Gujjar Dairies

Gujjar Dairies خالص ہی گجر کی پہچان ہے کیونکہ خالص ہی زندگی ہے

🇬🇧✨ برمنگھم سے اسکاٹ لینڈ اور پھر لندن تک — یوکے کے یادگار سفر کی خوبصورت یادیںالحمدللہ، زندگی کے کچھ سفر صرف شہروں اور ...
02/09/2026

🇬🇧✨ برمنگھم سے اسکاٹ لینڈ اور پھر لندن تک — یوکے کے یادگار سفر کی خوبصورت یادیں

الحمدللہ، زندگی کے کچھ سفر صرف شہروں اور ملکوں کی سیر نہیں ہوتے بلکہ وہ علم، تجربے، نئے تعلقات اور خوبصورت یادوں کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ میرا برطانیہ کا سفر بھی انہی یادگار سفروں میں سے ایک رہا۔

اس سفر کا آغاز برمنگھم سے ہوا، جہاں مجھے UK Dairy Day میں شرکت کا موقع ملا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ڈیری سیکٹر، جدید فارمنگ ٹیکنالوجی، جینیٹکس، بریڈنگ، فیڈنگ، فارم مینجمنٹ اور ڈیری انڈسٹری میں ہونے والی نئی پیش رفت کو قریب سے دیکھنا میرے لیے نہایت اہم تجربہ تھا۔ ایسے بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت سے یہ احساس مزید مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان کے ڈیری اور لائیوسٹاک سیکٹر کو آگے لے جانے کے لیے ہمیں دنیا کے کامیاب ماڈلز سے سیکھتے ہوئے انہیں اپنے مقامی حالات کے مطابق اپنانا ہوگا۔

برمنگھم کے بعد سفر کا رخ اسکاٹ لینڈ کی جانب ہوا۔ اسکاٹ لینڈ کی قدرتی خوبصورتی، سبز و شاداب مناظر، پرسکون ماحول اور وہاں گزارے گئے لمحات آج بھی یادوں میں تازہ ہیں۔ ہر نئی جگہ انسان کو دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور کچھ نیا سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔

اس کے بعد میں لندن پہنچا۔ تاریخ اور جدید ترقی کا حسین امتزاج رکھنے والا لندن اپنی الگ ہی پہچان رکھتا ہے۔ شہر کی مصروف زندگی، تاریخی مقامات، جدید انفراسٹرکچر اور مختلف ثقافتوں کے لوگوں کو ایک ساتھ دیکھنا ایک خوبصورت تجربہ رہا۔

برمنگھم کے UK Dairy Day سے لے کر اسکاٹ لینڈ کی خوبصورتی اور پھر لندن کی یادگار مصروفیات تک، یہ پورا سفر میرے لیے صرف ایک وزٹ نہیں بلکہ سیکھنے، مشاہدہ کرنے اور پاکستان کے ڈیری فارمر کے لیے نئی سوچ اور نئے امکانات تلاش کرنے کا سفر تھا۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے دنیا دیکھنے، علم حاصل کرنے اور اپنے ملک و کسان کے لیے کچھ بہتر سوچنے کے مواقع عطا فرمائے۔

ماشاءاللہ، لا قوۃ إلا باللہ۔
دعا ہے کہ یہ سفر اور تجربات پاکستان کے ڈیری و لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری اور ہمارے کسان کی ترقی کے لیے کسی نہ کسی صورت میں فائدہ مند ثابت ہوں۔

🇵🇰🤝🇬🇧
پاکستان سے برطانیہ تک — سفر علم کا، مقصد کسان کی ترقی کا۔

🚧 کراچی میں ناتھا خان سے گلستانِ جوہر تک نیا لنک روڈ — لاکھوں شہریوں کے لیے گیم چینجر منصوبہ بننے کی توقعکراچی: شہر میں ...
30/08/2026

🚧 کراچی میں ناتھا خان سے گلستانِ جوہر تک نیا لنک روڈ — لاکھوں شہریوں کے لیے گیم چینجر منصوبہ بننے کی توقع

