14/10/2026
بہاولپور اندرونِ احمدپوری گیٹ، شہزادی چوک پر مولوی صاحب صبح کے
وقت چاول چنے فروخت کرتے ہیں۔ آج وہاں ایک ایسا واقعہ دیکھنے کو ملا جس
نے میرا دل انتہائی دکھی کر دیا۔ ایک غریب بھائی اپنی محنت کی کمائی سے پیسے
دے کر چاول چنے خرید کر ناشتہ کر رہے تھے۔ مولوی صاحب نے ان سے
پیسے بھی لیے اور چاول چنے بھی دیے، لیکن ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ جا کر سڑک
پر زمین پر بیٹھ کر کھاؤ۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کیا غریب انسان کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ کیا
کسی کے کپڑے گندے ہوں یا وہ غربت میں زندگی گزار رہا ہو تو اس کے ساتھ
ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ بھائی، جب کوئی شخص آپ کو پیسے دے کر کھانا
خرید رہا ہے تو اسے بھی عزت کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا حق ہے۔ اسے
کسی کرسی، بینچ یا پٹڑے پر بٹھا کر ناشتہ کروانے میں آخر کیا مسئلہ ہے؟
مجھے یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ ایک انسان اپنی محنت کی کمائی سے ناشتہ خرید
رہا ہے، لیکن اسے زمین پر بیٹھ کر کھانے کا کہا جا رہا ہے۔ غربت کوئی جرم
نہیں، گندے کپڑے کسی انسان کی پہچان نہیں اور کسی کی مالی حیثیت دیکھ کر
اس کی عزت کم نہیں کرنی چاہیے۔
میری تمام ہوٹل والوں اور ریڑھی بان بھائیوں سے گزارش ہے کہ غریب
لوگوں کے ساتھ عزت اور محبت سے پیش آئیں۔ ہر انسان عزت کا مستحق
ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ یاد رکھیں، غریب کو مفت کھانا کھلانا ہی نیکی
نہیں، بلکہ اس سے پیسے لے کر بھی اسے عزت دینا بہت بڑی انسانیت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر انسان کی عزت کرنے اور کسی غریب کا دل نہ دکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