Asma wahab

Call Directions Website Contact the business
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 55سورۃ البقرہ — آیات نمبر 109 تا 111🌸 آیت نمبر 109وَدَّ...
05/10/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 55
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 109 تا 111
🌸 آیت نمبر 109
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
آسان ترجمہ:
اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ حق واضح ہو جانے کے باوجود اپنے دل کے حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا دیں۔ پس تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
اہلِ کتاب میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں نبی اکرم ﷺ اور اسلام کے بارے میں حسد اور عناد پیدا ہو گیا تھا۔ حق ان کے سامنے واضح ہو چکا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ مسلمانوں کو ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے جواب میں صبر، عفو اور درگزر کا حکم دیا۔
یہاں ہمارے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے کہ دوسروں کی مخالفت، حسد یا برے رویے کے جواب میں ہم اپنا ایمان، اپنا اخلاق اور اپنی راہ نہ چھوڑیں۔
جو شخص حق پر قائم ہو، اسے دوسروں کے حسد سے اپنے راستے سے نہیں ہٹنا چاہیے۔
🌸 آیت نمبر 110
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
آسان ترجمہ:
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
پچھلی آیت میں مخالفین کے رویے کے مقابلے میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی، اور اب مسلمانوں کو ان کے اصل کام کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے:
نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور نیک اعمال کرتے رہو۔
انسان جو نیکی دنیا میں کرتا ہے، وہ حقیقت میں اپنے ہی آخرت کے لیے آگے بھیج رہا ہوتا ہے۔
کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ انسان شاید اپنی نیکی کو بھول جائے، لوگ بھی اسے بھول جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے پاس اس کا اجر محفوظ ہے۔
🌸 آیت نمبر 111
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
آسان ترجمہ:
اور وہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ ان کی محض آرزوئیں ہیں۔ کہہ دیجیے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔
🌿 مختصر تفسیر:
یہاں اہلِ کتاب کے اس دعوے کا ذکر کیا گیا ہے کہ صرف انہی کے گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جنت میں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعوے کو محض آرزو قرار دیا، کیونکہ جنت کسی نسلی، گروہی یا محض دعوے کی بنیاد پر نہیں ملتی۔
اسی لیے فرمایا گیا:
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ
"کہہ دیجیے: اپنی دلیل پیش کرو۔"
یعنی دین کے معاملے میں محض خواہش یا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ دلیل اور حق کی پیروی ضروری ہے۔
🌿 آج کی آیات سے اہم سبق
🔹 حق واضح ہونے کے بعد حسد انسان کو قبولِ حق سے روک سکتا ہے۔
🔹 دوسروں کے حسد اور مخالفت کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
🔹 برے رویے کا جواب ہمیشہ برائی سے دینا ضروری نہیں؛ بعض مواقع پر عفو و درگزر بہترین راستہ ہے۔
🔹 نماز اور زکوٰۃ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہیں، انہیں مضبوطی سے قائم رکھنا چاہیے۔
🔹 ہر نیکی جو ہم اپنے لیے آگے بھیجتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، اس لیے نیکی صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
🔹 جنت محض خواہشات اور دعووں سے حاصل نہیں ہوتی۔
🔹 دین کے کسی دعوے کے لیے دلیل ضروری ہے۔
🔹 کسی گروہ، خاندان یا نسبت پر فخر کرنے کے بجائے اپنے ایمان اور اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔
🌸 آج کا پیغام
دوسروں کے حسد کو اپنی پریشانی نہ بنائیں، بلکہ اپنے ایمان اور اپنے اعمال کی حفاظت کریں۔
لوگ آپ کے بارے میں کچھ بھی کہیں، اگر آپ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں، نماز قائم کریں، نیکی کرتے رہیں اور حق پر ثابت قدم رہیں تو آپ کا اصل سرمایہ محفوظ ہے۔
اور یاد رکھیے:
ہم دنیا میں جو نیکی اللہ کے لیے آگے بھیجتے ہیں، وہی آخرت میں ہمارے کام آئے گی۔
🤲 اے اللہ! ہمیں حسد، بغض، تعصب اور تکبر سے محفوظ فرما۔ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری نمازوں، نیکیوں اور تمام اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے جنت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 54سورۃ البقرہ — آیات نمبر 106 تا 108🌸 آیت نمبر 106مَا ن...
