06/09/2026
6 ستمبر: یوم دفاعِ پاکستان
6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم، تاریخی اور ناقابلِ فراموش دن ہے۔ یہ دن 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہماری مسلح افواج اور عوام کی طرف سے وطنِ عزیز کی سلامتی اور دفاع کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں اور جذبۂ حب الوطنی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر
6 ستمبر 1965ء کی تاریک رات میں دشمن نے بغیر کسی باقاعدہ اعلانِ جنگ کے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاہور، سیالکوٹ اور دیگر سرحدی علاقوں پر اچانک حملہ کر دیا۔ دشمن کا غرور تھا کہ وہ چند گھنٹوں میں لاہور فتح کر لے گا، لیکن پاک فوج کی جرات، شجاعت اور پختہ ایمان کے سامنے دشمن کے تمام عزائم خاک میں مل گئے۔
پاک افواج کی شجاعت
1965ء کی جنگ میں پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے جوانوں نے شجاعت اور بہادری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ سیالکوٹ کے مقام پر دنیا کی تاریخ میں ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ لڑی گئی، جہاں ہمارے بوجرأت جوانوں نے اپنے جسدِ خاکی سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کو تباہ کیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے ایئر بیسز کو تباہ کر کے فضاؤں پر اپنی دھاک بٹھا دی، جبکہ پاک بحریہ نے 'آپریشن دوارکا' کے ذریعے دشمن کے بحری حصار کو مفلوج کر دیا۔
عوامی جذبہ
یومِ دفاع صرف افواجِ پاکستان کی بہادری کا دن نہیں بلکہ یہ قوم کے یکجہتی اور اتحاد کا بھی دن ہے۔ اس جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانے سے شانہ ملا کر کھڑی ہوئی۔ فنکاروں، شاعروں، صحافیوں اور عام شہریوں نے جس جذبے کا مظاہرہ کیا، اس نے فوج کے حوصلوں کو مزید بلند کیا۔
شہدائے وطن کو خراجِ تحسین
اس جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) سمیت متعدد افسران اور جوانوں نے وطنِ عزیز کی دفاع کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔ یومِ دفاع کا دن ہمیں ان تمام شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے اپنی تاریخ سے یہ ثابت کیا کہ شجاعت اور ایمان کی قوت کے سامنے عددی برتری کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
نتیجہ
یومِ دفاعِ پاکستان ہمیں اتحاد، تنظیم اور پختہ یقین کا سبق دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ دن ہمیں اپنے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے یکجا ہونے اور پاک افواج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کی تجدید سکھاتا ہے۔