Al-Karam Food

Al-Karam Food Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Karam Food, Food & Drink, Dera Ismail Khan.

06/07/2023
14/02/2023

ایک شادی شدہ لڑکی اپنی ماں کے پاس آئی اور کہا میں اپنے شوہر کو اب ایک منٹ برداشت نہیں کر سکتی. روز روز کے جھگڑوں سے میں تنگ آگئی ہوں. میرا دل کرتا ہے اسے مار دوں لیکن قانون سے ڈر لگتا ہے کہ میری بھی زندگی برباد ہو جائے گی. ماں نے کہا یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے. میں تمہیں ایک زہر دیتی ہوں یہ آہستہ آہستہ کام کرتا ہے. روزانہ اسے تھوڑا تھوڑا کھانے میں دینا. بس کھانا لذیذ بنانا کہ اسے شک نہ ہو.

لڑکی خوش ہوگئی. ماں نے کہا لیکن تمہارے گھر روزانہ جھگڑے ہوتے ہیں سارا خاندان جانتا ہے تمہاری نہیں بنتی. شک پھر بھی تم پر جائے گا تو جتنے عرصے میں یہ زہر کام کرے گا تم گھر کا ماحول بدل دو. پیار و محبت سے رہو گھر میں امن و شانتی بناو. بچارا کچھ عرصے کا مہمان ہے اس پر شک نہ کرو بے جا فرمائشیں نہ کرو خود کو بنا سنوار کر رکھو. میٹھی زبان استعمال کرو. تاکہ نہ شوہر کو نہ اس کے خاندان کو بعد میں شک ہو کہ اس کی موت کی ذمہ دار تم ہو.

لڑکی نے کہا ہاں کچھ عرصہ کیلئے میں یہ کر لوں گی. وہ زہر کی پڑیا لے گئی. مہینے بعد وہ آئی اور ماں سے کہا اس زہر کا کوئی توڑ ہے؟ ماں نے کہا کیوں؟ لڑکی نے کہا میں نے چند دن اسے پابندی سے زہر دیا لیکن وہ تو بہت بدل گیا میرا اتنا خیال رکھتا ہے مجھے اتنی محبت اس نے دی کے میں شرمندہ ہوگئی یہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں. ماں میں اسے چند دن زہر دے چکی ہوں اب کیا ہوگا؟ ماں نے کہا کچھ نہیں ہوگا وہ ہاضمے کا چورن تھا. اس کی زندگی میں زہر تو تم تھی.

کسی رشتے میں یہ زہر میاں ہوگا کسی میں بیوی لیکن خاندان میں بڑے بزرگ بہرحال ہاضمے کے وہ چورن ہوتے ہیں جو رشتے کی اس ہانڈی کو ذائقہ اور جینے کا سلیقہ دیتے ہیں.

ریاض علی خٹک

13/02/2023

. محرومی بمقابلہ مواقع ،
قومیں محرومی سے مواقع کشید کرتی ہیں ۔

ایک فروٹ کنسنٹریٹر بنارہے ہیں.. ہائی ٹمپریچر مکینیکل سیل درکار تھی. دکاندار نے کہا سٹاک ختم ہے. نیامال نہیں آرہا.
…. کب تک ملیں گی.
کچھ پتہ نہیں سر….. اس نے بے یقینی سے جواب دیا.

بہت سی دکانیں دیکھیں سب نے ایک سا جواب دیا. سینکڑوں نہیں ہزاروں اشیاء کا سٹاک ختم ہے. اور ہزاروں ہی کنٹینرز گودیوں پر کھڑے ہیں. زرمبادلہ نہیں ہے.

ماں مررہی ہو تو اچھے بیٹے کیا کرتے ہیں.. سب کام چھوڑ چھاڑ ہسپتال پہنچ جاتے ہیں. سارے وسائل مہیا کرتے ہیں… ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا.

ان ہزاروں اشیاء میں سے کہ جن کا سٹاک ختم ہے پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ ملک میں بنائی جاسکتی ہیں. سب تھوک بازار کی ایسوسی ایشن کے نمائندے اگر چاہیں تو ان سب اشیاء کی لسٹیں صنعتی اداروں کی ایسوسی ایشنز کو دیں. ہزاروں صنعتی ادارے بھی کام نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں یا کم استعداد پر چل رہے ہیں. وہاں ان اشیاء کی تیاری پر کام ہو. جو سرکار کے ادارے صنعتوں کی تکنیکی معاونت کے لیے بنائے گئے ہیں ان کے ماہرین صنعتی اداروں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ مل جائیں… سالوں نہیں، مہینوں نہیں ہفتوں میں بخدا ہفتوں میں سینکڑوں اشیاء مقامی طور ڈویلپ ہوجائیں گی.

