Tawakkal Tilapia Hatchery

Tawakkal Tilapia Hatchery Producers of quality seed of Tilapia, Pangasius, Indian Major Carps and Chinese Carps

Our Mission is to promote aquaculture by providing quality fish seeds at affordable price

Bookings are still openBook Tilapia Seed Now..0335-5831111 , 0345-5931111
02/04/2026

Bookings are still open

Book Tilapia Seed Now..

0335-5831111 , 0345-5931111

Get ready for Tilapia !!!
31/03/2026

Get ready for Tilapia !!!

جناب راؤ مختار احمد صاحب کو ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدہ پر ترقی پانے اور ڈپٹی ڈائریکٹر شریمپ ریسرچ و ٹریننگ سنٹر تعیناتی پر م...
26/03/2026

جناب راؤ مختار احمد صاحب کو ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدہ پر ترقی پانے اور ڈپٹی ڈائریکٹر شریمپ ریسرچ و ٹریننگ سنٹر تعیناتی پر مبارکباد دی۔ آپ اس سے پہلے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسی سینٹر میں کام کر چکے ہیں۔

جناب غلام قادر چیلہ صاحب کو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی پانے اور ایکواکلچر مال، مظفرگڑھ اور ہیچریز کا چارج سنبھالنے پر...
26/03/2026

جناب غلام قادر چیلہ صاحب کو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی پانے اور ایکواکلچر مال، مظفرگڑھ اور ہیچریز کا چارج سنبھالنے پر مبارک باد دی!
غلام قادر صاحب کا تعلق مظفر گڑھ سے ہی ہے۔ آپ بڑے محنتی اور فرض شناس آفیسر ہیں۔ امید ہے کہ مظفر گڑھ میں ان کی تعیناتی سے اس خطے میں ایکواکلچر کو ترقی حاصل ہو گی۔