کراچی: شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کرنے اور گلستانِ جوہر سمیت مشرقی کراچی کے علاقوں کو شارع فیصل سے بہتر انداز میں منسلک کرنے کے لیے ناتھا خان فلائی اوور سے گلستانِ جوہر اور پہلوان گوٹھ تک نئے لنک روڈ کا منصوبہ کراچی کے اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے مطابق نیا راستہ ناتھا خان فلائی اوور کے قریب سے شروع ہو کر حبیب یونیورسٹی کے عقب سے گزرتے ہوئے پہلوان گوٹھ سے منسلک ہوگا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق اس متبادل راستے کا مقصد شارع فیصل سے گلستانِ جوہر اور صفورا کی جانب آنے جانے والے شہریوں کو بہتر رابطہ فراہم کرنا اور موجودہ مصروف سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے۔

اس منصوبے کے ساتھ پہلوان گوٹھ روڈ سے حبیب یونیورسٹی اور آگے ریس کورس روڈ، صفورا تک سڑک کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی شروع کیا جا چکا ہے، جس میں ڈوئل کیرج وے، نکاسیٔ آب، سیوریج اور اسٹریٹ لائٹس جیسی سہولیات شامل ہیں۔

🚗 نئے لنک روڈ کے اہم فوائد

• گلستانِ جوہر سے شارع فیصل تک متبادل راستہ دستیاب ہوگا، جس سے شہریوں کو صرف جوہر موڑ اور دیگر روایتی راستوں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

• ناتھا خان، حبیب یونیورسٹی اور پہلوان گوٹھ براہِ راست منسلک ہونے سے گلستانِ جوہر، صفورا اور قریبی علاقوں کی رسائی بہتر ہوگی۔

• جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک رسائی آسان ہونے کی توقع ہے، خصوصاً گلستانِ جوہر اور مشرقی کراچی سے آنے والے مسافروں کے لیے۔

• عسکری 4، ڈالمیا، جوہر موڑ اور پرفیوم چوک جیسے مصروف مقامات پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ انہی مقامات پر شدید رش کو منصوبے کی ایک اہم وجہ بتایا گیا تھا۔

• اسکیم 33 اور صفورا کے شہریوں کے لیے بھی پہلوان گوٹھ کوریڈور کے ذریعے شارع فیصل کی طرف ایک اضافی رابطہ میسر آسکتا ہے۔

• متبادل راستے کی وجہ سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کا خرچ اور ٹریفک میں ضائع ہونے والا وقت کم ہونے کی توقع ہے۔

• کسی ایک مرکزی سڑک پر حادثے، تعمیراتی کام یا غیر معمولی رش کی صورت میں یہ کوریڈور Alternative Traffic Route کے طور پر بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں گلستانِ جوہر اور پہلوان گوٹھ کے موجودہ راستوں پر خراب سڑکوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا بھی رہا ہے، اس لیے ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل انتہائی اہم ہوگی۔

اگر ناتھا خان → حبیب یونیورسٹی → پہلوان گوٹھ → گلستانِ جوہر/صفورا کوریڈور منصوبے کے مطابق مکمل ہوجاتا ہے تو یہ صرف ایک نئی سڑک نہیں بلکہ مشرقی کراچی اور شارع فیصل کے درمیان ایک اہم نیا ٹریفک کوریڈور بن سکتا ہے۔

کراچی جیسے بڑے شہر کو ایسی نئی متبادل شاہراہوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ آبادی اور گاڑیوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ شہریوں کو تیز، محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

🌙✨ عید میلاد النبی ﷺ مبارک ✨🌙گجر ڈیریز کی جانب سے تمام اہلِ وطن اور پوری امتِ مسلمہ کو عید میلاد النبی ﷺ کی دلی مبارکباد...
25/08/2026

🌙✨ عید میلاد النبی ﷺ مبارک ✨🌙

گجر ڈیریز کی جانب سے تمام اہلِ وطن اور پوری امتِ مسلمہ کو عید میلاد النبی ﷺ کی دلی مبارکباد۔

یہ مبارک دن ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اُس عظیم سیرت کی یاد دلاتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے رحمت، محبت، عدل، اخوت، دیانت، رواداری، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔

آئیے اس بابرکت موقع پر عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور معاشرے میں محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔

اللہ تعالیٰ اس مقدس دن کے صدقے پوری امتِ مسلمہ پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے، ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے، ہمارے رزق و کاروبار میں برکت دے اور ہمیں سیرتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

