09/06/2026
فارمر کی چیخیں دور دور تک سنائی دے رہی ہیں، لیکن افسوس کہ نہ ایسوسی ایشن اور نہ ہی فیڈ ملرز مالکان ان آوازوں کو سننے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ فیڈ میں شامل اجناس کی قیمتوں میں واضح کمی آ چکی ہے، مگر اس کے باوجود فیڈ ریٹ میں مناسب کمی نہیں کی جا رہی اور ایک بڑا فرق برقرار رکھا جا رہا ہے۔
ایسے حالات میں جبکہ فارمر کے لیے منافع کمانا تو دور کی بات، اپنی لاگت پوری کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے، وہ روزانہ کی بنیاد پر مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ فیڈ ملرز مالکان اور متعلقہ ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ اس صورتحال پر خصوصی توجہ دی جائے اور جب تک پولٹری انڈسٹری کے حالات بہتر نہیں ہوتے، فیڈ ریٹ کا تعین موجودہ اجناس کی قیمتوں کے مطابق کیا جائے تاکہ فارمر کو کچھ ریلیف مل سکے۔
جب مارکیٹ کے حالات بہتر ہو جائیں اور فارمر دوبارہ منافع کی پوزیشن میں آ جائے تو پھر فیڈ ریٹ میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس انڈسٹری کے تمام شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کمانا سب نے ہے تو نقصان میں بھی سب کو شریک ہونا چاہیے۔
فارمر پولٹری انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر فارمر معاشی طور پر کمزور ہو جائے یا اس شعبے سے نکلنے پر مجبور ہو جائے تو فیڈ کی کھپت بھی متاثر ہوگی اور پوری انڈسٹری مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ اس لیے فارمر کو مضبوط بنائیں، اس کے مسائل کو سمجھیں اور نقصان کا سارا بوجھ صرف اسی کے کندھوں پر نہ ڈالیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے حالات میں بہتری عطا فرمائے۔
شکریہ۔