13/01/2026
میں دوسری بیوی ہوں اور بہت خوش ہوں
میں اور احمد ایک آفس میں جاب کرتے تھے والد کی ڈیتھ ہوگئ کوئی ساتھ دینے والا نہیں تھا والدہ بھی اکیلی تھی میری عمر 32 سال ہوئی تو کولیگز نے کہا شادی کب ہے میںنے کہا کون کریگا مجھ سے شادی میں رینٹ کے گھر پر رہنے والی اور بیمار والدہ مجھے سہارا چاہیے تھا احمد نے ڈرتے ڈرتے بات کی کہ اس نے تین بچے ہیں بیوی سے بنتی نہیں ہے میںنے وقت مانگا والدہ سے بات کی وہ نہیں مانی پھر استخارہ کیا ٹھیک آتا تھا والدہ اتنی پریشان ہوئی وہ بیمار ہوگئ ہسپتال میں میرے سب کولیگز آئے اور احمد نے سب سے زیادہ ساتھ دیا والدہ بھی مان گئی سادگی سے نکاح کیا۔آج ہمارے 2 بچے ہیں احمد نے شادی کے بعد مجھے جاب کی اجازت نہیں دی پہلے بچے کے بعد احمد کی فیملی نے بھی مجھے قبول کر لیا اور اس کی بیوی نے بھی
مجھے پتہ تھا میرے جو حالات تھے یا کسی بوڑھے آدمی سے شادی کرتی یا شاید بیٹھی رہتی دوسری بیوی بننے کے لے مجھے معاشرے کی ہاں نہیں چاہیے تھے اللہ کی اجازت تھی اسلام میں حلال تھی مینے کچھ غلط نہیں کیا۔ میں اب کچھ کبھی احمد سے کہتی ہوں ایک اور شادی کسی بے بس لڑکی سے کرو تاکہ اس کی زندگی بھی بہتر ہو سکے مینے گھر بیٹھ ایک آئل کا کام شروع کیا اور مجھے اللہ نے بہت زیادہ رزق دیا
شرعی نکاح میں برکت ہے۔ لیٹ میرج بےبس مجبور لڑکیوں کو اگر کوئی نیک مرد عزت بنانا چاہتا ہے اور وہ آپ کو اچھی ابھی لگتا ہے اپنا وقت ضائع کیے بغیر اس سے شادی کر لیں
( منقول۔۔۔۔۔۔۔۔ )
اس موضوع پہ سائنسی اور معاشرتی تحقیق پہ مبنی بہت ہی خوبصورت اور مختصر ویڈیو بھی ملاحظہ فرمائیے۔
https://www.youtube.com/watch?v=nNu6G7_12uU&t=20s
KF FOODS Family