26/04/2026
*سنن إبن ماجة # ٢٤١٤*
*Sunan Ibn Majah # 2414*
عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ» .*
Narrated Ibn 'Umarؓ that *the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever dies owing a Dinar or a Dirham, it will be settled from his good deeds, for there will be no Dinar or Dirham (in the Hereafter).”*
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے ذمہ (قرض کا) کوئی دینار یا درہم تھا، تو وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا، (کیونکہ) وہاں (آخرت میں) کوئی دینار یا درہم نہیں ہوگا۔"*
_*(اس حدیثِ مبارکہ میں حقوق العباد کی اہمیت اور قرض کی ادائیگی میں کوتاہی پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ موت کے بعد مالی معاملات ختم نہیں ہوتے، بلکہ ان کا بوجھ انسان کی روح پر باقی رہتا ہے۔ چونکہ آخرت کا میدان کوئی تجارتی منڈی نہیں جہاں روپیہ پیسہ چلے، اس لیے وہاں کا تبادلہ "نیکیوں" کی صورت میں ہو گا۔ اگر کسی نے دنیا میں کسی کا حق مارا ہو گا یا قرض ادا نہیں کیا ہو گا، تو قیامت کے دن اس کی محنت سے کمائی ہوئی نیکیاں اس قرض کے بدلے صاحبِ حق کو دے دی جائیں گی، جو کہ ایک مؤمن کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے۔ اللہﷻ ہمیں توفیق دے کہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے تمام مالی معاملات کو صاف کر لیں تاکہ آخرت میں مفلسی اور شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آمین)*_