18/08/2022
السلامُ علیکم
جہاں لمپی اسکن ڈیزیز نے نقصان مچایا ہوا ہے وہاں سوشل میڈیا کے دانشور اور ماہرین نے دودھ کے متعلق اپنے تجزیے بیان کرنا شروع کیے ہوئے ہیں۔
فیسبکی ماہرین کے مطابق گوشت اور دودھ کے استعمال سے انسانوں میں بھی وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔ اُنکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دیگر ممالک میں یہ بیماری عرصہ دراز سے موجود ہے اور اُنکی رپورٹس کو پڑھا جائے تو ایسا منطق کہیں بھی نہیں لکھا گیا۔ اس بیماری سے متاثرہ جانور کا دودھ خود بخود کم ہوتا ہوا تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ بیماری سب جانوروں پر نہیں ہے۔ صحتمند جانور کے ساتھ ساتھ متاثر جانوروں کا دودھ اُبال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بحیثیت قوم ہمیں چاہیے کہ اِس مشکل گھڑی میں جہاں مویشی پال حضرات کا پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا ہے تو ایسی افواہیں اور ہے بنیاد تجزیے جاری کر کے مزید نقصان نہ پہنچائیں۔
ڈبہ دودھ مافیا شروع سے ہی آرگینک دودھ کے خلاف اپنی مہم چلاتے آ رہے ہیں اور اِس موقع پر اُنکی کمپین کو فیسبکی ماہرین مزید ہوا دے رہے ہیں۔ اِن افواہوں سے بچیں تا کہ مستقبل میں خالص گوشت اور دودھ جیسی نعمت سے محروم نہ ہو سکیں۔
شکریہ
ورلڈ آرگنائزیشن آف انیمل ہیلتھ (OIC) کی 2016 کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔
Lumpy skin disease virus is a stable virus which can be inactivated by temperature at 55 °C for 2 h, 60 °C for 1 h or 65 °C for 30 min ( *OIE 2016* ).