💚🇵🇰 گجر ڈیریز کی جانب سے عید میلاد النبی ﷺ مبارک 🇵🇰💚

Shakir Umar Gujjar
Gujjar Dairies

حضرت قبلہ بابا سائیںالحاج الحافظ غلام محمد سوہو محمودی قادریعلم و روحانیت، دعوتِ اسلام، خدمتِ انسانیت اور شفقت کا روشن م...
16/08/2026

حضرت قبلہ بابا سائیں

الحاج الحافظ غلام محمد سوہو محمودی قادری

علم و روحانیت، دعوتِ اسلام، خدمتِ انسانیت اور شفقت کا روشن مینار

تحریر: شاکر عمر گجر

سندھ کی سرزمین صدیوں سے اولیائے کرام، صوفیائے عظام، علمائے دین اور انسانیت سے محبت کرنے والی عظیم ہستیوں کا مسکن رہی ہے۔ اسی درخشاں روحانی روایت کا ایک معتبر اور روشن حوالہ حضرت قبلہ الحاج الحافظ غلام محمد سوہو محمودی قادری ہیں، جنہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں عقیدت مند محبت و احترام سے ’’بابا سائیں‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔

بابا سائیں کا شمار پاکستان، بالخصوص سندھ کی نہایت ممتاز اور بااثر روحانی و مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کی زندگی دینِ اسلام کی دعوت، محبتِ رسول اکرم ﷺ، ذکرِ الٰہی، اصلاحِ معاشرہ، تزکیۂ نفس، خدمتِ انسانیت اور امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے وقف ہے۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، لہجے میں شفقت اور پیغام میں ایسی روحانی تاثیر پائی جاتی ہے جو سننے والوں کے دلوں کو متاثر کرتی ہے۔

سلسلۂ عالیہ قادریہ محمودیہ سے وابستگی

حضرت بابا سائیں کا روحانی تعلق سلسلۂ عالیہ قادریہ محمودیہ سے ہے۔ انہیں بغداد شریف میں واقع آستانۂ عالیہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، یعنی دربارِ غوثِ اعظمؒ سے خلافت کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ عظیم نسبت ان کے روحانی مقام اور سلسلۂ قادریہ کی تعلیمات سے گہری وابستگی کی علامت ہے۔

آپ آستانۂ عالیہ قادریہ محمودیہ، غلام محمد آباد، ستیانی شریف، سندھ سے وابستہ اور جماعتِ قادریہ محمودیہ انٹرنیشنل پاکستان کے روحانی پیشوا ہیں۔ آپ کی خانقاہ، مجالس اور اجتماعات ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے روحانی سکون، محبت، اصلاح اور رہنمائی کا مرکز ہیں۔

ہزاروں غیر مسلموں کا قبولِ اسلام

بابا سائیں کی دعوتی زندگی کا سب سے نمایاں اور قابلِ قدر پہلو یہ ہے کہ مختلف اوقات میں ہزاروں غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست پر کلمۂ طیبہ پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ یہ افراد محض اسلام قبول کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ بابا سائیں کی شفقت، تربیت اور روحانی رہنمائی سے وابستہ ہوکر آپ کے عقیدت مندوں اور پیروکاروں میں شامل ہوگئے۔

بابا سائیں نے دینِ اسلام کی دعوت جبر، نفرت اور تفریق کے بجائے اپنے حسنِ کردار، محبت، رواداری، اخلاص اور انسان دوستی کے ذریعے دی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ سچی دعوت وہ ہوتی ہے جو دلوں کو قریب کرے، انسان کو عزت دے اور اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت سے آشنا کرے۔

محبتِ رسول ﷺ اور اصلاحِ انسانیت کا پیغام

بابا سائیں کی مجالس اور خطابات کا بنیادی محور توبہ و استغفار، محبتِ رسول ﷺ، ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس، حسنِ اخلاق، احترامِ انسانیت اور باہمی محبت ہے۔ وہ عام فہم اور دل نشیں انداز میں قرآن و سنت اور صوفیانہ تعلیمات بیان کرتے ہیں، جن سے ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔

ملک بھر کی جامعات، مذہبی اجتماعات، دینی کانفرنسوں اور ذکرِ اہلِ بیتؓ و ذکرِ سیدنا امام حسینؓ کی مجالس میں انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کے بیانات لوگوں کو مایوسی سے امید، گناہ سے توبہ، نفرت سے محبت اور انتشار سے اتحاد کی جانب بلاتے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں میں غیر معمولی عقیدت