22/03/2026

❤️پروفیسر محمدشاہد اقبال:ایک مثالی معلم کی داستانِ حیات❤️

✍️تحریر :پروفیسر محمد مزمل صدیقی

مظفرگڑھ کی علمی و تعلیمی فضا میں اگر کسی ایسی شخصیت کا ذکر کیا جائے جس نے تدریس، انتظام اور سماجی خدمت،تینوں میدانوں میں اپنی ایک منفرد پہچان قائم کی ہو تو پروفیسر محمد شاہد اقبال کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ان اساتذہ میں سے ہیں جنہوں نے علم کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھ کر نسلِ نو کی فکری و عملی تربیت کا فریضہ انجام دیا۔پروفیسر محمد شاہد اقبال ایک معزز سندھو جٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔جس خاندان سے پروفیسر محمد شاہد اقبال کا تعلق ہے، اس کی جڑیں ہجرت کے کٹھن اور صبر آزما سفر سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد ہوشیار پور (انڈیا) سے ہجرت کر کے پہلے ضلع ملتان کی تحصیل کبیر والا کے علاقے سرائے سدھو میں آ کر آباد ہوئے، جہاں انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی محنت، دیانت اور حوصلے سے نئی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ خود بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے پاکستان بننے کے عمل میں اپنی جائیدادیں ، اپنی زمینیں اور اپنی آسائشیں قربان کیں۔ وہ خالی ہاتھ آئے مگر آج جس قدر سکون اور شناخت کے ساتھ باوقار زندگی گزار رہے ہیں، یہ انہی بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ پروفیسر شاہد اقبال صاحب کا خاندان جلد ہی سرائے سدھوسے 1976ء میں علی پور شمالی، یونین کونسل مراد آباد ضلع مظفرگڑھ اٹھ آیا اور تب سے یہیں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔
پروفیسر شاہد اقبال صاحب کے خاندانی پس منظر کا مطالعہ کیا جائے تووہاں علم اور نظم و ضبط کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ آپ کے نانا جی ایک باوقار ہیڈ ماسٹر تھے، جنہوں نے تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا، جبکہ دادا جی پٹواری کے عہدے پر فائز رہے اور اپنی دیانت داری کے باعث علاقے میں عزت و وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ والد محترم چوہدری محمد انورصاحب ایک نہایت سادہ، راسخ العقیدہ اور توکل کرنے والے انسان تھے، جو تجارت اور زمینداری سے وابستہ تھے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے شاہد اقبال کے دل میں محنت، دیانت اور علم کی محبت فطری طور پر پروان چڑھی۔وہ چار بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل خاندان میں سب سے چھوٹے ہونے کے باوجود اپنی لگن اور مستقل مزاجی سے علاقے میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔
پروفیسر محمد شاہد اقبال کی شخصیت میں محنت، استقامت اور خود انحصاری نمایاں اوصاف کے طور پر جلوہ گر ہے۔انھوں نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کبھی حالات کو آڑے نہیں آنے دیا اور مسلسل جدوجہد اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ پروفیسر شاہد اقبال صاحب نے طالب علمی کے زمانے میں محدود وسائل کے باوجود نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھی بلکہ علاقے کے بچوں کو مفت پڑھا کر علم کی روشنی پھیلانے میں بھی مصروف رہے، جو ان کی فطری خدمت پسندی کا مظہر ہے۔وہ اکثر کہتے ہیں کہ محنت کے بغیر نہ علم حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی کردار کی تعمیر ممکن ہے، مسلسل جدوجہد ہی انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکے۔
پروفیسر شاہد اقبال صاحب کی تعلیمی میدان میں کارکردگی شروع ہی سے غیر معمولی رہی۔ 1984 ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول لنگر سرائے سے میٹرک میں ملتان بورڈ میں تیسری پوزیشن کا حصول ان کی غیر معمولی ذہانت اور مسلسل محنت کا پہلا واضح مظہر تھا۔ اس کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے 1986 میں گورنمنٹ ڈگری کالج مظفرگڑھ سے ایف اے کے امتحان میں بھی بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی، جس کے اعتراف میں کالج کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل اور( رول آف آنر) جیسے نمایاں اعزازات سے نوازا گیا۔
1988 ءمیں پروفیسر شاہد اقبال صاحب نے بی اے بھی گورنمنٹ ڈگری کالج مظفرگڑھ سے نمایاں نمبرز کے ساتھ مکمل کیا، اس مرحلے پر بھی انہوں نے اپنی محنت اور لگن کا تسلسل برقرار رکھا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1991 میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی، جہاں ان کی علمی پختگی اور فکری وسعت میں مزید نکھار پیدا ہوا۔انگلش میں اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پروفیسر شاہد اقبال صاحب علم کے ایک نئے اور نسبتاً مختلف میدان یعنی قانون کی طرف انجمن حمایت اسلام لاء کالج لاہور چلے گئے ،جس کا الحاق پنجاب یونیورسٹی لاہور سے تھا۔ وہاں شعبہ قانون میں ان کی دلچسپی فکری وسعت اور علمی تجسس کا واضح اظہار تھی۔ ۔ یہ ایک سوچا سمجھا علمی سفر تھا، جس کا مقصد قانون کے اصولوں، اس کی فکری بنیادوں اور عملی پہلوؤں کو گہرائی سے سمجھنا تھا. لاہور کے علمی ماحول نے ان کی شخصیت میں مزید گہرائی، توازن اور فکری پختگی پیدا کی اور انہیں ایک ہمہ جہت علمی مزاج کا حامل انسان بنادیا۔

