30/03/2026
اھم مضمون ھے پورا پڑھیں
اسٹوڈینٹس پیرینٹس فیڈریشن کرونا کے دور میں 18 اگست 2020 کو بنائی گئی اس وقت کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون کو چھ ماہ گذر چکے تھے لیکن خطے میں موجودہ جنگی صورتحال ابھی شروع ھوئی ھے تعلیمی اداروں کی بندش شروع ھو چکی ھے اور لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ھونے والا ھے اس لئے
کرونا میں 18 ماہ بند اسکولوں کی فیسیں ادا کرنے والے والدین سبق حاصل کریں مندرجہ اقدامات کر کے اپنے آپ کو مالی اور بچوں کو تعلیمی نقصان سے بچا سکتے ھیں
آٹھویں کلاس کے امتحانات ھو چکے ھیں جبکہ نویں سے بارہویں اور او-اے لیول تک کے امتحانات اپریل میں ھو کر ختم ھو جائیں گے
کم از کم اپریل اور مئی غیر یقینی صورتحال رھے گی پھر دو ڈھائی ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں آ جائیں گی اس لئے
1- جن بچوں کا ابھی داخلہ نہیں کرایا ھے ان کے ابھی داخلے نہیں کرائیں اور جو والدین اسکول بدلنا چاھتے ھیں وہ بھی انتظار کریں ورنہ اپریل سے جولائی تک کی فیس مفت میں ادا کرنی پڑے گی
2- جن بچوں کی پڑھائی موجودہ اسکولوں میں ھی جاری رکھنی ھے ان اسکولوں میں ابھی سے ایک خط ریسیو کرا دیں کہ میں گرمیوں کی چھٹیوں تک بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاھتا اس لئے میں فیس ادا نہیں کروں گا اگر آپ ایڈمیشن کینسل کرنا چاھتے ھیں تو میری ایڈمیشن فیس واپس کر دیں میں چھٹیوں کے بعد ایڈمیشن فیس جمع کروا کر دوبارہ ایڈمیشن کروا لوں گا
آپ کو میری بات شاید ابھی عجیب سی اور ناقابل عمل لگ رھی ھوگی لیکن جب آپ گرمیوں کی چھٹیوں یا حالات نارمل ھونے کے بعد یہ پوسٹ دوبارہ پڑھیں گے تو اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ھم نے پہلے سے آپ کو خبردار کر دیا تھا
کرونا میں بھی نجی اسکولوں کے تعلیمی سوداگروں نے فیس وصول کرنے کیلئے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے وقفے وقفے سے اسکول کھلوا کر اٹھارہ ماہ کی بند اسکولوں کی فیس والدین سے وصول کر لی تھی
3- بچوں کو تعلیم دینے کیلئے ھوم اسکولنگ کریں محلے کے آٹھ دس گھروں کے بچے جمع کریں ٹیوٹر رکھیں اور ھر ھفتے ایک گھر میں ٹیوشن کا اھتمام کر لیں کرونا میں اسکول مالکان نے ٹیچرز کو نکال دیا تھا اور اس دفعہ بھی وہ یہ ھی کریں گے اس لئے آپ کو ٹیچرز آرام سے مل جائیں گی آٹھ گھروں کے بجے بھی جمع ھو گئے تو آپ کے گھر کا نمبر دو ماہ بعد آئے گا
کیونکہ حکومت لاک ڈاؤن کرے گی تو ھمیشہ کی طرح سب سے پہلے نزلہ تعلیمی اداروں پر ھی گرے گا اور اسکول مالکان آپ کو آن لائن کلاسسز کا جھانسہ دے کر فیس وصول کریں گے اسی لئے کئی اسکولوں نے جون جولائی کی فیسیں ایڈوانس وصول کر لی ھیں یا وصول کرنے کیلئے والدین پر دباؤ ڈال رھے ھیں
آخری بات مرد حضرات کیلئے کہ وہ خواتین کے پریشر میں نہ آئیں چاھے وہ آپ کی بیگم ھو یا اسکول کی ٹیچر کوآرڈینیٹر یا پرنسپل آخر میں مالی نقصان آپ کا ھی ھونا ھے
حکومت نے کچھ نہیں کرنا وہ نجی اسکولوں کو بند اسکولوں کی فیس لینے سے نہیں روکے گی اس لئے جو کرنا ھے آپ ھی نے کرنا ھے