16/11/2025
لڑکیوں کو شادی کے بعد سپیس دیں کہ وہ آپ کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو سکیں اسکا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں کو چائے بنانی تک نا آتی ہو ہاں آپ کے یہاں کیسی چائے پسند کی جاتی ہے اس کے لیے ٹائم درکار ہے۔
لڑکے کی شادی تب ہوتی ہے جب وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو اس کی معقول جاب ہو وہ زمہ داری سے اپنی جاب کر رہا ہو وقت پر آفس جاتا ہو کام سے جی نا چراتا ہو اور اپنی فیملی کو سپورٹ کر سکتا ہو۔
بعض جگہ تو لڑکے شادی کا خرچ بھی اٹھاتے ہیں۔ شادیاں مکمل والدین کی زمہ داری نہیں ہوتیں۔
بالکل اسی طرح جب لڑکی کی شادی کریں تو اسے گھر داری سکھا کے بھیجیں اسے گھرداری کے بیسک کام آتے ہوں کچن کے تمام کام گروسری کرنے سے لے کے کھانا پکانے تک اور لانڈری کرنے سے لے کے آئرن کرنے تک۔
اسکا مطلب یہ نا لیا جائے کہ وہ کوئی نوکرانی بننے جا رہی ہے بلکہ وہ ایک گھر کی مالکن بننے جا رہی ہے مالکن بننے کے بھی کچھ تقاضے ہیں جیسے احساس زمہ داری، گھر داری کی سمجھ بوجھ ہونا۔
جس طرح نالائق نکمے لڑکے اچھے نہیں لگتے اسی طرح پھوہڑ لڑکیاں بھی اچھی نہیں لگتیں۔
شادی کے بعد ویسے بھی ہم اپنی ذات سے نکلتے ہیں اور خاندان کے لیول پر آجاتے ہیں اسی حساب سے خود کو ٹرین کرنا ضروری ہے۔
ہاں سسرال والے اپنے گھر میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے مکمل تعاون کریں مددگار ہوں ٹائم دیں سپیس دیں آنے والی لڑکی پر بوجھ نا لادیں۔
سسرال والے ماحول میں ڈھلنا سیکھا سکتے ہیں اپنا ماحول بنانا سیکھا سکتے ہیں مگر گھر داری کی سمجھ بوجھ آپ اپنے والدین کے گھر سے ہی سیکھ کر آئیں۔
خود سوچیں شادی کے بعد اگر لڑکے نوکری میں دلچسپی نا لیں لیٹ سو کر اٹھیں اکثر چھٹی کر لیں ان کی تنخواہ کٹنے لگے یا پھر ان کو نوکری سے ہی فارغ کر دیا جائے تو آپ کا امپریشن ان لڑکوں کے بارے میں کیا ہو گا یہ بات تو لڑکے بھی کہہ سکتے ہیں مجھ پر بوجھ نا لادو نوکری کرنا سیکھ جاوں گا صبح اٹھنے کی عادرلت پڑ جائے گی مگر ہم اکثر لڑکوں میں ایسی کوئی عادت نہیں دیکھتے ان میں پہلے دن سے زمہ داری کا احساس ہوتا ہے کہ کمایا نہیں تو گھر نہیں چلے گا ۔
بالکل اسی طرح لڑکیاں بھی سمجھیں کہ احساس زمہ داری کے بغیر انکا گھر بھی نہیں چلے گا۔ اس لیے اپنے آپ کو اپ گریڈ کریں گھر داری میں صرف کام کرنا آنا نہیں بلکہ بجٹنگ آنا، ترجیحات کا تعین کرنا آنا ، لوگوں کو ڈیل کرنا آنا، ملازموں سے کام لینا آنا یہ سب بھی اہم ہے۔
جویریہ ساجد
16 نومبر 2025