پروفیسر شاہد اقبال صاحب نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 2 اپریل 1994 کو بطور ماہر مضمون (Subject Specialist) انگلش گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کڑیاں والا، ضلع گجرات سے کیا۔ تاہم اسی سال ایک مختصر عرصے کے بعد، 3 اکتوبر 1994 کو وہ بطور لیکچرر انگلش گورنمنٹ انٹر کالج رنگ پور سے وابستہ ہوگئے، جہاں سے ان کے تدریسی سفر کا ایک طویل اور شاندار باب شروع ہوا۔ یہ ادارہ بعد ازاں ان کی علمی و انتظامی خدمات کا مرکز بن گیا، جہاں انہوں نے تقریباً 29 سال 6 ماہ تک نہایت خلوص، محنت اور لگن کے ساتھ تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں اور گورنمنٹ انٹر کالج رنگ پور کی درجہ بہ درجہ تعلیمی و انتظامی بہتری میں نہایت اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔پروفیسر شاہد اقبال صاحب کی
جنوری 2011 کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر اور 31 مئی 2018 کو بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر ترقی دراصل ان کی طویل جدوجہد، علمی وقار اور تدریسی تسلسل کا فطری نتیجہ تھی۔ انہوں نے تدریس کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اپنایا اور ہمیشہ طلبہ کی فکری رہنمائی، کردار سازی اور تعلیمی معیار کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
انتظامی ذمہ داریوں میں بھی ان کا انداز منفرد اور نتیجہ خیز رہا۔ 2005 ءسے 2014ء تک بطور وائس پرنسپل اور بعد ازاں 2014 ءسے 2023ء تک بطور پرنسپل انہوں نےگورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج رنگ پور کےنظم و نسق، تعلیمی ماحول اور مجموعی کارکردگی کو ایک واضح سمت دی۔ ان کے دور میں ادارہ محض تعلیمی مرکز نہیں رہا بلکہ ایک فعال، منظم اور نتیجہ خیز تعلیمی ادارے کے طور پر ابھرا۔ان کی پرنسپل شپ کے زمانے میں کالج کے نتائج ضلع بھر میں نمایاں رہے اور نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔
گورنمنٹ کالج برائے خواتین رنگ پور کے قیام اور تعمیر کے سلسلے میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر ان کا کردار نہایت کلیدی اور مؤثر رہا، جہاں انہوں نے منصوبہ بندی سے لے کر عملی تکمیل تک ہر مرحلے میں فعال نگرانی اور رہنمائی فراہم کی۔ بعد ازاں اسی ادارے میں انہوں نے ایک سال بطور انچا رج پرنسپل بھی خدمات انجام دیں اور ادارے کے تعلیمی و انتظامی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نومبر 2023 میں ان کا تبادلہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ ہوا، یہ وہی مادرِ علمی ہے جہاں انہوں نے اپنی انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یوں ایک بار پھر اسی ادارے سے ان کا رشتہ ایک نئے اور باوقار انتظامی منصب کے ساتھ جڑ گیا، جہاں انہوں نے بطور وائس پرنسپل ذمہ داریاں سنبھالیں۔یہ تقرری اس وقت کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب کی جانب سے ان پر بھرپور اعتماد اور ادارے کی بہتری کے لیے ان کی صلاحیتوں کے اعتراف کا مظہر تھی۔ اس موقع پر انہیں نہ صرف انتظامی ذمہ داریاں سونپی گئیں بلکہ ادارے کی اہم قیادت کا حصہ بنایا گیا۔ اس وقت وہ ادارے میں چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف انگلش کے طور پہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں.
مارچ 2025 کو گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر اشرف حسین صاحب کی آمد کے بعد ادارے میں انتظامی تسلسل اور بہتری کے عمل کو مزید تقویت ملی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد اقبال پر اعتماد کا سلسلہ بدستور قائم رہا اور نئی انتظامیہ نے ان کی تعلیمی و انتظامی خدمات، تجربے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی ذمہ داریوں میں مزید توسیع کی۔
اس وقت وہ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ(QEC) سیل,چئیرمین لائبریری کمیٹی اور چیئرمین اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی جیسے اہم اور کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ ادارے میں معیارِ تعلیم کے فروغ، نظم و نسق کی بہتری اور ایک محفوظ و مؤثر تعلیمی ماحول کے قیام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ ادارے میں ان کے کردار اور اعتماد کی مزید توثیق بھی سمجھا جا رہا ہے۔