بابا سائیں کے عقیدت مند صرف عام لوگوں تک محدود نہیں؛ پاکستان کی ممتاز سیاسی، سماجی، علمی اور کاروباری شخصیات بھی ان سے گہری محبت اور عقیدت رکھتی ہیں۔ ملک کے اہم سیاسی خاندانوں میں شادی کی تقریبات کے موقع پر بابا سائیں سے نکاح پڑھوانے اور خصوصی دعا کروانے کو باعثِ سعادت و برکت سمجھا جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کا نکاح بھی حضرت بابا سائیں نے پڑھایا اور نوبیاہتا جوڑے کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ سندھ کے صاحبزادے سمیت متعدد ممتاز سیاسی و سماجی خاندانوں کے نکاح بھی بابا سائیں نے پڑھائے ہیں۔

ان تقریبات میں بابا سائیں کی شرکت کو محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ان کی دعاؤں، روحانی نسبت اور بزرگانِ دین کے فیض سے برکت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں پھیلا ہوا روحانی حلقہ

بابا سائیں کا روحانی فیض سندھ یا پاکستان کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں۔ ان کے عقیدت مند اور پیروکار دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ رنگ، نسل، زبان، قومیت اور معاشرتی حیثیت سے بالاتر ہوکر لوگ ان کے پیغامِ محبت، امن، رواداری اور انسان دوستی سے وابستہ ہیں۔

ان کی شخصیت مختلف مذاہب اور معاشرتی طبقات کے درمیان احترام، رواداری اور بھائی چارے کی ایک مضبوط علامت ہے۔ ان کے دروازے ہر انسان کے لیے کھلے ہیں اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کی جائے، کسی کا دل نہ توڑا جائے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق سنوارا جائے۔

بیماروں کے لیے دعا اور روحانی رہنمائی

بابا سائیں کی دینی و دعوتی خدمات کے ساتھ بیماروں، پریشان حال افراد اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے ان کی دعاؤں اور روحانی رہنمائی کا سلسلہ بھی پورے ملک میں جاری ہے۔ بابا سائیں کے درجنوں خلفاء پاکستان کے مختلف علاقوں میں قرآنِ کریم کی تلاوت، مسنون دعاؤں اور دم کے ذریعے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و شفا مانگتے ہیں۔

ہمارا کامل ایمان ہے کہ حقیقی اور کامل شفا عطا کرنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے۔ قرآنِ کریم کی آیات، نیک بندوں کی دعائیں اور روحانی توجہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریضوں کے لیے امید، حوصلے، راحت اور شفایابی کا وسیلہ بن سکتی ہیں۔ بابا سائیں اور ان کے خلفاء بھی ہر کامیابی اور شفا کو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم قرار دیتے ہیں۔

بابا سائیں کے عقیدت مندوں کے مطابق بلڈ کینسر، نخاع یعنی حرام مغز کے ٹیومر، فالج اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہزاروں سائلین نے بابا سائیں اور ان کے خلفاء سے دعائیں اور روحانی رہنمائی حاصل کی۔ ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی صحت میں نمایاں بہتری اور شفایابی کے تجربات بیان کیے ہیں۔

میرے خاندان کے دو ایمان افروز واقعات

میں خود ایسے دو واقعات کا عینی شاہد ہوں جو میرے اپنے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے لیے یہ محض سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ذاتی طور پر محسوس کیے گئے واقعات ہیں۔

میرے بھانجے کو بلڈ کینسر کا سامنا تھا۔ ہمارا پورا خاندان انتہائی پریشانی اور آزمائش کے عالم میں تھا۔ ہم بابا سائیں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دعا اور روحانی توجہ کی درخواست کی۔ بابا سائیں نے خصوصی شفقت فرمائی اور دعا و روحانی علاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل و کرم فرمایا اور میرے بھانجے کو صحت و زندگی عطا ہوئی۔

ہمارا خاندان اس شفایابی کو اللہ رب العزت کا عظیم احسان اور بابا سائیں کی دعاؤں کو اس کا ایک بابرکت وسیلہ سمجھتا ہے۔