04/10/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 54
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 106 تا 108
🌸 آیت نمبر 106
مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
آسان ترجمہ:
ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے؟
🌿 نسخ سے کیا مراد ہے؟
نسخ کے لغوی معنی ہیں: نقل کرنا، مٹا دینا یا ایک چیز کی جگہ دوسری چیز لانا۔
شرعی اصطلاح میں نسخ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق کسی سابقہ شرعی حکم کو اٹھا کر اس کی جگہ نیا حکم نازل فرمائے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور کامل اختیار کا حصہ ہے۔
جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں بعض ایسے احکام تھے جو بعد میں آنے والی شریعتوں میں تبدیل کر دیے گئے۔ اسی طرح شریعتِ محمدی ﷺ میں بھی بعض احکام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بعد میں نیا حکم نازل فرمایا۔
📌 نسخ کی اقسام کے بارے میں علماء نے تفصیل بیان کی ہے اور اس کی تعداد میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی کتاب الفوز الکبیر میں قرآنِ کریم کے منسوخ احکام کی تعداد پانچ بیان کی ہے۔
🌿 نسخ کی مختلف صورتیں
علماء نے نسخ کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں:
🔹 نسخِ حکم:
پہلے حکم کو اٹھا کر اس کی جگہ دوسرا شرعی حکم دے دیا جائے۔
🔹 نسخِ تلاوت کے ساتھ حکم کا باقی نہ رہنا:
ایسی صورت جس میں سابقہ تلاوت بھی باقی نہ رہے اور اس کا شرعی حکم بھی باقی نہ رہے۔
🔹 نسخِ تلاوت اور حکم میں فرق:
بعض روایات میں ایسی صورت کا ذکر ملتا ہے جس میں تلاوت باقی نہ رہی لیکن حکم کے باقی رہنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ مسائل علومِ قرآن اور اصولِ فقہ کے تفصیلی مباحث سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان میں علماء کی بیان کردہ تفصیلات اور دلائل کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
🌸 آیت نمبر 107
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
آسان ترجمہ:
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔
🌿 مختصر تفسیر:
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا حقیقی مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے جو حکم چاہتا ہے، اپنی کامل حکمت کے مطابق مقرر فرماتا ہے۔
اس لیے کسی حکم کا تبدیل ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار کے خلاف نہیں۔ وہ مالکِ کائنات ہے، اس کے فیصلے اس کے علم اور حکمت پر مبنی ہیں۔
انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے، کیونکہ حقیقی مددگار اور کارساز صرف وہی ہے۔
🌸 آیت نمبر 108
أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
آسان ترجمہ:
کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح کے سوالات کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے کیے گئے تھے؟ اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے، وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
🌿 مختصر تفسیر:
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار ایسے سوالات کیے جن میں بعض اوقات ضد، غیر ضروری مطالبات اور حکم سے بچنے کا انداز پایا جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرماتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ سے بھی ایسے سوالات نہ کیے جائیں جو محض اعتراض، ضد یا سرکشی کی بنیاد پر ہوں۔
علم حاصل کرنے کے لیے سوال کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن حق واضح ہو جانے کے بعد محض بحث، اعتراض یا حکم سے بچنے کے لیے سوالات کرنا انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
🌿 آج کی آیات کا اہم پیغام
🔹 اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ اپنے احکام اپنی کامل حکمت اور مصلحت کے مطابق مقرر فرماتا ہے۔
🔹 شرعی احکام میں نسخ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے سامنے ایمان اور اطاعت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
🔹 علم حاصل کرنے کے لیے سوال کرنا درست ہے، لیکن ضد اور سرکشی پر مبنی سوالات سے بچنا چاہیے۔
🔹 حق واضح ہو جانے کے بعد غیر ضروری اعتراض انسان کو حق سے دور کر سکتا ہے۔
🔹 حقیقی ولی، مددگار اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
🔹 ایمان کی حفاظت صرف دعویٰ سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے اطاعت و تسلیم سے ہوتی ہے۔
🌸 ہمارے لیے عملی سبق
آج کے دور میں بھی انسان کے لیے ایک بڑا امتحان یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سامنے آ جائے تو ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے سوال کرتے ہیں، یا صرف بحث، اعتراض اور اپنی خواہش کو درست ثابت کرنے کے لیے؟
مومن کا راستہ یہ ہے کہ وہ علم حاصل کرے، سوال کرے، بات کو سمجھے اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے دل سے قبول کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا ایمان عطا فرمائے جو صرف زبان تک محدود نہ ہو بلکہ ہماری زندگی، ہمارے عمل اور ہمارے اخلاق میں بھی نظر آئے۔ آمین۔ 🤲🌸

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 53سورۃ البقرہ — آیات نمبر 103 تا 105🌸 آیت نمبر 103وَلَو...
