02/06/2026
نکاح کا فارم ایک مرد کو بیوی کے جسم تک رسائی (Physical Access) تو دے دیتا ہے مگر غیر ذمہ داری، نشہ اور بلیک میلنگ اس رشتے کی روح کو سالوں پہلے قتل کر دیتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مرد کو صرف “حقوق” رٹائے گئے ہیں، “فرائض” نہیں۔
یہ ایک ظالمانہ، غیر ذمہ دار اور deeply unhealthy مائنڈ سیٹ ہے کہ ایک مرد گھر بار چھوڑ کر بھاگتا رہے، نشے میں اپنی مردانگی، غیرت اور ذمہ داری سب کچھ گم کر دے، بیوی بچوں کی کفالت (Financial Responsibility) سے ہاتھ اٹھا لے، ماں یا بھائی کے سہارے خود بھی پلتا رہے اور اپنی بیوی بچوں کو بھی دوسروں کے ٹکڑوں پر ڈال دے…
مگر بیڈ روم میں آتے ہی ایک حاکم بن کر کھڑا ہو جائے۔
سوال یہ ہے:
جو مرد نان نفقہ نہیں دیتا، حفاظت نہیں دیتا، عزت نہیں دیتا، emotional support نہیں دیتا، خود نشے میں ڈوبا رہتا ہے…
وہ کس اخلاقی بنیاد پر بیوی سے ازدواجی حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے؟
تحریر: عثمان بشیر
آئیڈیل لائف کونسلنگ
(بہتر زندگی کی جانب پہلا قدم)
ایک 30 سال کی ماں سسکیاں لیتے ہوئے کال پر کہہ رہی تھی:
"عثمان بھائی!
میرے شوہر کوئی کام نہیں کرتے، سارا دن نشہ کرتے ہیں، اور سسرال والے ہمیں طعنے دیتے ہیں۔
میں نے بچوں کی خاطر سب سہا لیکن جب یہ نشے کی حالت میں میرے قریب آنے کی زبردستی کرتے ہیں، تو مجھے اپنی جان، عزت اور صحت کا خوف ہوتا ہے۔
پچھلے ہفتے جب میں نے روتے ہوئے انکار کیا، تو انہوں نے مجھے تین کپڑوں میں گھر سے نکال دیا اور میرے دودھ پیتے بچے اپنے پاس رکھ لیے۔
اب وہ کہتے ہیں کہ اگر بچوں کی شکل دیکھنی ہے، تو واپس آؤ اور چپ چاپ میری ہر خواہش پوری کرو۔
میں بچوں کے بغیر پاگل ہو رہی ہوں… میں کیا کروں؟"
وہ گھر توڑنے نہیں نکلی تھی…
وہ صرف اپنے ہی شوہر کے ہاتھوں ایک جسمانی اور جذباتی کھلونا بننے سے بچنا چاہتی تھی۔
یہاں بات صرف intimacy کی نہیں ہے۔
یہ بچوں کی محبت کو ہتھیار بنا کر عورت کو emotionally blackmail کرنے کی بدترین شکل ہے۔
بچے ماں کو واپس بستر پر لانے کا جال نہیں ہوتے…
وہ امانت ہوتے ہیں، بلیک میلنگ کا ہتھیار نہیں۔
یہ صرف “ازدواجی مسئلہ” نہیں… یہ abuse ہے
جب ایک عورت کو:
نشہ کرنے والے مرد کے ساتھ unsafe محسوس ہو
اس کی مالی ذمہ داری صفر ہو
گھر میں اس کی عزت نہ ہو
انکار پر اسے گھر سے نکال دیا جائے
اور بچوں کو اس کے خلاف استعمال کیا جائے
تو وہاں صرف marital issue نہیں ہوتا…
وہاں control، coercion، abuse اور emotional terrorism شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
ازدواجی تعلق وہاں دم توڑ دیتا ہے
جہاں ایک ماں کو اس کے بچوں کی محبت کا واسطہ دے کر بستر پر مجبور کیا جائے۔
📜 ہمارا دین اسلام ایسے ظلم کے بارے میں ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
ہمارے معاشرے میں بعض مرد اپنی ہوس، انا اور غیر ذمہ داری کو چھپانے کے لیے دین کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام ایسے رویوں کے سخت خلاف ہے۔
1) کفالت اور ذمہ داری پہلی بنیاد ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"مرد عورتوں پر نگران ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔"
(سورۃ النساء: 34)
یعنی قوامیت صرف “حکم چلانے” کا نام نہیں۔
اس کی بنیاد مالی ذمہ داری، کفالت، حفاظت اور حسنِ سلوک ہے۔
جو مرد بیوی بچوں کی بنیادی ضروریات، تحفظ اور عزت کا حق ادا نہیں کرتا، وہ اخلاقی، نفسیاتی اور خاندانی سطح پر اپنی ذمہ داری کی بنیاد کو شدید کمزور کر دیتا ہے۔
2) نقصان پہنچانا اسلام میں ممنوع ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان کا بدلہ نقصان سے دو۔"
(سنن ابن ماجہ)
ایک نشہ کرنے والا، aggressive اور غیر ذمہ دار شخص اگر بیوی کی ذہنی، جسمانی یا جذباتی صحت کے لیے خطرہ بن جائے، تو عورت کا خود کو محفوظ کرنا ضد نہیں… حق ہے۔
ایسی صورتحال کو Practically کیسے deal کریں؟
اگر آپ یا آپ کی کوئی جاننے والی خاتون ایسی اذیت سے گزر رہی ہے، تو خاموش رہنے کے بجائے یہ practical steps اٹھائیں:
📌 1) خاموشی ختم کریں — trusted لوگوں کو شامل کریں
ایسے مرد کے ساتھ بند کمرے میں اکیلے نباہ کرنے کا جھوٹا ڈرامہ بند کریں۔
اپنے والدین، بھائی، بہن، trusted family member یا کسی mature بزرگ کو فوراً اعتماد میں لیں۔
نشے، مالی غیر ذمہ داری، دھمکیوں یا زبردستی کے رویے کو record پر لائیں۔
📌 2) اپنی safety پر compromise نہ کریں
نشے کی حالت میں شخص emotionally stable یا predictable نہیں ہوتا۔
اگر آپ کو اپنی جان، عزت، جسم یا ذہنی صحت کا خطرہ محسوس ہو، تو صرف “بیوی ہونے” کے guilt میں خود کو unsafe situation میں مت ڈالیں۔
کیونکہ Safety comes first.