اسی طرح میرے بہنوئی نخاع، یعنی حرام مغز میں ٹیومر کے باعث مفلوج ہوگئے تھے۔ ان کی حالت اس قدر سنگین تھی کہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر اور وہیل چیئر تک محدود ہوچکے تھے۔ ان کی یہ حالت پورے خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن تھی۔

اس مشکل وقت میں بابا سائیں کے خلیفہ سائیں نے نہایت خلوص، توجہ اور پابندی کے ساتھ ان کے لیے روحانی علاج اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔ اللہ رب العزت نے اپنا خاص فضل فرمایا، ان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی اور انہیں وہیل چیئر کی محتاجی سے نجات نصیب ہوئی۔

ہمارے لیے یہ تبدیلی اللہ تعالیٰ کی رحمت و قدرت اور بابا سائیں کے روحانی فیض سے وابستہ سائیں سلیمان کی دعاؤں کا ایک بابرکت وسیلہ ہے۔

درجنوں خلفاء کی ملک گیر خدمت

آج بابا سائیں کے درجنوں خلفاء پورے پاکستان میں دکھی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ وہ بیماروں اور پریشان حال لوگوں کی بات سنتے، ان کے لیے دعا کرتے اور انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں روحانی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

اس خدمت کا مقصد کسی ذاتی شہرت یا دنیاوی مفاد کا حصول نہیں بلکہ ضرورت مند انسانوں کو امید دینا، ان کے دکھ میں شریک ہونا اور ان کا تعلق قرآنِ کریم، دعا اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے مضبوط کرنا ہے۔

یہ تمام تجربات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ دعا، صبر، حوصلہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل بھروسا آزمائش کی تاریک گھڑیوں میں امید کی روشنی بن جاتا ہے۔

روحانی دعا کے ساتھ طبی علاج بھی ضروری

یہ وضاحت ضروری ہے کہ بلڈ کینسر، ٹیومر، فالج اور دیگر سنگین بیماریوں میں روحانی دعا اور دم کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں، آنکولوجسٹ اور متعلقہ طبی ماہرین کا علاج، ادویات، ضروری معائنے اور باقاعدہ طبی نگرانی جاری رکھنی چاہیے۔ کسی مستند معالج کے مشورے کے بغیر دوا یا طبی علاج ترک نہیں کرنا چاہیے۔

دعا، روحانی تسلی اور جدید طب کو ایک دوسرے کی مخالفت کے بجائے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسباب کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ شفا کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، جبکہ دعا اور علاج اختیار کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

سادگی میں عظمت، کردار میں دعوت

حضرت بابا سائیں کی شخصیت میں غیر معمولی روحانی وقار کے باوجود عاجزی اور سادگی نمایاں ہے۔ سفید لباس، نورانی چہرہ، پُروقار انداز، نرم گفتگو اور شفقت بھرا رویہ ان کی شخصیت کو مزید دل نشیں بناتا ہے۔ وسیع حلقۂ عقیدت کے باوجود ان کا مزاج انکساری، اخلاص اور خدمتِ خلق سے عبارت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بابا سائیں صرف ایک مذہبی خطیب یا روحانی پیشوا نہیں بلکہ محبت، امن، دعوتِ اسلام، اصلاحِ انسانیت اور سندھ کی صوفیانہ روایت کے روشن امین ہیں۔ ان کا وجود معاشرے کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور ان کی دعائیں عقیدت مندوں کے لیے بیش قیمت روحانی سرمایہ ہیں۔
اللہ رب العزت حضرت قبلہ الحاج الحافظ غلام محمد سوہو محمودی قادری المعروف بابا سائیں کو صحتِ کاملہ، عمرِ دراز بالخیر، عزت و سربلندی اور دینِ اسلام و انسانیت کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ بابا سائیں کے تمام خلفاء، خصوصاً سائیں سلیمان کو دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے اور دنیا بھر کے تمام بیماروں کو صحتِ کاملہ و عاجلہ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
بابا سائیں—محبت سے دل جیتنے، کردار سے دین کی دعوت دینے اور انسانیت کو امید، امن اور ہدایت کی راہ دکھانے والی عظیم روحانی شخصیت۔
#سندھ #پاکستان