02/10/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 53
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 103 تا 105
🌸 آیت نمبر 103
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
آسان ترجمہ:
اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا بہترین ثواب ان کے لیے کہیں بہتر ہوتا، کاش وہ جانتے ہوتے۔
🌿 مختصر تفسیر:
اس آیت میں واضح کیا گیا کہ اصل کامیابی ایمان اور تقویٰ میں ہے۔ انسان اگر دنیاوی فائدوں، باطل طریقوں یا وقتی کامیابیوں کے بجائے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کی نافرمانی سے بچے تو اللہ کے ہاں اس کے لیے بہترین اجر ہے۔
دنیا کی کوئی بھی کامیابی اللہ تعالیٰ کے اجر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
🌸 آیت نمبر 104
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
آسان ترجمہ:
اے ایمان والو! نبی اکرم ﷺ سے راعنا نہ کہا کرو، بلکہ انظرنا کہا کرو اور توجہ سے سنو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
🌿 اہم بات:
راعنا کے معنی تھے: ہمارا لحاظ کیجیے، ہماری طرف توجہ فرمائیے۔
جب صحابہ کرامؓ یہ لفظ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے تو ان کی مراد ادب کے ساتھ توجہ دلانا ہوتی تھی۔ لیکن بعض یہودی بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو بگاڑ کر ایسے معنی میں استعمال کرتے تھے جس میں اہانت کا پہلو نکلتا تھا۔
وہ راعینا وغیرہ کہہ کر اپنی زبان سے توہین اور تمسخر کا مقصد حاصل کرتے تھے، جیسے وہ سلام کے بجائے السام علیکم کہتے تھے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا جس میں غلط معنی یا اہانت کا شائبہ پیدا ہو سکتا ہو اور اس کے بجائے انظرنا کہنے کی ہدایت فرمائی۔
🌿 اس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے:
ایسے الفاظ جن میں تنقیص، اہانت یا غلط مفہوم کا احتمال ہو، ادب و احترام اور سدِّ ذرائع کے طور پر ان سے بچنا چاہیے۔
🌸 آیت نمبر 105
مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
آسان ترجمہ:
اہلِ کتاب کے کافر اور مشرک یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل ہو، حالانکہ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
انسانوں کی خواہشات، حسد اور مخالفت اللہ تعالیٰ کے فضل کو روک نہیں سکتے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کے لیے خیر اور رحمت پسند نہ کرے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے فضل اور رحمت سے نوازتا ہے، کیونکہ وہ ذوالفضل العظیم ہے، بے پایاں فضل والا ہے۔
🌸 آج کی آیات سے اہم سبق
🔹 ایمان کے ساتھ تقویٰ اختیار کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ کا اجر دنیا کی ہر کامیابی سے بہتر ہے۔
🔹 زبان کے استعمال میں ادب اور احتیاط ضروری ہے۔
🔹 ایسے الفاظ سے بچنا چاہیے جن میں اہانت یا غلط مفہوم کا شائبہ ہو۔
🔹 دین میں صرف نیت ہی نہیں، الفاظ اور ظاہری طریقۂ کار کی بھی اہمیت ہے۔
🔹 دوسروں کی اچھی چیزوں یا دینی نعمتوں پر حسد نہیں کرنا چاہیے۔
🔹 اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور فضل سے نوازتا ہے۔
🔹 کفار کی ایسی مخصوص مشابہت سے بچنا چاہیے جس میں ان کے باطل شعار یا توہین آمیز طریقوں کی پیروی ہو۔
🌿 حدیثِ مبارک
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
"جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہی میں سے ہے۔"
📚 سنن ابی داؤد، کتاب اللباس
یہ حدیث ہمیں اپنی دینی شناخت، الفاظ، عادات اور ظاہری طرزِ عمل کے معاملے میں محتاط رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔
🌸 ہمارا آج کا پیغام
اللہ کا فضل کسی کے حسد سے نہیں رکتا۔
لہٰذا دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے اللہ سے اپنے لیے فضل مانگیں، اور اپنی زبان، نیت اور عمل کو ادب و تقویٰ سے سنواریں۔
🤲 اے اللہ! ہمیں سچا ایمان، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور ادبِ رسول ﷺ عطا فرما۔ ہماری زبان کو ہر ایسے لفظ سے محفوظ فرما جس سے کسی کی دل آزاری یا بے ادبی ہو، اور ہمیں اپنے فضل و رحمت کا مستحق بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

فہمُ القرآن — قسط نمبر 52بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 52سورۃ البقرہ — آیت نمبر 102🌸 ...
