03/08/2026
اپنے بچوں کو غلام مت بنائیں..!
کوئی تین ماہ پہلے کی بات ہے لاہور جارہا تھا تو میرے ہم رکاب نے جو کہ میرے ساتھ شناسائی رکھتے تھے ۔۔ پوچھا کہ میرا بیٹا چار سال کا ہے کس سکول میں داخل کرواؤں جو سب سے اچھا پڑھاتے ہوں ۔
بجائے اس کے سوال کا جواب دینے کے میں نے ان سے پوچھا آپ نے بچے کو کیوں پڑھانا ہے ؟
کہنے لگے پڑھ لکھ کے نوکری کرے گا؟
پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟
کہنے لگے ایلومینیم کا کام کرتا ہوں
پھر پوچھا کہ آپ ماہانہ کتنا کما لیتے ہیں جھوٹ مت بولنا۔۔
ہنس کے کہنا لگا پائین سچ بتاؤں تو ایک لاکھ سے کم بہت ہی کم ہوتا ہے کہ مہینے کی انکم ہو۔
میں نے پھر کہا کہ یہ بتائیں آپ کی تعلیم کتنی ہے ۔
کہتا ہے میں نے تو دسویں میں چھوڑ دیا تھا اور کام سیکھ لیا تھا۔
میں نے پھر سوال کیا کہ فرض کریں آپ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہوتے اور سرکاری ملازم ہوتے تو آپ کی تنخواہ کتنی ہوتی ۔۔۔
وہ پھر ہنسا ۔۔۔کہتا ہے ۔۔ سر جی پچاس سے ستر ہزار۔۔ وہ بھی پندرہ سال نوکری کرنے کے بعد
میں نے پھر پوچھا کہ آپ کی زندگی اب بہتر ہے یا اگر سرکاری ملازم ہوتے تو بہتر تھی ۔۔
کہنے لگا یہ سچ ہے کہ اب بہت بہتر ہے ۔۔
اب میں اس کے سوال کے جواب کی طرف آیا ۔ ۔میں نے کہا کہ اگر تو آپ یہ چاہتے ہوں کہ بچہ پڑھ لکھ کے کچھ بنے تو پھر ابھی سے نیت کر لو کہ وہ پی ایچ ڈی کرے گا اور تعلیم کی بنیاد پہ اپنا کیرئیر بنائے گا۔جیسا کہ میں آپ کے سامنے ہوں ۔۔۔ میری زندگی تعلیم کی بنیاد پہ گزر رہی ہے ۔۔ کیونکہ میں نے کم از کم اس معیار کی تعلیم حاصل کرلی ہے جہاں بندے کا " کھان پین " یعنی کھانا پینا پورا ہوتا ہے یا وہ گھر وغیرہ بنا لیتا ہے ۔۔
لیکن اگر تو آپ کا یہ مقصد ہو کہ آپ کا بچہ چھوٹا موٹا سرکاری ملازم بنے جو سولہویں سکیل سے آگے ہی نہ بڑھ سکے تو پھر بہتر ہے ملازمت ہی اگر کروانی ہے تو اپنے کاروبار میں اسے لگا لو اور اپنے پاس ملازمت دے دو۔
تعلیم برائے نوکری کی بجائے تعلیم برائے سمجھ بوجھ اپناؤ۔۔۔
میٹرک تک بنیادی تین طرح کی تعلیم بچے کو دلوائیں ۔۔
ایک زبان جس میں بچہ بات چیت کرسکے یعنی کہ اردو ۔ ۔ انگریزی بالکل نہ سکھائیں کیونکہ 80 فیصد پاکستانی ابھی بھی انگریزی نہیں جانتے
دوسرا۔۔ بنیادی ریاضی جس میں بچہ حساب کتاب کرسکے
اور تیسرا جنرل نالج کہ بچے کو حالاتِ حاضرہ کے بارے میں معلومات ہوں ۔
فزکس ، بیالوجی ، کیمسٹری ،سائنس آرٹس لینگوئج۔۔۔ یہ بچے کو تب پڑھائیں جب اس نے اسی شعبے میں آگے جانا ہو اور آخری حد کو چھونا ہو یعنی پی ایچ ڈی ۔۔۔