بطور معلم پروفیسر شاہد اقبال صاحب کا طرز محض نصابی تدریس تک محدود نہیں بلکہ وہ طلباء کی کردار سازی، حب الوطنی اور عشقِ رسول ﷺ کو اپنی تعلیم کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں پروفیسر محمد شاہد اقبال صاحب کہتے ہیں کہ تعلیم کا اصل مقصد محض کتابی علم کی ترسیل نہیں بلکہ ایسی شخصیت کی تعمیر ہے جو اپنے کردار، عمل اور رویّے سے معاشرے میں روشنی اور رہنمائی کا سبب بنے۔اپنے تدریسی تجربات میں وہ ایک نہایت متاثر کن واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں فرسٹ ایئر کے ایک طالب علم کی لکھائی انتہائی کمزور اور غیر واضح تھی۔ انہوں نے اس طالب علم کی انفرادی رہنمائی کرتے ہوئے اسے چار لکیری کاپی پر مسلسل مشق کروائی، حوصلہ افزائی کی اور مرحلہ وار اس کی خامیوں کو دور کیا۔ وقت کے ساتھ نہ صرف اس کی لکھائی بہتر ہوئی بلکہ اس کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، یہاں تک کہ وہی طالب علم بعد ازاں لیکچرر کے منصب پر فائز ہوا۔یہ واقعہ ان کے اس یقین کی واضح مثال ہے کہ ایک مخلص اور باحوصلہ استاد اپنی توجہ، رہنمائی اور لگن سے اپنے شاگرد کی نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ اس کی پوری زندگی کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروفیسر شاہد اقبال تعلیم کو عملی زندگی اور روزگار سے جوڑنے کے قائل ہیں۔ وہ نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا اصل حاصل صرف ملازمت کا حصول نہیں بلکہ ایسی صلاحیتوں اور شعور کی فراہمی ہے جو نوجوانوں کو معاشی طور پر مضبوط اور عملی زندگی میں بااختیار بنا سکے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو اس انداز میں تیار کیا جائے کہ وہ صرف نوکری کے متلاشی نہ رہیں بلکہ خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے والے افراد بنیں۔
سماجی میدان میں بھی پروفیسر محمد شاہد اقبال کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔ مظفرگڑھ میں کمرشل فش فارمنگ کے فروغ اور اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 2013 میں ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، تھائی لینڈ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علاقے میں پہلی تلاپیہ ہیچری کے قیام کی بنیاد رکھی، جو اس شعبے میں ایک اہم اور سنگِ میل پیش رفت ثابت ہوئی .بعد ازاں جنوبی پنجاب میں فش پروسیسنگ یونٹ کے قیام اور جھینگا فارمنگ کے کامیاب تجربات نے ان کی جدت پسندی، عملی سوچ اور ترقی پسند وژن کو مزید اجاگر کیا۔ 2022 میں دوبارہ تھائی لینڈ کے ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پینگاسیئس فش فارمنگ کا آغاز کیا، جس سے نہ صرف اس شعبے میں نئے امکانات پیدا ہوئے بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت ملی۔اس وقت وہ مظفرگڑھ فش فارمرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور مقامی سطح پر فش فارمنگ کے فروغ، فنی رہنمائی اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔پروفیسر شاہد اقبال صاحب کی مساعی کی بدولت مظفر گڑھ فش فارمنگ کے میدان میں ملک بھر میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔مظفر گڑھ میں اس شعبے کو اس قدر فروغ حاصل ہوا ہے کہ حکومت پنجاب نے اس کی مزید ترقی کے لیے 50 ارب روپے کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پروفیسر شاہد اقبال صاحب کی علمی و تحقیقی خدمات قابلِ ذکر ہیں، جہاں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فشریز کے موضوع پر تحقیقی مقالے پیش کیے، جو ان کی ہمہ جہت اور متوازن شخصیت کا واضح ثبوت ہیں۔یوں پروفیسر محمد شاہد اقبال کی زندگی علم، محنت، قیادت اور خدمت کے امتزاج سے بنی ایک روشن اور باوقار داستان کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب استاد اور منجھے ہوئے منتظم ہیں بلکہ ایک ایسے رہنما بھی ہیں جو اپنے عمل، وژن اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے نئی نسل کی فکری و عملی رہنمائی کر رہے ہیں۔
ان کی شخصیت اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ خلوص، محنت اور دور اندیشی کے ساتھ انسان نہ صرف اپنی ذات کو نکھارتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ علم کو خدمت، تدریس کو تربیت اور ذمہ داری کو عبادت سمجھنے والا یہ سفر ان کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
ان کی شخصیت اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ خلوص، محنت اور دور اندیشی کے ساتھ انسان نہ صرف اپنی ذات کو نکھارتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ علم کو خدمت، تدریس کو تربیت اور ذمہ داری کو عبادت سمجھنے والا یہ سفر ان کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.
















