05/10/2026
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌸
📖 فہمُ القرآن — قسط نمبر 55
سورۃ البقرہ — آیات نمبر 109 تا 111
🌸 آیت نمبر 109
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
آسان ترجمہ:
اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ حق واضح ہو جانے کے باوجود اپنے دل کے حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا دیں۔ پس تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
اہلِ کتاب میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں نبی اکرم ﷺ اور اسلام کے بارے میں حسد اور عناد پیدا ہو گیا تھا۔ حق ان کے سامنے واضح ہو چکا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ مسلمانوں کو ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے جواب میں صبر، عفو اور درگزر کا حکم دیا۔
یہاں ہمارے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے کہ دوسروں کی مخالفت، حسد یا برے رویے کے جواب میں ہم اپنا ایمان، اپنا اخلاق اور اپنی راہ نہ چھوڑیں۔
جو شخص حق پر قائم ہو، اسے دوسروں کے حسد سے اپنے راستے سے نہیں ہٹنا چاہیے۔
🌸 آیت نمبر 110
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
آسان ترجمہ:
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
🌿 مختصر تفسیر:
پچھلی آیت میں مخالفین کے رویے کے مقابلے میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی، اور اب مسلمانوں کو ان کے اصل کام کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے:
نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور نیک اعمال کرتے رہو۔
انسان جو نیکی دنیا میں کرتا ہے، وہ حقیقت میں اپنے ہی آخرت کے لیے آگے بھیج رہا ہوتا ہے۔
کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ انسان شاید اپنی نیکی کو بھول جائے، لوگ بھی اسے بھول جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے پاس اس کا اجر محفوظ ہے۔
🌸 آیت نمبر 111
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
آسان ترجمہ:
اور وہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ ان کی محض آرزوئیں ہیں۔ کہہ دیجیے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔
🌿 مختصر تفسیر:
یہاں اہلِ کتاب کے اس دعوے کا ذکر کیا گیا ہے کہ صرف انہی کے گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جنت میں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعوے کو محض آرزو قرار دیا، کیونکہ جنت کسی نسلی، گروہی یا محض دعوے کی بنیاد پر نہیں ملتی۔
اسی لیے فرمایا گیا:
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ
"کہہ دیجیے: اپنی دلیل پیش کرو۔"
یعنی دین کے معاملے میں محض خواہش یا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ دلیل اور حق کی پیروی ضروری ہے۔
🌿 آج کی آیات سے اہم سبق
🔹 حق واضح ہونے کے بعد حسد انسان کو قبولِ حق سے روک سکتا ہے۔
🔹 دوسروں کے حسد اور مخالفت کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
🔹 برے رویے کا جواب ہمیشہ برائی سے دینا ضروری نہیں؛ بعض مواقع پر عفو و درگزر بہترین راستہ ہے۔
🔹 نماز اور زکوٰۃ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہیں، انہیں مضبوطی سے قائم رکھنا چاہیے۔
🔹 ہر نیکی جو ہم اپنے لیے آگے بھیجتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔
🔹 اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، اس لیے نیکی صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
🔹 جنت محض خواہشات اور دعووں سے حاصل نہیں ہوتی۔
🔹 دین کے کسی دعوے کے لیے دلیل ضروری ہے۔
🔹 کسی گروہ، خاندان یا نسبت پر فخر کرنے کے بجائے اپنے ایمان اور اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔
🌸 آج کا پیغام
دوسروں کے حسد کو اپنی پریشانی نہ بنائیں، بلکہ اپنے ایمان اور اپنے اعمال کی حفاظت کریں۔
لوگ آپ کے بارے میں کچھ بھی کہیں، اگر آپ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں، نماز قائم کریں، نیکی کرتے رہیں اور حق پر ثابت قدم رہیں تو آپ کا اصل سرمایہ محفوظ ہے۔
اور یاد رکھیے:
ہم دنیا میں جو نیکی اللہ کے لیے آگے بھیجتے ہیں، وہی آخرت میں ہمارے کام آئے گی۔
🤲 اے اللہ! ہمیں حسد، بغض، تعصب اور تکبر سے محفوظ فرما۔ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری نمازوں، نیکیوں اور تمام اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے جنت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