31/03/2024
*ونگار*
اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔
وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی جانا جاتا ھے۔ ونگار کالفظی مطلب
جو میں سمجھا ھوں کہ بلا معاوضہ اجتماعی کام ( مفتا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام مینوئلیManually ھوتے تھے۔ھمارےعلاقہ میں بیلوں کے ذریعے ھل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ھموار کرنا۔ تال وغیرہ۔ گندم اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ھوتا، پڑ پکائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ھوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ھوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار برپا کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے ۔ ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی بلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ھوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان، (کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ھوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ھنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ھو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج موجود ھے لیکن کم کم۔ کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ھے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے بیلوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے بیل اور اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔۔۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔ کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ھم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ھوتا تھا۔ پانی گروٹ کے ٹھنڈے مٹی والے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے میں رکھ کر علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ھم بچوں کی ڈیوٹی ھوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رھنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔
ھمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر " درد"
نے کیا خوب کہا ھے۔۔
"جڈاں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی"
"تینوں "درد" ونگار نہ لبھی
منقول