29/09/2026

فہمُ القرآن — قسط نمبر 52
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 52
سورۃ البقرہ — آیت نمبر 102
🌸 آیت نمبر 102
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
🌿 آسان ترجمہ
اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمانؑ کی بادشاہی کے زمانے میں پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ سلیمانؑ نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ شیاطین نے کفر کیا، وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
اور وہ چیز بھی جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت اور ماروت، پر اتاری گئی تھی۔ وہ دونوں کسی شخص کو اس وقت تک کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں، پس تم کفر نہ کرنا۔
پھر لوگ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں۔ حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔
اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان پہنچاتی تھی اور کوئی فائدہ نہیں دیتی تھی۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اسے اختیار کیا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ اور بہت ہی بری چیز تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش وہ جانتے۔
🌸 مختصر اور جامع تفسیر
🔹 حضرت سلیمانؑ پر جادو کا الزام
بنی اسرائیل میں ایک ایسا فتنہ پیدا ہوا کہ بعض لوگوں نے حضرت سلیمانؑ کی عظیم سلطنت اور ان کے غیر معمولی اقتدار کو جادو سے جوڑ دیا اور یہ الزام لگایا کہ نعوذ باللہ وہ جادو کے ذریعے حکومت کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر اس الزام کی تردید فرمائی:
وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ
یعنی سلیمانؑ نے کفر نہیں کیا۔
جادو کا تعلق کفر سے ہے، جبکہ حضرت سلیمانؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ ان کی طرف جادو یا کفر کی نسبت کرنا سراسر باطل ہے۔
🔹 جادو سکھانے والے شیاطین
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ سلیمانؑ نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا اور وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
یعنی باطل قوتیں لوگوں کو ایسے علم اور طریقوں کی طرف لے جاتی تھیں جن کا نتیجہ نقصان، فساد اور گمراہی تھا۔
🔹 ہاروت اور ماروت: ایک آزمائش
قرآن کریم نے بابل میں ہاروت اور ماروت کا ذکر کیا ہے۔
وہ کسی کو بھی یہ علم دینے سے پہلے واضح طور پر کہتے:
إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ
"ہم تو صرف ایک آزمائش ہیں، پس تم کفر نہ کرنا۔"
یعنی پہلے ہی خبردار کر دیا جاتا تھا کہ یہ ایک امتحان ہے، اسے اختیار کرکے کفر کے راستے پر نہ جانا۔
اس واقعے کی تفصیلات کے بارے میں تفاسیر میں مختلف روایات بیان ہوئی ہیں، لیکن ان میں بہت سی روایات مضبوط اور صحیح سند سے ثابت نہیں۔ اس لیے ہمیں قرآن کریم کی بیان کردہ بات پر ہی اعتماد کرنا چاہیے اور غیر ثابت تفصیلات کو دین کا قطعی حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
🔹 جادو کا مقصد: فساد اور جدائی
آیت میں خاص طور پر بتایا گیا کہ لوگ ایسی چیز سیکھتے تھے جس کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جدائی پیدا کی جاتی تھی۔
یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ باطل علم کا استعمال کس طرح معاشرے اور خاندانوں میں فساد پیدا کرسکتا ہے۔
میاں بیوی کا رشتہ محبت، سکون اور خاندان کی بنیاد ہے، اس لیے اس میں نفرت اور جدائی پیدا کرنے کی کوشش ایک سنگین فساد ہے۔
🌿 نفع و نقصان کا حقیقی اختیار کس کے پاس ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
یعنی وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یہ توحید کا ایک نہایت اہم اصول ہے:
دنیا میں کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے باہر نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نقصان کے اسباب سے بے احتیاط ہو جائے، بلکہ یہ کہ دل کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہو۔
🌸 جادو سیکھنے میں کیا نقصان ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لوگ ایسی چیز سیکھتے تھے:
يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ
"جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں فائدہ نہیں دیتی۔"
یعنی ایسا علم جس کا مقصد خیر، اصلاح اور نفع کے بجائے نقصان اور فساد ہو، انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ جو شخص اسے اختیار کرے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ
"بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔"
یعنی دنیا کے کسی معمولی یا وقتی فائدے کے لیے آخرت کا نقصان مول لینا انتہائی خسارے کا سودا ہے۔
🌿 آج ہمارے لیے اہم سبق
🔹 حضرت سلیمانؑ پر جادو اور کفر کی نسبت کرنا باطل ہے۔
🔹 جادو اور اس جیسے باطل طریقوں سے دور رہنا چاہیے۔
🔹 ہر ایسا علم جو انسان کو نقصان، فساد اور گمراہی کی طرف لے جائے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
🔹 کسی بھی فتنے کے سامنے آنے سے پہلے اس کی حقیقت اور انجام کو سمجھنا چاہیے۔
🔹 نفع اور نقصان کا حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
