Soghat

Soghat We provide best quality Dry Fruits Soghat all over Pakistan.

You can also follow on Instagram to see more.
24/04/2026

You can also follow on Instagram to see more.

یوکرین کی تباہی: پاکستان کے لیے عبرت کا سبق دنیا کی تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو ریاست طاقت سے محروم ہو، وہ ب...
28/03/2026

یوکرین کی تباہی: پاکستان کے لیے عبرت کا سبق
دنیا کی تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو ریاست طاقت سے محروم ہو، وہ بین الاقوامی معاہدوں اور امن کی ضمانتوں پر ہرگز بھروسہ نہیں کر سکتی۔ اس کی تازہ اور تلخ مثال "یوکرین" ہے، جو سوویت یونین کے زوال کے بعد ایک بڑی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا، لیکن آج دشمن کے سامنے جس بے بسی کا منظر پیش کر رہا ہے، وہ خاص طور پر "پاکستان" کے لیے "عبرت کا سبق" ہے۔
آئیے بات کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یوکرین کو وسیع و عریض سٹریٹیجک اثاثے ورثے میں ملے تھے۔ ان میں 19 عدد Tu-160 بمبار، 25 عدد Tu-95MS بمبار، 60 عدد Tu-22M3 بمبار، اور 1700 نیوکلیئر وار ہیڈز شامل تھے۔ اس کے علاوہ، بین البراعظمی میزائل سائلوز، جنگی بحری جہاز اور ایک ادھورا طیارہ بردار جہاز بھی اس کے حصے میں آیا تھا۔ اس وقت یوکرین روس اور امریکہ کے بعد دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی طاقت "بن کر ابھرا" تھا۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد، یوکرین "کو مغرب کی طرف سے گہری توجہ ملی"۔ مغربی مالیاتی اداروں کے مشیروں کی زیر نگرانی سوویت طرز کی مرکزی منصوبہ بندی سے مارکیٹ اکانومی میں منتقلی کا عمل شروع ہوا۔ اس دوران ریاستی ملکیت کے بڑے اداروں کی نجکاری کا عمل غیر منظم اور بدعنوانی کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں اثاثوں کی بڑے پیمانے پر "لوٹ مار ہوئی"۔ غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ ایک پیچیدہ "معاشی بحران کا شکار ہو گیا"۔
معاشی بحران کے دوران امریکہ نے "امن" کے نام پر یوکرینی قیادت کو Nunn–Lugar پروگرام کے تحت صرف 500 ملین ڈالر کے عوض ایٹمی اثاثے ختم کرنے پر آمادہ کر لیا۔ اس پروگرام کے تحت 10 عدد Tu-160، 25 عدد Tu-95MS، اور 60 عدد Tu-22M3 بمبار تباہ کر دیے گئے، جبکہ 575 کروز میزائل گیس کی قیمت کے طور پر روس کے حوالے کر دیے گئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انتہائی جدید طیارے، جنہوں نے صرف چند سو گھنٹے پرواز کی تھی، امریکی ماہرین کی نگرانی میں کاٹ کر تباہ کر دیے گئے۔
پھر یوکرین 1994 کے بوداپیسٹ معاہدے کے تحت اپنی سلامتی کی عالمی ضمانت کے بدلے نیوکلیئر ہتھیاروں سے بھی دستبردار ہو گیا۔ لیکن جب روس نے 2014 میں کریمیا پر قبضہ کیا اور 2022 میں مکمل جنگ چھیڑ دی، تو ان معاہدوں نے یوکرین کو کوئی تحفظ فراہم نہ کیا۔ امریکہ اور نیٹو ممالک نے صرف اپنے پرانے ہتھیار دیے اور بدلے میں یوکرین کے انتہائی قیمتی معدنی ذخائر ہتھیا لیے۔
اب آتے ہیں پاکستان کی طرف، جس کے ایٹمی ہتھیار اس کی خودمختاری، دفاع، اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ ورنہ بھارت جیسا پڑوسی دشمن ہر لمحے اس کے وجود کے خاتمے کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اندرونِ ملک ایک مخصوص لابی برسوں سے ایٹمی ہتھیاروں کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے۔ مرحوم عمر اصغر خان، عاصمہ جہانگیر، اور ڈاکٹر پرویز ہودبائی جیسے نمایاں چہروں کا موقف رہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ایٹمی اثاثے ترک کر کے ’’امن‘‘ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ کہتے ہیں کہ ایٹمی اثاثے اور "جوہری پروگرام" ملک کے لیے "بوجھ" ہیں۔
لیکن حقیقت میں یہ سوچ پاکستان کو نہتا کر کے بھارت کے سامنے جھکانے کی ایک خطرناک کوشش ہے — بالکل ویسی ہی جیسے یوکرین کو نہتا کر کے روس کے سامنے ڈال دیا گیا ہے۔
