01/09/2020
پاکستان میں اس وقت 4 اقسام کا شہد بازار میں دستیاب ہے.
1) کیمیکل سے تیار کردہ شہد
2) چینی والا شہد
3) جنگلی شہد
4) فارم والا شہد
1) کیمیکل سے تیار کردہ شہد
کچھ لوگ مختلف کیمیکلز لے کے ان سے شہد تیار کرتے ہیں، اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بالٹی میں چند چھتے ڈال کے یہ لوگ بازاروں میں گھوم رہے ہوتے ہیں
یہ بالکل خالص نہیں ہوتا اور صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، یہ شہد ہرگز نہ خریدیں، یہ شہد ہم (فاضلی شہد والے) نہ رکھتے ہیں اور نہ بیچتے ہیں
2): چینی والا شہد
اس شہد کے بنانے کا طریقہ اس طرح ہے کہ مکھیوں کو مصنوعی چھتا دیا جاتا ہے اور انکو چینی اور شکر کا شیرہ بنا کے اکثر کھانے کے لیے دیا جاتا ہے، شہد کی مکھیاں یہ شیرہ کھا کے اسکا شہد بناتی ہیں اور پھر یہ مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے، یہ شہد کسی حد تک خالص تو ہے مگر اس سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو خالص قدرتی طریقے سے حاصل ہونے والے شہد سے ہوتے ہیں جو مکھیاں پھولوں سے رس چوس کے شہد بناتی ہیں، اکثر لوگ شہد کی مکھیوں کو شیرہ اس لیے کھلاتے ہیں اس سے شہد زیادہ بنتا ہے اور گاڑھا بنتا ہے اور زیادہ ہونے کی وجہ سے دام بھی زیادہ ملتا ہے، یہ شہد ہم نہ رکھتے ہیں اور نہ بیچتے ہیں.
3): جنگلی شہد
اس شہد میں مکھیاں سب سے پہلے کسی درخت پہ چھتا بناتی ہیں اور پھر پھولوں سے رس چوس کے اس چھتے کے اندر شہد بناتی ہیں یہ سال میں دو دفعہ اتارا جاتا ہے اپریل اور مئی میں اترنے والے شہد کو گرمیوں کا شہد یا موسم بہار کا شہد کہا جاتا ہے، اسکا رنگ اکثر پیلا ہوتا ہےاسکے علاوہ اکتوبر اور نومبر میں جو شہد آتا ہے اسکو جنگی بیری کا شہد کہا جاتا ہے، جسکا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے
یہ دونوں شہد واقعی ہی خالص ہوتے ہیں، یہ والا شہد ہر علاقے میں مختلف ذائقوں میں ملتا ہے، یہ بہت زیادہ تعداد میں نہیں ملتا، خاص طور پہ چھوٹی مکھی کا شہد خالص ہونے کے باوجود اس شہد میں کچھ عیب بھی ہیں، وہ یہ کہ یہ زیادہ گاڑھا نہیں ہوتا بلکہ پتلا ہوتا ہے، اسکا ذائقہ تیز ہوتا ہے، کھانے سے گلے میں ہلکا سا لگتا ہے، اور جب یہ اتارہ جاتا ہے تو اس وقت پتا نہیں ہوتا کہ یہ مکمل پک کر تیار ہو بھی چکا ہے یا نہیں، اس لیے اسکو ہر کوئی ذائقہ کی وجہ سے پسند نہیں کرتا مگر یہ ہوتا ہے
4): فارم والا شہد
ہر لحاظ سے یہ سب سے بہترین شہد ہے، اس شہد کے بنانے کا طریقہ اس طرح ہے کہ مکھیوں کو مصنوعی چھتا دیا جاتا ہے، لیکن انکو شیرہ نہیں دیا جاتا بلکہ انکو آزاد چھوڑا جاتا ہے، مکھیاں پھولوں سے رس چوس کے آتی ہیں، اور جس ڈبے میں چھتا انکو دیا جاتا ہے اس میں آ کے شہد بنا دیتی ہیں، اسکے کئی فوائد ہیں،
جو کہ درج ذیل ہیں
1) ہمیں صرف خالص شہد چاہیے ہوتا ہے، ہمیں چھتے سے کوئی مطلب نہیں ہوتا، چاہے مکھی چھتا خود بنائے یا ہم اسکو مصنوعی چھتا دیں، ہم نے چھتے سے شہد نکال کے اس چھتے کو ضائع کر دینا ہوتا ہے
اس لیے اس قسم کے شہد میں مکھی کو چھتا نہیں بنانا پڑتا، جس سے وقت بھی بچ جاتا ہے اور شہد بھی زیادہ مقدار میں حاصل ہو جاتا ہے
2) اس شہد میں شہد بنانے کے لیے جگہ مکھی منتخب نہیں کرتی بلکہ ہم خود منتخب کرتے ہیں، انسان چونکہ مکھی سے زیادہ عقل مند ہے اس لیے ہم مکھی کو وہ جگہ دیتے ہیں جہاں پھول زیادہ ہوں اور ان سے جو شہد مکھی بنائے وہ فائدے کے لحاظ سے بھی بہتر ہو اور ذائقہ کے لحاظ سے بھی اس لیے اس شہد کا ذائقہ بھی جنگلی شہد سے اچھا ہوتا ہے اور اس شہد کے فوائد بھی جنگلی شہد سے زیادہ ہوتے ہیں.
3) اس شہد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہد مکمل طور پہ کب تیار ہوگا لیکن جنگلی مکھی کے شہد میں ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شہد مکمل تیار ہو چکا ہے یا نہیں بلکہ جب ہمارے ورکرز کو جنگلی شہد مل جاتا ہے تو وہ اتار کے لے آتے ہیں جبکہ اس قسم کے شہد میں جب شہد مکمل طور پہ تیار ہوجاتا ہے تب نکالا جاتا ہے اس لیے اسکا ذائقہ لذیذ اور فائدے جنگلی شہد سے زیادہ ہوتے ہیں
کچھ لوگ کم علمی کی وجہ سے اس فارم والے شہد کو اچھا نہیں سمجھتے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ فارم والا یہ شہد، جنگلی شہد سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ مکھی کا شہد بنانے کا طریقہ کار دونوں کا ایک جیسا ہوتا ہے مگر جنگلی شہد میں جو عیب رہ جاتے ہیں اسکو فارم والے شہد میں دور کر دیے جاتے ہیں،اور کچھ لوگ کم علمی کی وجہ سے اس شہد میں بڑی اور چھوٹی مکھی کا شہد کہہ کر بیچتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی بڑی مکھی ہوتی ہے نہ کوئی چھوٹی. فارمی مکھی فقط ایک ہی قسم کی مکھی ہے جس سے گرمیوں میں پلوسہ وغیرہ اور سردیوں میں بیری کا شہد حاصل ہوتا ہے اور لوگ پلوسہ کے شہد کو بڑی مکھی اور بیری کو چھوٹی مکھی کا شہد کہہ کر بیچتے ہیں جوکہ سراسر غلط ہے.
نوٹ : یاد رہے اللہ سبحان و تعالی نے شہد کی مکھی کے پیٹ میں شفاء رکحی ہے اس میں کوئی تخصیص نہیں کے کے شہد بڑِ مکھی کا ہو یا چھوٹی۔
ہم سے رابطہ کرنے کے لئے :
موابائل نمبر: 03313030769
واٹساپ: 03082233305
ویب سائیڈ: www.alfurqan-hci.com