🔹 کسی مشکل، خوف یا پریشانی میں باطل طریقوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
🔹 دنیا کا وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے آخرت کو نقصان پہنچانا انتہائی خسارے کا سودا ہے۔
🌸 سب سے بڑا سبق:
باطل راستے کبھی حقیقی کامیابی نہیں دے سکتے۔
انسان کو ہر خیر کے لیے اللہ سے مانگنا اور ہر شر سے بچنے کے لیے اسی کی پناہ اختیار کرنی چاہیے۔
🤲 دعا
اے اللہ! ہمیں ہر قسم کے فتنے، جادو، باطل عقائد اور گمراہی سے محفوظ فرما۔ ہمارے دلوں میں اپنا یقین مضبوط فرما۔ ہمیں ہر مشکل اور ہر پریشانی میں صرف اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے گھروں میں محبت، سکون اور برکت عطا فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کے ہر نقصان سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌸

فہمُ القرآن — قسط نمبر 51بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 51سورۃ البقرہ — آیات نمبر 99 ت...
28/09/2026

فہمُ القرآن — قسط نمبر 51
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 51
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 99 تا 101
🌸 آیت نمبر 99
وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ
ترجمہ:
اور بے شک ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کی ہیں، اور ان کا انکار بدکاروں کے سوا کوئی نہیں کرتا۔
🌿 مختصر تفسیر:
اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کی طرف ایسی واضح اور روشن آیات نازل کی ہیں جن میں حق بالکل واضح ہے۔
یہ آیات انسان کو حق کا راستہ دکھاتی ہیں، اس لیے محض ضد، عناد اور نافرمانی کی وجہ سے ان کا انکار کرنا انسان کو فسق کی طرف لے جاتا ہے۔
🌸 آیت نمبر 100
أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَّبَذَهُ فَرِيقٌ مِّنْهُم ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
کیا جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے توڑ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان ہی نہیں رکھتے۔
🌿 مختصر تفسیر:
یہاں ان لوگوں کی عہد شکنی کا ذکر ہے جو بار بار اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدوں اور عہدوں کو توڑ دیتے تھے۔
عہد کرنا آسان ہے، لیکن اس عہد کو نبھانا اصل امتحان ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے کا دعویٰ اس وقت سچا ثابت ہوتا ہے جب انسان اپنی خواہش، فائدے اور مفاد کے مقابلے میں بھی اللہ کے حکم کو ترجیح دے۔
یہ آیت ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے کہ کہیں ہم بھی اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کو بھلا تو نہیں دیتے؟
🌸 آیت نمبر 101
وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والا تھا جو ان کے پاس تھی، تو اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا گویا وہ اسے جانتے ہی نہ تھے۔
🌿 مختصر تفسیر:
جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کی تعلیمات ان کی اصل آسمانی کتاب کی تصدیق کرتی تھیں، تو ان میں سے ایک گروہ نے حق کو قبول کرنے کے بجائے اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا۔
حالانکہ ان کی اپنی کتاب میں بھی آنے والے نبی کی نشانیاں موجود تھیں اور حق کو پہچاننے کی بنیاد موجود تھی، لیکن جب حق ان کی خواہشات اور مفادات کے مطابق نہ رہا تو انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔
یہ رویہ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے:
حق کو صرف اس وقت قبول کرنا جب وہ ہماری خواہش کے مطابق ہو، حقیقی ایمان کی علامت نہیں۔
🌿 آج ہمارے لیے سبق
ان آیات کا تعلق صرف ایک تاریخی واقعے سے نہیں۔ قرآن ہر دور کے انسان کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
🔹 اللہ کے ساتھ کیا ہوا عہد نبھانا ضروری ہے۔
🔹 حق واضح ہو جائے تو اسے ضد اور تعصب کی وجہ سے رد نہیں کرنا چاہیے۔
🔹 علم رکھنے کے باوجود عمل نہ کرنا انسان کو فائدہ نہیں دیتا۔
🔹 اللہ کی کتاب کو صرف پڑھنا کافی نہیں، اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے۔
🔹 دین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کے بجائے اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
🔹 سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان حق کو جانتے ہوئے بھی اسے پسِ پشت ڈال دے۔
🌸 آج کا سوال اپنے آپ سے:
کیا ہم اللہ کے احکام کو صرف جانتے ہیں، یا واقعی اپنی زندگی میں ان پر عمل بھی کرتے ہیں؟
کیا ہم اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کو یاد رکھتے ہیں، یا صرف ضرورت کے وقت اسے یاد کرکے پھر اپنی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں؟
🤲 دعا:
اے اللہ! ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے، اسے پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنے عہد پورے کرنے والا بنا، قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا، اور ہمیں حق جان کر اسے پسِ پشت ڈالنے سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌸

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖فھم القرآن قسط نمبر 50 سورہ البقرہ آیت نمبر 96,97,98🌸 آیت نمبر 96وَلَتَجِدَنَّه...