پاکستان کو ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنے کے لیے اسے معاشی طور پر مضبوط نہیں ہونے دیا جا رہا۔ 2018 کے بعد بطور خاص پاکستان کے معاشی بحران کو اس قدر گہرا کیا گیا کہ "دفاعی اخراجات" واقعی ملک اور قوم پر بوجھ دکھائی دینے لگے تھے۔ اسی دوران سول سوسائٹی کے نام پر سٹریٹیجک پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی گئیں، سوشل میڈیا، این جی اوز، اور لبرل طبقے نے ایٹمی پروگرام کو ’’بوجھ‘‘ قرار دینا کوئی معصوم سوچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ جس کا واحد مقصد پاکستان کو دفاعی طور پر غیر مؤثر بنانا ہے۔
یوکرین کا انجام چیخ چیخ کر پاکستان کو خبردار کر رہا ہے: "اگر تم نے اپنی عسکری طاقت کو کمزور ہونے دیا، تو کوئی "بوداپیسٹ جیسا معاہدہ تمہارے تحفظ کا ضامن نہیں ہو سکے گا — بھارت تمہارے سروں پر میزائل برسائے گا!" اور تم عالمی برادری سے اپیلیں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکو گے۔
یوکرین کا زوال اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ جو قوم اپنی طاقت چھوڑتی ہے، وہ اپنی زمین، نسل اور عزت سب کچھ کھو دیتی ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کوئی فخر یا نمائشی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک زندہ قوم کی بقاء کی ضمانت ہے۔ امن صرف طاقت سے ممکن ہے۔ کمزور کا کوئی دوست نہیں ہوتا — صرف وعدے ہوتے ہیں، وہ بھی جھوٹے۔
البتہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ معاشی استحکام کے بغیر ایٹمی اور **اسٹریٹیجک** اثاثے بھی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سوویت یونین ہے۔
پاکستان کی سلامتی کے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ ہم معاشی بحران سے نکلنے کے لیے "خود انحصاری" کو فروغ دیں۔ اس کے لیے، اشرافیہ اور بیوروکریسی کے تمام غیر ضروری اخراجات ختم کیے جائیں، جبکہ حکومت کے نان-ڈیویلپمنٹ اخراجات میں 50 فیصد تک کمی لائی جائے۔ بنیادی یوٹیلیٹیز جیسے بجلی، گیس، ڈیزل/پیٹرول اور اشیائے خود نوش کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لا کر عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) کے لیے جی ڈی پی کا ایک فیصد مخصوص کیا جائے تاکہ جدت اور خود کفالت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ، کاروبار اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹھوس پالیسیاں اپنائی جائیں، اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شرح کو کم کیا جائے۔
دوسری جانب، پاکستان کی "ایٹمی پالیسی کو ایک ناقابلِ واپسی قومی اثاثہ" قرار دیا جائے۔ لبرل این جی اوز اور بیرونی ایجنڈے پر چلنے والی لابیوں کی ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی مہم کو قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔ دفاعی صنعت اور سٹریٹیجک اداروں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے تاکہ ہماری دفاعی صلاحیتیں ہمیشہ مضبوط رہیں۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ معاشی عدم استحکام اور سٹریٹیجک اثاثوں سے محرومی دونوں ہی ریاست پاکستان کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوں گے۔ جس طرح یوکرین نے اپنی ایٹمی طاقت کھو کر بے بسی کا سامنا کیا، اسی طرح پاکستان بھی اگر معاشی طور پر کمزور اور دفاعی طور پر نہتا ہوا تو اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں، اور دفاعی قوت کے بغیر ملکی سالمیت کو یقینی بنانا ایک خواب ہے۔
لہٰذا، "خود انحصاری، معاشی استحکام، اور ایٹمی دفاع کو قومی ترجیح بنانا ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔"
اللہ تعالی ہمارے ملک پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمائے- آمین

