12/10/2026
اس تصویر میں دو شخصیات ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہیں۔ ایک پاکستان کا وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور دوسرے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر۔ یہ تصویر صرف ایک دورے کی نہیں، بلکہ آج کے پاکستان میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی عکاس ہے۔
میاں محمد شہباز شریف - وزیرِ اعظم پاکستان
میاں شہباز شریف کا تعلق لاہور کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ آپ اپنے انتظامی امور اور "شہباز سپیڈ" کے حوالے سے مشہور ہیں۔ تین مرتبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں۔ آپ کا زیادہ زور ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر، اور معیشت کی بحالی پر رہتا ہے۔ موجودہ حکومت میں آپ کا چیلنج مہنگائی پر قابو پانا، آئی ایم ایف پروگرام کو سنبھالنا اور بیرونی سرمایہ کاری لانا ہے۔
جنرل سید عاصم منیر - چیف آف آرمی سٹاف
جنرل سید عاصم منیر 29 نومبر 2022 کو پاکستان کے 17ویں آرمی چیف بنے۔ آپ حافظِ قرآن ہیں اور آپ کا تعلق فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے ہے۔ آپ اس سے پہلے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور ڈی جی آئی ایس آئی (ISI) جیسے اہم عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں۔ آرمی چیف بننے کے بعد آپ نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، ملک میں امن و امان اور SIFC (خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل) کے ذریعے معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دی ہے۔
سول ملٹری ہم آہنگی:
پاکستان کی تاریخ میں جب بھی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر رہی ہے، ملک نے ترقی کی ہے۔ اس تصویر میں دونوں کا فوجی وردیوں کے درمیان عام کپڑوں میں ساتھ چلنا اس بات کا پیغام ہے کہ جمہوری حکومت اور افواجِ پاکستان ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک ساتھ ہیں۔ وزیرِ اعظم ملک کو سیاسی اور معاشی محاذ پر آگے لے کر جا رہے ہیں، جبکہ آرمی چیف سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی استحکام کو یقینی بنا رہے ہیں۔
آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے - چاہے وہ معیشت ہو، دہشت گردی ہو یا خطے کی صورتحال - ان کا مقابلہ صرف اسی اتحاد سے ممکن ہے۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم اور ایک پیشہ ور آرمی چیف کا یہ اشتراک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ قوم کی امید ہے کہ یہ دونوں قیادتیں مل کر پاکستان کو قائدِ اعظم کے خواب کے مطابق ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال ریاست بنائیں گی۔