27/09/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖فھم القرآن قسط نمبر 50
سورہ البقرہ آیت نمبر 96,97,98
🌸 آیت نمبر 96
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۛ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ ۖ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
ترجمہ:
بلکہ سب سے زیادہ دنیا کی زندگی کا حریص آپ انہیں پائیں گے، یہ حرص زندگی میں مشرکوں سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے تو ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے ایک ہزار سال عمر دی جائے، حالانکہ اتنی عمر دیا جانا بھی اسے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ صرف دنیا کی زندگی کو لمبا کرنا کامیابی نہیں۔ اگر انسان ایمان اور عملِ صالح سے خالی ہو تو ہزار سال کی زندگی بھی اسے آخرت کے انجام سے نہیں بچا سکتی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے سال زندگی گزاری؟
اصل سوال یہ ہے کہ ان سالوں میں ہم نے اللہ تعالیٰ کو کتنا راضی کیا؟
🌸 آیت نمبر 97
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:
اے نبی! آپ کہہ دیجیے کہ جو شخص جبرائیلؑ کا دشمن ہو، (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اسی نے تو اللہ کے حکم سے یہ قرآن آپ کے دل پر اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا، اور مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
یہاں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو جبرائیلؑ کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ جبرائیلؑ اللہ تعالیٰ کے مقبول فرشتے اور اللہ کے حکم سے وحی پہنچانے والے ہیں۔ قرآن ان کی اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل ہوا۔
یہ قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی اصل تعلیمات کی تصدیق کرنے والا، اہلِ ایمان کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
🌸 آیت نمبر 98
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ
ترجمہ:
جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کے رسولوں کا، اور جبرائیلؑ اور میکائیلؑ کا دشمن ہو، تو اللہ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور رسول سب اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں۔ کسی ایک کو ماننا اور کسی دوسرے سے دشمنی رکھنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تمام مقبول بندوں کا احترام اور ان سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ بعض یہودی علماء نے نبی کریم ﷺ سے مختلف سوالات کیے اور جب ان کے جوابات انہیں درست ملے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ ﷺ پر وحی کون لاتا ہے؟ جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیلؑ، تو انہوں نے جبرائیلؑ کو اپنا دشمن قرار دے کر آپ ﷺ کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جبرائیلؑ اور میکائیلؑ دونوں اللہ تعالیٰ کے مقبول فرشتے ہیں۔ جو اللہ، اس کے فرشتوں یا اس کے رسولوں میں سے کسی سے دشمنی رکھے، وہ درحقیقت اللہ کی مخالفت اختیار کرتا ہے۔
🌿 ایک اہم حدیث
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزْتُهُ بِالْحَرْبِ
ترجمہ:
"جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں نے اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔"
📚 صحیح بخاری
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندوں سے محبت اور ان کا احترام اہم ہے۔ لیکن اس محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کیا جائے یا ان سے وہ دعائیں اور فریادیں کی جائیں جو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئیں۔
🌸 اولیاء اللہ کون ہیں؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
ترجمہ:
"یاد رکھو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔"
📖 سورۃ یونس: 62-63
یعنی اللہ کے ولی وہ ہیں جو ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
🌿 محبت اور غلو میں فرق
اللہ کے نیک بندوں سے محبت، ان کا احترام اور ان کی نیک زندگی سے سبق حاصل کرنا اپنی جگہ ایک اچھی بات ہے، لیکن محبت کے نام پر ایسے اعمال اختیار کرنا درست نہیں جو توحید کے منافی ہوں۔
قبروں کے بارے میں ایسے اعمال جن میں مردوں سے فریاد، ان سے حاجت طلبی، انہیں مستقل طور پر نفع و ضرر کا مالک سمجھنا یا عبادت کی کوئی صورت ان کے لیے اختیار کرنا شامل ہو، اسلام کی بنیادی تعلیمِ توحید کے خلاف ہیں۔
حاجت روا اور مشکل کشا حقیقی طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اس لیے ہمیں محبتِ اولیاء اور غلو و شرک کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے۔ نیک لوگوں کا احترام ضرور کریں، مگر عبادت اور دعا کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص رکھیں۔
🌸 آج کی آیات کا پیغام
🔹 دنیا کی لمبی زندگی آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
🔹 اصل کامیابی ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال میں ہے۔
🔹 جبرائیلؑ اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہیں۔
🔹 اللہ کے رسولوں اور فرشتوں کے درمیان اپنی خواہش کے مطابق تفریق کرنا درست نہیں۔
🔹 اللہ کے نیک بندوں سے محبت اور احترام رکھیں، مگر غلو سے بچیں۔