سب سے بڑا فائدہ اس ایکٹویٹی کا یہ ہوگا کہ مایوسی کی سیاہ چادر جو سارے نظام پرتنی ہے اس میں سوراخ ہوں گےامید کی کرنیں مایوس چہروں پر زندگی کے رنگ بکھیریں گی. اور آئندہ کے لیے بہت سی اشیاء مقامی طور پر بنتی رہیں گی.. بہت سا زر مبادلہ جو باہرجاتا ہے ضروری کاموں پر صرف کرنے کے لیے دستیاب رہے گا. یقین کریں ذرا سی حکمت اور اجتماعی کاوش سے اس بڑی محرومی کو ایک گولڈن اپرچونیٹی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے.

( ابن فاضل )

11/02/2023

تقدیر کیا ہے؟؟؟
نوشتہ تقدیر

غلامی، غربت، پس ماندگی اور جہالت پر راضی کرنے کے لیے نہ معلوم کن زمانوں سے انسانوں کے بالاتر طبقات نے نوشتہ تقدیر کا فلسفہ تراش کر غلاموں کو غلامی پر رضا مند رہنے کا درس دینا شروع کیا جو ہر دور میں جاری رہا. اسلامی تاریخ میں آغاز ملوکیت سے امت مسلمہ کے عقائد میں جو پہلی دراندازی ہوئی وہ اسی فلسفہ تقدیر کی تھی، جس کا درس یہ تھا کہ اللہ نے جس کی قسمت میں حکمرانی، بادشاہی، وسائل کی فراوانی، اقتدار و اختیار کی بے پناہی لکھ دی ہے اسے نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے نہ تبدیل. یہ فلسفہ جبرا مسلط ہوجانے والے حکمران خاندانوں کو تحفظ فراہم کرتا تھا، اس لئیے اسے مذہبی روایات سے بھی مبرہن کیا گیا. جس قوم کو لیس للإنسان إلا ما سعی اور ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بأنفسهم کے دائمی قواعد کلیہ دئیے گئے تھے اور جن کے نبی نے کبھی تقدیر پر بھروسہ کر کے عمل میں کوتاہی نہیں کی اور کبھی کسی ناکامی کو نوشتہ تقدیر کہہ کر ذمہ داری سے گریز نہیں کیا اسی کے ماننے والوں نے ایک مکمل فلسفہ تقدیر وضع کر کے اسے کتاب و سنت کے عنوان سے مارکیٹ کر دیا.
اقبال نے یہی تو کہا تھا
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

تقدیر ایک سانچے کا نام ہے. اس سانچے کے اندر انسانی تگ وتاز کا وسیع میدان ہے اور یہی انسان کا دائرہ اختیار ہے. ہم بالعموم تقدیر کو جبر کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ تقدیر ایک مکمل پیکج کا نام ہے جس میں جبر و اختیار دونوں کا امتزاج ہے. جن پہلوؤں سے انسان مجبور ہے ان کو کسی کوشش سے تبدیل نہیں کر سکتا اور ان کے بارے میں وہ ذمہ دار ہے نہ جواب دہ مثلاً کوئی شخص کس زمانے میں، کن ماں باپ کے گھر پیدا ہوگا، رشتہ دار اور بہن بھائی کون ہونگے . یہ تقدیر میں جبر کا پہلو ہے جسے کسی سعی و کاوش سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا. لیکن کسی شخص کی تعلیم کیا ہوگی، ذرائع معاش کیا ہونگے، رزق کتنا ملے گا، عمر کتنی ہوگی، تندرستی اور بیماری سے کتنا سابقہ ہوگا، کوئی قوم باعزت، آزاد اور خوش حال ہوگی یا کمتر، غلام اور فلاکت زدہ یہ سب فرد اور قوم کے اختیارات کے پہلو ہیں جنہیں محنت سے تبدیل کیا جا سکتا ہے تاہم ہر چیز کی ایک انتہائی حد ہوتی ہے جس سے ماورا جانا ممکن نہیں ہوتا. ان دونوں یعنی جبر و اختیار کے مجموعے کو تقدیر کہتے ہیں.
وما تشاؤون الا ان یشاء اللہ