28/02/2026

بصرۃ (مضافاتی) اور رطب پر خصوصی رعایت!
20 کلو تک آرڈر پر سپیشل ڈسکاونٹ 👌

جب آپ دیسی گھی ہم سے لیتے ہیں اور دیسی گھی میں  گوشت بناتے ہیں۔ لیں گوشت کا منہ بھی خوشی سے کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے😋😍😁  ...
18/08/2025

جب آپ دیسی گھی ہم سے لیتے ہیں اور دیسی گھی میں گوشت بناتے ہیں۔
لیں گوشت کا منہ بھی خوشی سے کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے😋😍😁

Pakistan Zindabad! Choose our dry fruits for a healthy life and memorable moments.پاکستان زندہ باد! صحت مند زندگی اور می...
13/08/2025

Pakistan Zindabad! Choose our dry fruits for a healthy life and memorable moments.
پاکستان زندہ باد! صحت مند زندگی اور میٹھے لمحات کے لیے ہمارے خشک میوے منتخب کریں۔ یومِ آزادی اسپیشل آفر: تمام خشک میووں پر 20% خصوصی رعایت۔ آن لائن آرڈر کریں یا ہمارے اسٹور پر آئیں۔

Bunyanum Marsoos ❤
10/05/2025

Bunyanum Marsoos ❤

Eid is a reminder of gratitude, kindness, and togetherness. May you be blessed with all the goodness in life!
30/03/2025

Eid is a reminder of gratitude, kindness, and togetherness. May you be blessed with all the goodness in life!

اپنی محدود آمدنی میں خوش رہئیے ۔۔کسی سے اپنا موازنہ مت کیجئیے۔۔سستا پہن لیجئیے ۔۔۔سادہ کھا لیجئیے ۔۔۔بس حلال و حرام کی ت...
13/11/2024

اپنی محدود آمدنی میں خوش رہئیے ۔۔کسی سے اپنا موازنہ مت کیجئیے۔۔سستا پہن لیجئیے ۔۔۔سادہ کھا لیجئیے ۔۔۔بس حلال و حرام کی تمیز رکھئے....


دوستو !  یہ ناشتہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کا وزن بڑھا ہوا ہو، شوگر ہو اور یہ کہ یہ تصویر اور مقدار ڈاکٹر/ نیوٹرینشٹ کی طرف...
08/11/2024

دوستو ! یہ ناشتہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کا وزن بڑھا ہوا ہو، شوگر ہو اور یہ کہ یہ تصویر اور مقدار ڈاکٹر/ نیوٹرینشٹ کی طرف سے مقرر کی -

لاہور واقعے پر جو عاصم اللہ بخش صاحب کی رائے ہے وہی میری رائے  ہے۔ میں عاصم صاحب کو قریب 25 سالوں سے جانتا ہوں   ان کی د...
16/10/2024

لاہور واقعے پر جو عاصم اللہ بخش صاحب کی رائے ہے وہی میری رائے ہے۔

میں عاصم صاحب کو قریب 25 سالوں سے جانتا ہوں ان کی دیانت بھی مسلمہ ہے اور یہ تجزیے کی صلاحیت بھی غیر معمولی ہے۔

اگر انہوں نے اس واقعے پر کچھ لکھا ہے تو ایسے نہیں لکھا ہو گا۔ ہر ممکن حد تک چھان پھٹک کے بعد ہی لکھا ہو گا۔

ورنہ وہ خاموش رہتے۔

پاکستان میں ابلاغی پوسٹ ٹروتھیوں کی ہنر کاری بہت Lethal اور تباہ کن ہوتی جا رہی ہے۔ اس واقعے کو منطقی انجام تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔

جرم ہوا ہے تو مجرم کو نشان عبرت بنایا جائے اور پوسٹ ٹروتھیوں کا فتنہ ہے تو اس سے نبٹا جائے۔

بیچ کی کوئی راہ نہیں۔

--------

۔
آصف محمود

---------

۔

عاصم اللہ بخش صاحب کی تحریر:

بظاہر ایسا لگتا ہے پاکستان میں اس وقت ایک بہت بڑا Social Experiment انڈر پراسیس ہے جس میں سو فیصد فیک نیوز کو بذریعہ سوشل میڈیا حقیقت ثابت کرنے اور اس کے نتیجہ میں سماجی ابال اور اس سے کسی بڑی گڑبڑ جیسے کہ خانہ جنگی یا امن و امان کا مکمل بحران پیدا ہو سکنے یا کر دینے کے امکان کا جائزہ لینا مقصود ہے۔

پنجاب کالج جیسے بڑے گروپ کا انتخاب، بہت منظم سوشل میڈیا مہم اور پھر طلباء کا احتجاج اور اس میں بڑھتی تیزی۔۔۔ بہت اہم نکات ہیں۔

جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی عمومی سلسلہ نہیں۔ اس پر گہری نظر رکھیے۔ یا اس میں تیزی آئے گی یا پھر کچھ عرصہ میں اس سے بھی سنگین قسط جاری ہو گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی بھی تجربے کے لیے ہماری زمین اس وقت بہت زرخیز ہے ۔۔۔ نوجوان اکثریتی آبادی جو غیر مطمئن ہے، بلکہ ۔۔۔ غصہ میں ہے، رائے سازی کے لیے اس کا سوشل میڈیا پر غیر معمولی انحصار ہے اور معاشرے میں ہر لمحہ بڑھتی خلیج اور کنفیوژن ردعمل کے لیے کسی ٹھوس وجہ کو غیر اہم کر چکی ہے۔