🔹 دعا، عبادت اور حقیقی حاجت طلبی صرف اللہ تعالیٰ سے کریں۔
🔹 ہمیں محبتِ دین کے ساتھ توحید کی حفاظت بھی کرنی ہے۔
🤲 دعا:
اے اللہ! ہمیں دنیا کی محبت میں ایسا گرفتار نہ ہونے دے کہ ہم آخرت کو بھول جائیں۔ ہمیں سچا ایمان، تقویٰ، نیک اعمال اور صحیح عقیدہ عطا فرما۔ ہمیں اپنے نیک بندوں سے محبت اور ان کا احترام کرنے کی توفیق دے، اور ہر قسم کے غلو، شرک اور باطل عقائد سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌸

فہمُ القرآن — قسط نمبر 49بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 49سورۃ البقرہ — آیات نمبر 92 ت...
24/09/2026

فہمُ القرآن — قسط نمبر 49
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 49
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 92 تا 95
🌿 آیت نمبر 92
وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
ترجمہ:
اور یقیناً موسیٰ تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آئے، پھر ان کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، حالانکہ تم ظالم تھے۔
🌸 تفسیر و وضاحت
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس واضح دلائل اور روشن نشانیاں لے کر آئے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
لیکن اتنے واضح دلائل کے باوجود انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
یہ کفر و انکار کی انتہا تھی کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا علم اور واضح دلائل موجود ہونے کے باوجود خواہش اور گمراہی کے پیچھے چل پڑے۔
🌿 آیت نمبر 93
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا ۖ قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
ترجمہ:
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو بلند کیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو، تو انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔ اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچا دی گئی۔ کہہ دیجیے: اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برا حکم دیتا ہے۔
🌸 تفسیر و وضاحت
اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا تھا کہ جو کتاب اور احکام انہیں دیے گئے ہیں، انہیں مضبوطی سے تھامیں اور ان پر عمل کریں۔
مگر ان کی زبان کہتی تھی: ہم نے سنا، جبکہ ان کا عمل کہتا تھا: ہم نے نافرمانی کی۔
یہاں "أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ" کے الفاظ بہت معنی خیز ہیں۔ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں اس طرح رچ بس گئی تھی جیسے پانی انسان کے جسم کے اندر سرایت کر جاتا ہے۔
محبت جب حق و باطل کی تمیز ختم کر دے تو انسان کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بچھڑے کی محبت اور عبادت میں اس قدر گرفتار ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی منہ موڑ بیٹھے۔
🌿 آیت نمبر 94
قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
ترجمہ:
کہہ دیجیے: اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔
🌸 تفسیر و وضاحت
وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت کی کامیابی اور خاص قرب صرف انہی کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو ایک واضح چیلنج کے ذریعے پرکھنے کے لیے فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوے میں واقعی سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔
یہاں موت کی تمنا کو ان کے دعوائے سچائی کے امتحان کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ کیونکہ جو شخص یقین رکھتا ہو کہ اس کے لیے اللہ کے ہاں یقینی کامیابی ہے، وہ آخرت کی طرف جانے سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔
🌿 آیت نمبر 95
وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
ترجمہ:
اور وہ اپنی ان کرتوتوں کی وجہ سے کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
🌸 تفسیر و وضاحت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں اپنے اعمال کا علم تھا۔
زبان سے آخرت کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرنا آسان ہے، لیکن انسان کے اعمال اس کے دعووں کی حقیقت ظاہر کر دیتے ہیں۔
یہاں ہمیں اپنے لیے بھی ایک اہم سبق ملتا ہے کہ صرف دعویٰ کافی نہیں، اصل چیز ایمان کے ساتھ عمل ہے۔
اگر دل دنیا کی محبت، گناہوں اور نافرمانیوں میں گرفتار ہو تو انسان آخرت کے انجام سے بے خوف نہیں ہو سکتا۔
🌺 ہمارے لیے سبق
یہ آیات ہمیں اپنے ایمان اور عمل کا آئینہ دکھاتی ہیں۔
▫️ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کافی نہیں، عمل بھی اس کی گواہی دے۔
▫️ اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں خواہشِ نفس کو ترجیح نہ دیں۔
▫️ دنیا کی محبت کو دل پر اس قدر غالب نہ ہونے دیں کہ آخرت بھول جائے۔
▫️ اپنے دعوائے ایمان کو اپنے اعمال سے سچا کرنے کی کوشش کریں۔
🤲 دعا:
اے اللہ! ہمارے دلوں کو دنیا کی ایسی محبت سے محفوظ فرما جو ہمیں تیری اطاعت سے دور کر دے۔ ہمارے ایمان کو سچا اور ہمارے اعمال کو اس کے مطابق بنا دے۔ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌸

فہمُ القرآن — قسط نمبر 48بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 48سورۃ البقرہ — آیات نمبر 90، ...
