شاہی شہزادہ

شاہی شہزادہ Historical
beauty of Lahore

✨ تاریخِ کربلا کا وہ معجزہ جب حضرت حر بن یزید ریاحی کی 914 ہجری میںکھولا گیا۔!تاریخِ اسلام کا یہ ایک ایسا حیرت انگیز اور...
10/08/2026

✨ تاریخِ کربلا کا وہ معجزہ جب حضرت حر بن یزید ریاحی کی 914 ہجری میںکھولا گیا۔
!تاریخِ اسلام کا یہ ایک ایسا حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ ہے جو رہتی دنیا تک شہدائے کربلا کی حقانیت اور ان کی حیاتِ جاودانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
✨حضرت حر بن یزید ریاحیؓ کا شمار کوفہ کے مقتدر جرنیلوں میں ہوتا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے حسینی قافلے کا راستہ روکا تھا، لیکن شب عاشور کو حر کے اندر کا مومن جاگ اٹھا۔ انہوں نے دنیاوی جاہ و جلال، شاہی منصب اور لشکر کی سپہ سالاری کو ٹھکرا دیا اور اپنے بیٹے اور غلام سمیت گھوڑا دوڑاتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ انہوں نے ادب سے عرض کی: "ابنِ رسول اللہ! میں وہی گنہگار ہوں، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟" امامؑ نے نہ صرف انہیں گلے سے لگایا بلکہ توبہ کی قبولیت کی بشارت بھی دی، اور آپ نے میدانِ جنگ میں حق کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔
📜 تاریخی پس منظر اور مقامِ مرقد پر اختلاف:واقعہ کربلا 10 محرم 61 ہجری (680ء) کو پیش آیا۔ اس کے تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال بعد، 914 ہجری (بمطابق 1508ء) میں صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل صفوی اول نے عراق کا دورہ کیا اور وہ کربلا میں عتباتِ عالیہ اور مقدساتِ کربلا کی زیارت اور ان مقامات کی شان دار تعمیرِ نو کے لیے تشریف لائے۔اس دوران حضرت حر بن یزید ریاحیؓ کی اصل آرام گاہ کے مقام کو لے کر اہل_کربلا اور علماء کے درمیان اختلاف سامنے آیا:پہلا مؤقف: اکثر لوگوں کا ماننا تھا کہ حضرت حرؓ کی تدفین میدانِ کربلا کے اندر ہی دیگر شہداء کے ساتھ ہے۔دوسرا مؤقف: کچھ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ کربلا سے چند کلومیٹر باہر جہاں ایک کچی آرام گاہ بنی ہوئی ہے، وہی حضرت حرؓ کا اصل مقام ہے (کیونکہ واقعہ کربلا کے بعد ان کے قبیلے بنی تمیم نے ان کے جسدِ خاکی کو عقیدت کے ساتھ میدانِ جنگ سے دور لا کر دفن کیا تھا)۔
👑 شاہ اسماعیل صفوی کا فیصلہ:جب یہ اختلاف بڑھ گیا، تو شاہ اسماعیل صفوی نے اس کا ایک منصفانہ حل نکالا۔ انہوں نے اپنے دور کے جید اور معروف علمائے کرام، وزراء اور مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد یہ اعلان کیا:"جس مقام کے بارے میں تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ یہ حضرت حرؓ کی آرام گاہ ہے، ہم وہاں تحقیق کریں گے۔ اگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا اور یہاں کوئی نشانی ملی، تو میں یہاں حضرت حرؓ کا ایک شاندار روضہ (مزار) تعمیر کرواؤں گا۔ لیکن اگر یہاں کچھ نہ ملا، تو اس جگہ کو زمین کے برابر کر دیا جائے گا تاکہ عوام میں کوئی مغالطہ نہ رہے۔"
👁️ تاریخی مشاہدہ اور چشم دید معجزہ (914ھ / 1508ء):علماء اور درباریوں کی موجودگی میں جب اس مقام کی مٹی ہٹائی گئی، تو وہاں موجود ہر شخص حیرت زدہ رہ گیا اور ہر زبان پر تکبیر کے نعرے جاری ہو گئے۔تروتازہ حالت: حضرت حر بن یزید ریاحیؓ کا جسمِ اطہر اس حالت میں موجود تھا جیسے وہ ابھی محوِ استراحت ہوئے ہوں۔ ان کے جسم سے معطر خوشبو آ رہی تھی اور شہادت کے آثار اب بھی نمایاں تھے۔سر پر بندھا رومال: سب سے بڑا معجزہ یہ تھا کہ آپ کے سرِ مبارک پر ایک رومال (پٹی) بندھی ہوئی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کربلا کے روز جب حضرت حرؓ زخمی ہو کر گرے تھے، تو سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے ان کا سر اپنی گود میں لیا، چہرے سے مٹی صاف کی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے اپنا رومال ان کے سر کے زخم پر باندھا تھا۔
🩹 معجزے کا ظہور اور شاہ کا توبہ نامہ:روایات میں آتا ہے کہ شاہ اسماعیل صفوی نے تبرک کے طور پر اس رومال کو حاصل کرنا چاہا۔ جیسے ہی اس رومال کو سرِ مبارک سے الگ کیا گیا، زخم سے دوبارہ تازہ لہو جاری ہو گیا۔ لاکھ کوشش کے باوجود وہ کیفیت نہ بدلی۔ جیسے ہی وہ رومال دوبارہ اسی جگہ عقیدت سے باندھا گیا، وہ کیفیت فوراً رک گئی۔ شاہ اسماعیل صفوی اس معجزے کو دیکھ کر زار و قطار رو پڑے اور انہوں نے اپنی اس جسارت پر توبہ کی۔
🏗️ بارگاہ کی تعمیر:اپنے وعدے کے مطابق، شاہ اسماعیل صفوی نے اسی سال یعنی 914 ہجری (1508ء) میں اسی مقام پر حضرت حر بن یزید ریاحیؓ کا ایک انتہائی شاندار روضہ اور گنبد تعمیر کروایا، جو آج بھی عراق کے شہر کربلا سے چند کلومیٹر باہر "مزارِ حر" کے نام سے مرجعِ خلائق ہے اور لاکھوں زائرین وہاں حاضری دیتے ہیں۔
📚 معتبر تاریخی حوالے (References):یہ واقعہ شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کی معتبر تاریخی کتب میں تفصیل سے درج ہے:بحار الانوار — علامہ محمد باقر مجلسی، جلد 45، صفحہ 14۔الانوار النعمانیہ — سید نعمت اللہ جزائری، جلد 3، صفحہ 265۔المنتخب فی جمع المراثی والخطب — فخر الدین طریحی۔ناسخ التواریخ — مرزا محمد تقی سپہر (احوالِ امام حسینؑ)۔
تحقیق و تدوین سیدہ منتظرہ مہدی، فاطمہ قرآن سنٹر

08/08/2026
08/08/2026

12/07/2026





کوئ بتا سکتا ہے یہ تصویر کہاں کی ہے۔۔۔
09/07/2026

کوئ بتا سکتا ہے یہ تصویر کہاں کی ہے۔۔۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شاہی شہزادہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category