08/03/2026
خیبر پختونخوا حکومت کے نام ایک گزارش
میں آصف علی خان، بانی Khpal Bazaar (ایک B2B ریٹیل اسٹارٹ اپ)، گزشتہ چند سالوں سے خیبر پختونخوا میں دکانداروں اور FMCG کمپنیوں کے سیلز مین کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے قریب سے دیکھا ہے کہ سیلز مین ہمارے ریٹیل سسٹم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں، مگر بدقسمتی سے یہی طبقہ سب سے زیادہ مالی دباؤ کا شکار ہے۔
زیادہ تر سیلز مین کی ماہانہ تنخواہ 15 ہزار سے 30 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ انہیں روزانہ درجنوں دکانوں کا دورہ کرنے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرنا پڑتی ہے، جبکہ اکثر صورتوں میں پیٹرول کا خرچ بھی انہیں اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ خرچ ان کے لیے ایک بہت بڑا بوجھ بن چکا ہے۔
میری خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست ہے کہ FMCG کمپنیوں کے سیلز مین کے لیے مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے۔ اس اقدام سے:
سیلز مین کے مالی اخراجات کم ہوں گے
کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا
نوجوانوں کے لیے روزگار برقرار رکھنا آسان ہوگا
اور صوبہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی طرف بڑھے گا
ہزاروں سیلز مین روزانہ مارکیٹ کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان کی مدد کرے تو یہ قدم نہ صرف ان کے لیے بلکہ صوبے کی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