14/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک — پاکستان زندہ باد! 🇵🇰

آزادی صرف ایک جشن نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے — اپنی زمین، اپنے کسان، اپنی مقامی پیداوار اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ذمہ داری۔
اس 14 اگست پر Gujjar Dairies اپنے صارفین کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا جشن خالص پن، خوشیوں اور اپنائیت کے ساتھ منا رہا ہے۔ 🥛💚
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک صحت مند بچہ، مضبوط خاندان اور خوشحال کسان ہی ایک صحت مند اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔ اسی لیے ہماری کوشش ہے کہ آپ تک دودھ اور ڈیری مصنوعات خالص، تازہ، معیاری اور حفظانِ صحت کے بہترین اصولوں کے مطابق پہنچیں۔
آئیے اس یومِ آزادی پر اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان دینے کا عہد کریں جہاں خالص خوراک، صحت مند زندگی، مضبوط کسان اور مقامی پیداوار ہماری قومی ترجیح ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے اور سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند رکھے۔ آمین۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد
🥛 GUJJAR DAIRIES
خالص ہی گجر کی پہچان ہے
Pure Milk • Pure Goodness • Pure Trust

🇵🇰 14 اگست — یومِ آزادی پاکستان مبارک گجر ڈیریز (Gujjar Dairies) کی جانب سے پوری قوم کو پاکستان کے یومِ آزادی کی دلی مبا...
13/08/2026

🇵🇰 14 اگست — یومِ آزادی پاکستان مبارک

گجر ڈیریز (Gujjar Dairies) کی جانب سے پوری قوم کو پاکستان کے یومِ آزادی کی دلی مبارکباد۔

14 اگست ہمیں اُن عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بدولت ہمیں ایک آزاد وطن نصیب ہوا۔ یہ دن صرف جشنِ آزادی منانے کا نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کا بھی دن ہے کہ ہم اپنی محنت، دیانت اور ذمہ داری سے پاکستان کو مضبوط اور خوشحال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

گجر ڈیریز کا یقین ہے کہ صحت مند قوم، مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم خالص، معیاری اور محفوظ دودھ کی فراہمی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اپنے صارفین کے اعتماد کو اپنی سب سے بڑی طاقت مانتے ہیں۔

آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم پاکستانی کسان، مقامی پیداوار اور خالص خوراک کو فروغ دیں گے، کیونکہ کسان کی خوشحالی، غذائی خودکفالت اور ایک مضبوط پاکستان ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند رہے۔ آمین۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

🥛 GUJJAR DAIRIES
"خالص ہی گجر کی پہچان ہے"

Pure Milk • Healthy Nation • Strong Pakistan 🇵🇰

🥛 خالص ہی گجر کی پہچان ہے 🐄خالص دودھ، خالص نیت، خالص خدمت۔گجر برادری صدیوں سے دیانت داری، محنت اور مویشی پالنے کی روایت ...
06/08/2026

🥛 خالص ہی گجر کی پہچان ہے 🐄

خالص دودھ، خالص نیت، خالص خدمت۔

گجر برادری صدیوں سے دیانت داری، محنت اور مویشی پالنے کی روایت کی امین رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص دودھ ہمیشہ گجر کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ تازہ دودھ صرف ایک غذا نہیں بلکہ صحت، اعتماد اور دیانت کی علامت ہے۔

ہر صبح ہمارے فارموں سے نکلنے والا تازہ، خالص دودھ اس عزم کی گواہی دیتا ہے کہ ہم اپنے صارفین تک قدرت کی اصل نعمت بغیر ملاوٹ پہنچائیں۔ خالص دودھ بچوں کی بہتر نشوونما، نوجوانوں کی توانائی اور بزرگوں کی صحت کا ضامن ہے۔

آئیے! خالص دودھ کو فروغ دیں، ملاوٹ سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھیں اور اپنے مقامی ڈیری فارمرز کی محنت کا احترام کریں۔

خالص ہی گجر کی پہچان ہے — اور خالص دودھ ہی صحت مند پاکستان کی ضمانت ہے۔

"تازہ دودھ، خالص دودھ، ہر گھر کی ضرورت۔" 🥛🇵🇰








Address

Alliance Arcade, Block 15, Main Johar Chowrangi Flyover, Near Dar Ul Sehat Hospital, Gulistan E Johar
Karachi
75030

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gujjar Dairies posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gujjar Dairies:

Shortcuts

Share

Category