29/01/2026
(رپورٹ: محمد عمیر)
*چارسدہ میں تعلیمی ادارہ میدان جنگ بن گیا، ٹک ٹاک عناد پر طالبعلم کا قتل، سکولوں میں اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے؟*
چارسدہ کے تحصیل تنگی میں تھانہ مندنی کی حدود میں واقع علامہ اقبال پبلک سکول میں افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے نے پورے شعبہ تعلیم کو بدنام کردیا، جہاں تعلیم حاصل کرنے والا خون میں نہا گیا۔ نویں جماعت کے طالبعلم 17 سالہ سلمان ولد فریداللہ شاہ ساکن جمال آباد کو سکول کے اندر دسویں جماعت کے طالبعلم فیضان ولد عمران ساکن جولاگانوں باڑی بند نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا۔ زخمی طالبعلم سلمان کو فوری طور پر جمال آباد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور ریفر کردیا گیا۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ بعدازاں لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے واپس جمال آباد ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کی وجہ عناد ٹک ٹاک بتائی جا رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے کم عمر طلبہ کو کس قدر عدم برداشت، تشدد اور مجرمانہ سوچ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ والدین، سکول انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی غفلت اور لاپرواہی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طالبعلم سکول کے اندر اسلحہ لیکر کیسے داخل ہوا؟ کیا سکول میں کسی قسم کی تلاشی یا نگرانی کا نظام موجود تھا؟ اگر تھا تو ناکام کیوں ہوا؟ تعلیمی ادارے تو کردار سازی، برداشت اور علم کے مرکز ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ایسے واقعات انہیں خوف، تشدد اور موت کے مراکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام، معاشرتی اقدار اور ریاستی نگرانی کی شرمناک ناکامی ہے۔ مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ سکول انتظامیہ اور سیکیورٹی کی غفلت کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ تعلیمی اداروں میں اسلحہ کی روک تھام کیلئے سخت سیکیورٹی SOPs نافذ کی جائیں اور سوشل میڈیا کے غلط اور خطرناک استعمال کے خلاف بھی حکمت عملی اپنائی جائے۔