماز کےشروع میں رفع الیدین کرتےرہے
(اخبار الفقہاء والمحدثین
صفحہ 214
ناشر:دارالکتب بیروت)

علامہ ابوشعیب اس حدیث پر ہونےوالے تمام اعتراض کےجواب دےکے کہتےہیں اسکی سند صحیح ہے
(قرۃ العینین
صفحہ164
ناشر: مکتبہ جنید کراچی)

10/08/2025

میسج #6)
2 سجدے کرنے کے بعد دوسری رکعت کی طرف اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کرنا صحیح احادیث سے ثابت تھا مگر اہلحدیث مسلک کے لوگ اس پہ بھی عمل نہیں کرتے،
حدیث:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب 2 سجدوں سے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے
حقق شعیب الارنؤوط نے اس حدیث کو حسن کہا ہے
(شرح مشکل الآثار،
جلد 15، صفحہ 30
حدیث5821،
راوی: حضرت علی رضی اللہ عنہ،
ناشر: موسسۃالرسالہ، بیروت)

میسج #7)
ہر تکبیر کے ساتھ بھی رفع الیدین کرنا نبی علیہ السلام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے
(شرح مشکل الآثار،
جلد 15، صفحہ 46
حدیث 5831،
راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہ
ناشر: موسسۃالرسالہ، بیروت)

حوالہ # 2
(فتح المغیث،
جلد2، صفحہ 360،
ناشر: دارالکتب، بیروت)
محدث ابن قطان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے
(بیان الوہم والإيهام في كتاب الأحكام،
جلد 5، صفحہ 612،
ناشر:دار طیبہ ریاض)



میسج #8)
جب مختلف مقامات پہ رفع الیدین کرنا ثابت ہے تو اہلسنت کیوں نہیں کرتے؟
جواب:
جیسے اسلام کے ابتدائی دور میں شراب پینا اور متعہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت تھا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اسی طرح پہلے رفع الیدین کرنا بھی ثابت تھا مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اس لیے اہلسنت نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے،
دلائل اگلے میسیجز میں ہونگے

میسج # 9)
صرف نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کرنا چاہیئے اسکے بعد پوری نماز میں نہیں کرنا چاہیئے
حدیث:
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے تم سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام نے تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے گئے (یعنی رفع الیدین کیا) اور جب رکوع کیا (تو رفع الیدین نہیں کیا اور) مضبوطی سے گھٹنوں کو پکڑلیا
(صحیح بخاری،
جلد 1، صٖفحہ 165،
حدیث 828، کتا ب الآذان،
باب: تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ
ناشر: دار طوق نجاۃ)


میسج # 10)
پوری نماز میں سکون اختیار کرنا چاہیئےاور رفع الیدین نہیں کرنا چاہیئے
حدیث:
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہو،
نماز میں سکون اختیار کرو
(صحیح مسلم،
کتاب الصلاۃ،
باب الأمر بالسكون في الصلاة،
حدیث 961،
جلد 2، صفحہ 54،
ناشر: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

میسج # 11)

کچھ لوگ 2 الگ الگ احادیث کو ملا کر اعتراض کرتے ہیں کہ
میسج # 10 والی حدیث میں صرف سلام پھیرنے کے وقت رفع الیدین کرنے سے منع کیا گیا ہے حالانکہ یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ اس حدیث میں تنہا نماز پرھنے کا ذکر ہےجبکہ اس حدیث میں جماعت کی نماز کا قصہ ہے،

دونوں احادیث کی سند الگ الگ ہے اس لیے یہ حدیث الگ ہے اور اس حدیث سے پوری نماز میں رفع الیدین کرنے سے منع کرنا ثابت ہوتا ہے

میسج # 12)
مفہوم حدیث:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے
اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین نہیں کرتے تھے اور نہ ہی سجدوں کے درمیان رفع الیدین کرتے تھے
(مسند ابو عوانہ،
حدیث 1572، درجہ صحیح،
کتاب الصلاۃ،
جلد 1، صفحہ 423،
ناشر: دارالمعارفہ، بیروت)

میسج # 13)
ہمارے میسج # 12 والی حدیث کی سندصحیح ہے اور سند پہ اعتراض ہو نہیں سکتا تھا تو کچھ لوگوں نے عوام کہ دھوکہ دینے کیلئے یہ اعتراض کر دیا کہ یہ الفاظ تو اس حدیث میں موجود نہیں ہیں،
حالانکہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے،
یہ حدیث کی کتاب بہت سے مکتبوں سے چھپی ہے، ان میں یہ حدیث کے الفاظ موجود ہیں،
دار المعارفہ بیروت،
دار الکتب العلمیہ بیروت،
دائرۃ المعارف حیدرآباد 1966
کے ایڈیشن میں یہ الفاظ موجود ہیں

Address

Abbottabad
22020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maktab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maktab:

Share