25/09/2025
*ظلم*: *ایک خاموش وبا*!!!!!!!
جب انسان کا دل دکھ سے بھر جائے اور اس کی زبان پر قفل لگ جائے تو اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہو سکتا اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خاموش رہنے سے ظلم رک جائے گا تو یہ ہماری سب سے بڑی بھول ہے ظلم کی فطرت ہے کہ وہ خاموشی اور بے حسی کو اپنی خوراک بناتا ہے۔ جب تک اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھتی وہ اپنا قد بڑھاتا رہتا ہے
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے میں ظلم اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ عوام کی خاموشی ہوتی ہے۔ ظالم کو اسی خاموشی سے حوصلہ ملتا ہے اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے اس پر کوئی بازپرس نہیں ہو گی یہ خاموشی نہ صرف ظالم کو مزید ظلم پر اکساتی ہے بلکہ مظلوم کے اندر کی امید کو بھی ختم کر دیتی ہےآواز اٹھانا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک انقلاب ہے یہ جبر کی دیواروں کو ہلانے ناانصافی کو بے نقاب کرنے اور مظلوم کی ڈھارس باندھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، "ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل ترین جہاد ہے یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ایک گناہ ہے اور اس کے خلاف بولنا ایک عبادت اس لیے ہمیں اپنی زبانوں کو کھلنے دینا چاہیے ہمیں اپنے خوف کو ایک طرف رکھ کر سچائی کی مشعل روشن کرنی چاہیے ہر ایک لفظ جو ظلم کے خلاف بولا جائے گا، وہ ایک ایک اینٹ کر کے جبر کے محل کو گرائے گا یاد رہے، ظلم بولنے سے ہی رکتا ہےخاموشی اسے صرف پھیلنے کا موقع دیتی ہے
*تحریر*/*سید مرتضیٰ بسمل*
*ٹیٹل*/*ظلم روکے گا بولنے سے*