اس صورتحال میں خود کو جذبات میں بہہ جانے سے روکیں اور معاملہ چاہے مخالف کا ہو یا دوست کا، رد عمل دینے میں عجلت نہ کریں۔ ثبوت کا تقاضا کریں یا اس کا انتظار کریں۔

لمحوں کی غلطی، صدیوں کی سزا بن سکتی ہے۔

گمر،اہ کن میڈیا اور منا،فق ملحدین؛تحریر؛ حافظ ابو یحییٰ نورپوری اللہ تعالی کسی کو مال کی فراوانی عطا فرمائے تو قیمتی لبا...
20/07/2024

گمر،اہ کن میڈیا اور منا،فق ملحدین؛

تحریر؛ حافظ ابو یحییٰ نورپوری

اللہ تعالی کسی کو مال کی فراوانی عطا فرمائے تو قیمتی لباس، عمدہ کھانے، پر شکوہ رہائش اور آرام دہ سواری پر کوئی قدغن نہیں، لیکن دولت کو بھونڈے طریقے سے نمائش کی آگ میں جھونکنا ایک نفسیاتی مرض ہے، نفسیات کے طالب علم اس بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔

گزشتہ کئی مہینوں سے عالمی میڈیا میں امبانیز کی شادی کی کوریج ہو رہی ہے۔ ایک شادی پر بے جا طور پر اربوں کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور اس ساری فضول خرچی میں مال یا تو سراسر ضائع ہو رہا ہے یا چند امیروں کی پہلے سے بھری ہوئی تجوریوں میں زبردستی ٹھونسا جا رہا ہے۔

اسلام اور دیگر ادیان کو تو ایک طرف رکھیں، کیا کوئی سنجیدہ انسان یا دور جدید کا کوئی نام نہاد مہذب معاشرہ بھی ایسی سیاہ خرچی کی اجازت دے سکتا ہے؟

میڈیا پر ایسے بے ہودہ طریقے سے دولت کی نمائش دیکھ کر غریب تو غریب، اکثر متوسط بلکہ امیر لوگ بھی احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہوں گے اور آئندہ ان کے لیے شادی مزید تکلفات سے بھری مصیبت بن جائے گی۔

ہمارے لیے سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا ہمارے میڈیا سے کوئی ایسی آواز اٹھی جس میں طلب شہرت اور تفاخر کے اس موذی مرض کی نشان دہی کر کے اس کے علاج کی کوشش کی گئی ہو؟

یا میڈیا کا کام صرف یہی ہے کہ ایسے ایوینٹس کو خوب نمایاں کر کے اور "تاریخ کی مہنگی ترین شادی" کا ٹائٹل لگا کر لوگوں کو فکری طور پر منتشر اور پریشان کرتا رہے؟

دوسری طرف منا،فق ملحدین ہیں، جنہیں غریبوں کی با عزت روزی روٹی کے انتظام پر مبنی قربانی جیسا میگا پراجیکٹ ہی تنقید کے لیے نظر آتا ہے، وہ قربانی کے موقع پر تو "واٹر کولر لگانے" اور "غریب کی بیٹی کی شادی" کی بات کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ قربانی کے موقع پر لاکھوں نہیں کروڑوں غریب لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر با وقار طریقے سے ٹھنڈے پانی اور شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔

کیا امبانیز کی شادی کے موقع پر لبرلز نے ایسی کوئی توانا آواز اٹھائی؟
کیا اس احم،قانہ طرز عمل پر بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملح،دین کی طرف سے ٹرینڈز چلائے گئے؟

بطور مسلمان، ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے باقی پہلؤوں کی طرح شادی کے موقع پر بھی سنجیدگی، سادگی اور متانت کا سبق (جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) دے کر ہر قسم کے احساس کمتری سے بالا کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ہوتے ہوئے ہمیں امبانی طرز کا کوئی مشہور عالمی لفنگا متاثر نہیں کر سکتا۔

ہم اپنی مسلمان بہنوں، بیٹیوں سے بھی گزارش کریں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں اور صحابیات کی با وقار زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا میں نمایاں کی جانے والی ایسی اوچھی حرکتوں کو جوتے کی نوک پر رکھیں۔

دولت کے بے دریغ ضیاع اور شہرت کی بے لگام طلب میں ذرہ برابر بھی سکون نہیں، دین اسلام جو کہ تمام خوبیوں کا منبع اور تمام محاسن کا مرقع ہے، اسی پر عمل پیرا ہونے میں کامل اطمینان ہے۔

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Soghat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Soghat:

Share