22/09/2026

فہمُ القرآن — قسط نمبر 48
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 48
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 90، 91
🌿 آیت نمبر 90
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
ترجمہ:
بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیز کا انکار کریں، محض اس حسد کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل نازل فرمائے۔ پس وہ غضب پر غضب کے مستحق ہوئے، اور کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
🌸 تفسیر و وضاحت
یہاں ان کے اس رویے کی مذمت کی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچاننے کے باوجود صرف حسد، عناد اور اس جلن کی وجہ سے اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل جسے چاہا عطا فرمایا۔
وہ آخری نبی ﷺ کی آمد کے منتظر تھے، لیکن جب حضرت محمد ﷺ تشریف لائے اور وہ ان کی صفات کو پہچان بھی گئے تو صرف اس وجہ سے انکار کیا کہ نبوت ان کی اپنی قوم یا نسل میں کیوں نہ ہوئی۔
یعنی ان کا انکار دلیل کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ حسد اور عناد نے انہیں حق قبول کرنے سے روک دیا۔
فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ
یعنی وہ ایک غضب کے بعد دوسرے غضب کے مستحق ہوئے، کیونکہ وہ بار بار ایسے اعمال کرتے رہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے تھے، اور اب قرآن اور نبی کریم ﷺ کا انکار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بن گیا۔
🌿 آیت نمبر 91
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَاءَ اللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
ترجمہ:
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا ہے ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کے بعد آنے والی کتاب کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ کہہ دیجیے: پھر اگر تم ایمان رکھتے تھے تو اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے؟
🌸 تفسیر و وضاحت
وہ کہتے تھے کہ ہم صرف اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے بعد آنے والی وحی کو قبول نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی حقیقت واضح فرمائی کہ اگر تم واقعی اپنی کتاب پر ایمان رکھتے تھے تو پھر پہلے آنے والے انبیاء علیہم السلام کی مخالفت اور ان کے قتل کا کیا جواز تھا؟
حقیقی ایمان صرف زبان سے کسی کتاب کو مان لینے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کے سامنے جھکنے اور حق کو قبول کرنے کا نام ہے۔
ان کا مسئلہ یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم یا نبی ان کی خواہش کے مطابق آتا تو اسے قبول کرتے، اور جب بات ان کی خواہش کے خلاف ہوتی تو انکار اور مخالفت کا راستہ اختیار کرتے۔
🌺 ہمارے لیے سبق
یہ آیات صرف ایک قوم کے ماضی کا واقعہ بیان نہیں کرتیں بلکہ ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔
کیا ہم بھی اللہ کے احکام میں سے صرف وہی باتیں پسند کرتے ہیں جو ہماری خواہش کے مطابق ہوں؟
حسد، ضد اور تعصب انسان کو حق پہچان لینے کے باوجود اسے قبول کرنے سے محروم کر سکتے ہیں۔
اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے دلوں کو حسد، تکبر اور عناد سے پاک رکھے اور ہمیں حق کو پہچاننے کے ساتھ اسے قبول کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
🤲 دعا:
اے اللہ! ہمارے دلوں کو حسد، کینہ، ضد اور تکبر سے پاک فرما۔ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنی خواہشات اور تعصبات کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی رضا کے راستے پر چلنے والا بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌸

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asma wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asma wahab:

Shortcuts

Share