Higher Education Department-HED Punjab Rana Sikandar Hayat Muhammad Ajmal Chandia Muhammad Shahid Iqbal

عیدالفطر مبارک!
21/03/2026

عیدالفطر مبارک!

Culinary Guide to Tilapia
06/03/2026

Culinary Guide to Tilapia

22/02/2026
ابھی تلاپیہ کا بچہ بک کروائیں-
21/02/2026

ابھی تلاپیہ کا بچہ بک کروائیں-

Visit of Prof. Dr. Muhammad Latif and Students from University of Education Lahore, Multan Campus to Tawakal HatcheryTaw...
17/02/2026

Visit of Prof. Dr. Muhammad Latif and Students from University of Education Lahore, Multan Campus to Tawakal Hatchery

Tawakal Hatchery had the privilege of hosting Prof. Dr. Muhammad Latif, Head of Department of Zoology, University of Education Lahore, Multan Campus, along with faculty members Dr. Faiza Rao, Mr. Hassan Hameed, Mr. Syed Zain Zaffer Bukhari, Ms. Asma Javaid, and Ms. Saba Saeed, and students of MS and BS Zoology for an academic and industrial exposure visit.

The delegation was warmly received by Dr. Hira Javed, Research Officer, and the dedicated hatchery staff, who provided a comprehensive briefing on the various operational and research activities being carried out at the facility. The session highlighted modern hatchery management practices, with a special focus on the feeding behavior and management of Pangasius, Gift Tilapia, and Catfish.

During the visit, students were given an opportunity to observe practical aspects of aquaculture production, enabling them to connect theoretical knowledge with real-world applications. The faculty members paid special thanks for the excellent hospitality, with a particular highlight being their comment that the "Fish Qeema" was truly the best taste. Interactive discussions were held on current challenges and future prospects of the aquaculture sector in Pakistan, encouraging research-oriented thinking among the participants.

The students greatly appreciated the industrial exposure and commended the management of Tawakal Fish Hatchery for their novelty in work and ambitious future plans. Such academic–industry collaborations are vital for promoting innovation, capacity building, and sustainable development in the fisheries and aquaculture sector.

We look forward to continued collaboration with leading academic institutions to strengthen research, training, and professional development in the field of zoology and aquaculture.

Visit of Prof. Dr. Noor Khan and Students from University of the Punjab to Tawakkal Fish Hatchery Farms and Processing P...
14/02/2026

Visit of Prof. Dr. Noor Khan and Students from University of the Punjab to Tawakkal Fish Hatchery Farms and Processing Plant

Tawakkal Fish Hatchery Farms and Processing Plant had the privilege of hosting Prof. Dr. Noor Khan, Institute of Zoology, University of the Punjab, Lahore, along with students of PhD, MPhil, and BS Zoology for an academic and industrial exposure visit.

The delegation was warmly received by Ch. Zafar Iqbal, Director, and Ms. Hira Javed, Research Officer, who provided a comprehensive briefing on the various operational, research, and processing activities being carried out at the facility. The session highlighted modern hatchery management practices, seed production techniques, water quality management, feed utilization, disease control strategies, and value-added fish processing operations.

During the visit, students were given an opportunity to observe practical aspects of aquaculture production and processing, enabling them to connect theoretical knowledge with real-world applications. Interactive discussions were held on current challenges and future prospects of the aquaculture sector in Pakistan, encouraging research-oriented thinking among the participants.

The management of Tawakkal Fish Hatchery expressed gratitude to Prof. Dr. Noor Khan and his students for their keen interest and active participation. Such academic–industry collaborations are vital for promoting innovation, capacity building, and sustainable development in the fisheries and aquaculture sector.

We look forward to continued collaboration with leading academic institutions to strengthen research, training, and professional development in the field of zoology and aquaculture.

Address

18 KM, Jhang Road, Muzaffar Garh, Punjab
Alipur Janubi
34400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tawakkal Tilapia Hatchery posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tawakkal Tilapia Hatchery:

Share

Category