14/04/2026
جب رہبر منزل پر رکا
آج چاک کا وہ ٹکڑا تھم گیا ہے جس نے ہزاروں تقدیریں لکھیں۔ محترم گل اسلام صاحب، آپ ریٹائر نہیں ہوئے، آپ تو وقت کی پیشانی پر امر ہو گئے ہیں۔
آپ کی کلاس صرف چار دیواری نہ تھی، وہ کردار سازی کی پہلی درسگاہ تھی۔ آپ نے نصاب سے زیادہ زندگی پڑھائی، اور مارکس سے زیادہ انسان بنایا۔
آپ کی ڈانٹ میں دعا چھپی تھی اور آپ کی مسکراہٹ میں حوصلہ۔ بلیک بورڈ پر لکھے آپ کے حروف مٹ جائیں گے، مگر دلوں پر لکھا آپ کا نام کبھی نہیں مٹے گا۔
کل سکول کی گھنٹی آپ کے لیے آخری بار بجی ہے، مگر علم کی وہ گھنٹی جو آپ نے بچوں اور معاشرے کے اندر بجائی وہ تا عمر بجتی رہے گی۔ کرسی خالی ہو گی، مگر آپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔
آپ جاتے جاتے بھی سبق دے گئے کہ اصل کامیابی عہدے کا نام نہیں، چھوڑے ہوئے نقش کا نام ہے۔ بچوں کی ہر کامیابی کے پیچھے آپ کی خاموش محنت کھڑی ہے۔
ریٹائرمنٹ آپ کا حق ہے، لیکن سوسائٹی کے لیے یہ سانحہ ہے۔ پھر بھی یہ قوم مسکراتے ہوئے الوداع کہی گی، کیونکہ استاد کبھی رخصت نہیں ہوتا، وہ شاگردوں کی آنکھوں میں زندہ رہتا ہے۔
خدا آپ کو صحت اور سکون والی لمبی زندگی دے۔ آپ کا قرض سات نسلوں تک نہیں اتارا جا سکتا۔ میں نے کوئی آٹھ نو سال کی شناسائی میں آپ کو بہت نزدیک اور گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو ایک جہد مسلسل اور عاجزی و انکساری کا دوسرا نام پایا۔ میں آپ کی عارضی رخصتی کی تقریب میں باوجوہ شرکت نہ کرسکا جس کا افسوس رہے گا۔ بہت ساری دعاؤوں کے ساتھ اللہ حافظ۔