بعص لوگ اس آیت کو انسان کے مجبور محض ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ھیں ۔
لیکن
یہ استدلال قطعا غلط ھے کیونکہ آیت میں انسانی مشیت سے مشیت عمل مراد ھے اور الوہی مشیت سے مشیت خلق ۔
جو بچے نہیں سمجھے وہ یوں سمجھیں کہ اگر کوئ شراب پیتا یا بدکاری کرتا ھے تو یہ مطلب نہیں کہ اللہ اس سے یہ گناہ کروانا چاہتا تھا سو اس بے چارے نے کر لئے بلکہ اس کا مطلب یہ ھے کہ اگر اللہ نے شراب یا بدکاری کے اعضاء اور صلاحیت نہ پیدا کی ہوتی تو کوئ ایسا کام نہ کر سکتا یعنی ہم روٹی تب کھا سکتے ہیں کہ اللہ نے وہ کھانے کے لئے پیدا کی ھے اور پتھر نہیں کھا سکتے کہ اللہ نے کھانے کے لئے نہیں پیدا کئے
اسی کو کہا جاتا ھے
خلق شر شر نہیں کسب شر شر ھے اللہ کی مشیت کا تعلق تخلیق سے ھے اور انسانی مشیت کا تعلق عمل سے پس کوئ انسان مجبور نہیں ۔
انسانی اختیار پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ انسان کا ہر عمل کسی نہ کسی خیال کے تحت ہوتا ہے اور خیال کا منبع اللہ کی ذات ہے. جب کسی عمل کا منبع اور مصدر ہمارے اختیار میں نہیں تو عمل محض خیال کا نتیجہ ہے. اس کے بارے میں ہم لاکھ کہیں کہ وہ ہمارے اختیار سے ہے لیکن جب گہرائی میں جائیں گے اور اپنے آپ کو کسی خیال کے زیر اثر پائیں گے جو ہمارے دائرہ اختیار سے باہر تھا تو ہم با اختیار کیسے ٹھہرے. غالبا یہی وجہ ہے کہ رازی ایسے متکلم بھی جبر کے قائل ہیں. لیکن أمر واقعہ اس سے مختلف ہے اور وہ یہ کہ انسان نے خیال کے منبع و مصدر پر سائنس اور فلسفہ کے حوالے سے جس قدر غور کیا اسے معلوم نہیں ہو سکا کہ خیال کہاں سے آتا ہے؟ البتہ کتاب اللہ نے یہ گتھی سلجھا دی ہے اور وہ یوں کہ یہ بات درست ہے کہ خیال کا منبع اللہ کی ذات ہے لیکن انسانی دماغ میں کبھی بھی خیال کی ایک جانب نہیں آتی، جب تک وہ خیال ہوتا ہے اس کی دونوں جانب ___کروں یا نہ کروں _انسانی ذہن پر دستک دیتی ہیں. اسی کو قرآن نے کہا ہے
فالھمھا فجورھا و تقواها
یہ دوگونہ خیال انسان کی پیشانی سے ٹکراتا ہے جسے قرآن نے آخذ بناصیتھا سے تعبیر کیا ہے. سائنس یہ بتاتی ہے کہ انسان کی پیشانی پر ایک Receptive وصول کنندہ آلہ یا انٹینا لگا ہوتا ہے، جو اس دو پہلو خیال کو وصول کرتا ہےپھر انسان ان دونوں پہلوؤں پر غور کر کے کسی ایک پہلو پر عمل کرتا ہے جو انسان کے اختیار میں ہے، اسی لیے خیالات پر بازپرس ہے نہ سزا بشرطیکہ غیر اختیاری ہوں. انسانی پیشانی میں لگے انٹینا کو تصوف کے تمام سلسلے بہت اہمیت دیتے ہیں. یہی تیسری آنکھ، سلطان الأذكار کا لطیفہ باطنی ہے اسی لئے عبادت اور عبودیت کی انتہا یہی ہے کہ انسان کے منبع اختیار کو خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز کر دیا جائے. یہی قرب الہی کا بلند ترین مقام اور اللہ سے سرگوشی کی کیفیت ہے.
( طفیل ہاشمی)

Address

Dera Ismail Khan

Telephone

+923317910670

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Karam Food posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al-Karam Food:

Share

Category