13/02/2026
یہ صرف پٹواری نہیں پورا سسٹم جھوٹ پر کھڑا ہے
یہ پوسٹ کسی ایک جاہل پٹواری کی نہیں
یہ ریاستی جھوٹ کے کارخانے کی پیداوار ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ
1960 میں مرسڈیز خریدی گئی
اور اس کا پہلا ڈرائیور نواز شریف تھا۔
اب ذرا غور کرو —
نواز شریف کی عمر آج 75 سال
1960 میں عمر 9–10 سال
اور تصویر میں کھڑا شخص؟
بوڑھا، مکمل بالغ، تجربہ کار آدمی۔
یہ سادہ سی عقل کی بات ہے
لیکن مسئلہ عقل کا نہیں
مسئلہ بدنیتی کا ہے۔
یہ وہی بیانیہ ہے
جو اسٹیبلشمنٹ نے دہائیوں سے پالا ہوا ہے:
جھوٹ کو تاریخ بناؤ
خاندانوں کو “قدرتی حکمران” دکھاؤ
اور عوام کو سوال کرنے سے محروم رکھو
یہی وجہ ہے کہ
اس ملک میں
کبھی ایک بچے کو “قائد” بنا دیا جاتا ہے
کبھی ایک ڈاکو کو “محبِ وطن”
اور کبھی ایک جھوٹ کو “قومی بیانیہ”
عمران خان نے سچ کہا تھا:
یہ لوگ نہ پڑھے لکھے ہیں، نہ پڑھانا چاہتے ہیں۔
کیونکہ اگر قوم پڑھ گئی
تو پوچھے گی:
یہ دولت کہاں سے آئی؟
یہ اقتدار نسل در نسل کیوں؟
اور یہ جھوٹ اتنے اعتماد سے کیوں؟
پٹواری صرف مہرے ہیں۔
اصل کھیل وہ ہے
جو جی ایچ کیو کی خاموشی
اور فارم 47 کی پیدائش سے چل رہا ہے۔
یہ تصویر ایک تصویر نہیں
یہ نظام کی ایکس رے رپورٹ ہے۔
جہاں سچ کو دبایا جاتا ہے
اور جھوٹ کو ریاستی سرپرستی ملتی ہے۔
یاد رکھو:
جو قوم کو تاریخ میں دھوکہ دے
وہ حال میں بھی غلام رکھتی ہے۔
اب فیصلہ تم نے کرنا ہے:
یا تو پٹواری بن کر تالیاں بجاتے رہو
یا شہری بن کر سوال کرو۔