میں نے اس سے پھر پوچھا کہ آپ کتنے ایسے لڑکوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اچھے انگش سکولوں میں پینٹ شرٹ پہن کے ممی ڈیڈی بچہ بن کے بہت اچھی ( بقول سکولوں والوں کے ) تعلیم حاصل کی اور بی اے یا ایم کے بعد کسی نہ کسی کاروبار میں یا کوئی ہنر سیکھ کے دکانداری چلا رہے ہیں ۔۔
وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہا ۔۔ سینکڑوں ہیں سر جی ۔۔ جو صرف ڈگریاں ہاتھ میں پکڑے کام سیکھ رہے ہیں ۔۔
پھر میں نے اسے اپنا تجربہ بتایا کہ ہم ٹاٹ سکول میں پڑھتے تھے ۔۔ جبکہ پڑوس کے دو بچے ( کے جی کنڈن گارڈن) سکول میں پڑھتے تھے ۔ ان میں سے ایک کی چوڑیوں کی دکان ہے اور دوسرا کسی پرائیویٹ ادارے میں چھوٹی موٹی نوکری کرتا ہے ۔
یہ ایک مکالمہ تھا۔۔۔ ہمارے والدین میں مندرجہ ذیل ذہنی بیماریاں ہیں جو بچوں میں منتقل ہوتی ہیں
ایک : بچہ پہلی پوزیشن لے گا۔۔ بچہ زیادہ نمبر لے تاکہ ( فلاں فلاں فلاں ) کے سامنے ہم فخر سے کہیں کہ ہمارا بچہ زیادہ ذہین ہے یا فیس بک پہ اس کا رزلٹ کارڈ لگا کے دنیا سے واہ واہ سمیٹیں ۔ یعنی نمبر گیم میں مبتلا
دو: بچہ پڑھ لکھ کے نوکری کرے گا تو اس کا مستقبل روشن ہوگا۔۔
تین : وائٹ کالر جاب بہترین سٹیٹس کی علامت ہوتی ہے
۔
نبی پاک ؐ کے پاس ایک بدو آیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی ؐ میں بے روزگار ہوں کوئی کام دلوا دیں ۔۔ آپؐ نے ایک کلہاڑی خریدی اور اس میں اپنے ہاتھ سے دستہ ڈال کر اس بدو کو دی اور کہا کہ تم لکڑیاں کاٹ کر فروخت کیا کرو ۔۔نہ کہ اسے نوکری دلوائی ۔
اپنے ہم رکاب سے بھی میں نے یہی کہا تھا کہ آپ بچے کو بنیادی تعلیم دلوائیں اور کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرکے اسے ساتھ لگائیں بجائے کسی کا نوکر بنانے کے اسے اپنے کاروبار کا مالک بنائیں ۔۔
یہی بات میں سب والدین سے کہوں گا۔۔ پچھلے پچاس سال سے دماغوں میں پیدا ہونے والی بیماری اور خناس کو نکالیں کہ نوکری بہتر ہوتی ہے ۔ بچوں کو صاف ستھرا سفید کپڑوں میں ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔ بچوں کو کاروبار کروائیں ۔۔ انسان جتنا کاروبار سے سیکھتا ہے نوکری سے سیکھ ہی نہیں سکتا۔۔
ہیگل کی فلاسفی ماسٹر اینڈ سلیو یعنی آقا اور غلام کے مطابق غلام ( ملازم ) کی سوچ آہستہ آہستہ محدود ہوجاتی ہے ۔۔ وہ گھوڑے کی طرح جس طرف آقا موڑے اسی طرف مڑ جاتا ہے اور جہاں آقا کھڑے ہو کر انتظار کرنے کا کہیں وہاں سے آگے نہیں بڑھتا۔ جبکہ نیا آئیڈیا سوچنے کی ذمہ داری صرف آقا کی رہ جاتی ہے ۔ غلام آہستہ آہستہ یہ سوچنا ہی چھوڑ دیتا ہے کہ کچھ نیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔۔ اپنے بچوں کو غلام ( ملازم ) مت بنائیں بلکہ آقا بنائیں۔۔