Dera Sultan Laang

Dera Sultan Laang Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dera Sultan Laang, Farm, Dera Sultan Laang, Lahore.

01/07/2026

حضرت عمرانؑ اللہ کے نیک بندے اور حضرت مریمؑ کے والد تھے۔ ان کا خاندان تقویٰ، عبادت اور اللہ کی اطاعت میں مشہور تھا۔ �

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”السلام علیک یا حسینؑ
26/06/2026

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”

السلام علیک یا حسینؑ

13/12/2025

جیسی عوام ویسے حکمران

عوام بدلے گی تو پاکستان بدلے گا

تھوڑا نھیں پورا سوچیں!

پاکستان میں غربت کی  اصل وجوہاتاور عام لوگوں کو کیسے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیئے ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہ...
29/11/2025

پاکستان میں غربت کی اصل وجوہات
اور عام لوگوں کو کیسے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیئے
ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔
اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔
کیا اس کے علاوہ بھی کچھ رہ گیا ہے ؟
آپ آپنی راۓ ضرور دیں
شاید کسی کا بھلا ہو جاۓ
منقول

*‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..* "میری ماں نے فیصلہ کیا...
05/09/2025

*‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*

"میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..

آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے..

بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .

اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا..

شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.

مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.

شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..

عورت نے جواب دیا..

"کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

شیوانا نے مسکرا کر کہا..

"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟

اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے..

تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..

یہ بُت احمق نہیں ھے..

وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی

مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا..

کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے..

جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!

مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔

27/07/2025

ترکی کا کسان
پاکستان کا کسان
فرق جان کے جیو

Matric 2005 GTG 2025 at Dera Sultan Laang
09/06/2025

Matric 2005 GTG 2025 at Dera Sultan Laang

10/05/2025

افواج پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

Address

Dera Sultan Laang
Lahore
56000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dera Sultan Laang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dera Sultan Laang:

Shortcuts

Share

Category