📌 3) بچوں کے معاملے میں legal guidance لیں
بچوں کی حضانت، ملاقات، تحفظ اور قانونی حقوق کے معاملات case-to-case بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔
اگر شوہر نشے، تشدد، غیر ذمہ داری یا بلیک میلنگ میں ملوث ہو، تو فوری طور پر کسی مستند وکیل، family court advisor یا legal support service سے رہنمائی لیں۔
خوف اور guilt کی وجہ سے خاموش نہ رہیں۔
📌 4) بلیک میلنگ کے آگے نہ جھکیں
اگر کوئی مرد یہ کہے:
“بچوں کو دیکھنا ہے تو واپس آؤ… اور میری ہر خواہش پوری کرو”
تو یہ محبت نہیں، reconciliation نہیں، بلکہ emotional blackmail ہے۔
ایسی demand کے آگے جھکنا مسئلہ حل نہیں کرتا، بلکہ ظلم کو اور مضبوط کرتا ہے۔
📌 5) مرد اپنی انا اور نشہ چھوڑے
اگر کوئی مرد یہ تحریر پڑھ رہا ہے اور خود اس راستے پر ہے، تو ایک سچ سن لے:
بیوی بچوں کو بھائی کے ٹکڑوں پر پالنا، نشے میں ڈوبے رہنا، اور پھر بیڈ روم میں “حق” مانگنا مردانگی نہیں… سراسر بے حیائی، بے غیرتی اور غیر ذمہ داری ہے۔
جو مرد اپنی بیوی کو صرف ایک جسم اور بچوں کو ایک ہتھیار سمجھتا ہے، وہ ایک دن اپنی ہی اولاد کی نظروں میں ہمیشہ کے لیے گر جاتا ہے۔
اصل سچ یہ ہے کہ
عورت intimacy سے نہیں ٹوٹتی…
وہ اس احساس سے ٹوٹتی ہے کہ اس رشتے میں اس کی عزت، safety، دل اور انسانیت کی کوئی قیمت نہیں۔
یاد رکھیں:
نکاح مرد کو عورت پر ظلم کا لائسنس نہیں دیتا۔
نہ نشہ، نہ کفالت سے فرار، نہ بلیک میلنگ، نہ بچوں کو ہتھیار بنانا —
ان میں سے کوئی بھی چیز اسلامی، انسانی یا اخلاقی طور پر جائز نہیں۔
کیا آپ اس سچائی سے اتفاق کرتے ہیں؟
اگر آپ کو لگتا ہے کہ نشے، غیر ذمہ داری، بچوں کے ذریعے بلیک میلنگ، اور “ازدواجی حق” کے نام پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارے معاشرے کی فوری ضرورت ہے، تو کمنٹ میں “جی ہاں” لکھ کر اپنی تائید ضرور ریکارڈ کروائیں۔
آپ کا ایک کمنٹ کسی مظلوم ماں تک امید کی کرن پہنچا سکتا ہے۔
💬 کونسلنگ اور گائیڈنس
اگر آپ اپنے ازدواجی رشتے میں کسی بھی قسم کے:
جذباتی استحصال
مالی neglect
یا marital coercion
نشے سے جڑے مسائل
بچوں کے ذریعے بلیک میلنگ
یا جسمانی/ذہنی unsafe ماحول
کا سامنا کر رہی ہیں، اور ایک محفوظ، dignified اور بغیر judgment کے ماحول میں اپنی بات شیئر کر کے professional counseling یا guidance لینا چاہتی ہیں، تو ابھی inbox/message کریں۔
نوٹ: آپ کی پہچان اور گفتگو 100% رازدارانہ رکھی جائے گی۔
تحریر: عثمان بشیر
آئیڈیل لائف کونسلنگ
(بہتر زندگی کی جانب پہلا قدم)
📲 آئیڈیل لائف کونسلنگ آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S