16/05/2026
ملتان کسٹمز میں 3.8 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان تلف کردیا گیا، جس میں موبائل فونز، امپورٹڈ سگریٹ، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔
پاکستان کسٹمز قانون کے مطابق ہر ضبط شدہ سامان کو جلانا ضروری نہیں، ممنوعہ، مضرِ صحت، جعلی یا خطرناک اشیاء تلف کی جا سکتی ہیں، جبکہ قابل استعمال سامان کی شفاف نیلامی کی بھی قانونی گنجائش موجود ہے، سوال یہ ہے کہ اگر ان اشیاء میں قابل استعمال سامان موجود تھا تو کیا اسے نیلام کرکے قومی خزانے میں اربوں روپے جمع نہیں کروائے جا سکتے تھے؟ قانونی تلفی اپنی جگہ، مگر شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہے،کیا مکمل انوینٹری، ویڈیو ریکارڈ اور تھرڈ پارٹی نگرانی موجود تھی؟ اور کیا اس بات کی سو فیصد ضمانت دی جا سکتی ہے کہ تمام سامان واقعی تلف ہوا؟ کیونکہ ہمارے ہاں اکثر "تلف" ہونے والی اشیاء بعد میں دوبارہ مارکیٹوں میں بھی نظر آجاتی ہیں۔
Copied by Nasir awan