Pak Dairy & Cattle Farm

Pak Dairy & Cattle Farm Pakistan Dairies nd cattle farming
A.o.a Respected Farmers Here we learn Dairies nd Cattle farming

اندرونی  #کیڑوں (پیٹ کے کیڑے) کا  #علاج اور احتیاطی تدابیرپچھلی پوسٹ میں ہم نے بیرونی کیڑوں (جیسے جوئیں، چیچڑ وغیرہ) کے ...
19/05/2025

اندرونی #کیڑوں (پیٹ کے کیڑے) کا #علاج اور احتیاطی تدابیر

پچھلی پوسٹ میں ہم نے بیرونی کیڑوں (جیسے جوئیں، چیچڑ وغیرہ) کے بارے میں بات کی تھی۔ اب بات کرتے ہیں اندرونی کیڑوں کی، جو جانور کے:

آنکھ

پھیپھڑے

جگر

آنتوں

معدے

وغیرہ میں ہو سکتے ہیں۔

اندرونی کیڑوں کی دوا کب دینی چاہیے؟

چھوٹے جانوروں کو ہر 1 سے 2 مہینے بعد

بڑے جانوروں کو ہر 3 سے 6 مہینے بعد
(جانور کی عمر، موسم، صحت اور کیڑوں کی شدت کے مطابق وقفہ رکھا جائے)

فارمولے تبدیل کرتے رہیں:
ہر بار ایک ہی دوا نہ دیں، بلکہ مختلف فارمولے استعمال کریں تاکہ دوا کی اثرپذیری برقرار رہے۔ مشہور فارمولے درج ذیل ہیں:

1. Albendazole

2. Oxfendazole

3. Oxyclozanide

4. Triclabendazole (جگر کے کیڑوں کے لیے خاص طور پر مؤثر)

دوائی کی شکلیں:

سیرپ

پاؤڈر

گولیاں

ڈوز کا تعین کیسے ہو؟
ہر دوا میں کیمیکل کی طاقت (concentration) مختلف ہوتی ہے، اس لیے ڈوز بھی مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً:

1cc فی 2 کلوگرام جسمانی وزن

1cc فی 3، 5، 10 یا 50 کلوگرام وزن

ڈوز کے بارے میں کسی مستند فرد سے مشورہ کریں:

ویٹرنری ڈاکٹر

ویٹرنری اسسٹنٹ / ایل اے ڈی

یا قریبی گورنمنٹ ویٹرنری آفیسر

اہم ہدایات:

گبن (حاملہ) جانور کو دوا دینے سے گریز کریں

دوا دینے کے لیے بہترین موسم: فروری سے مئی اور اکتوبر سے نومبر

جانور کے بچہ دینے کے 21 دن بعد ڈی ورمنگ لازمی کریں

اگر ممکن ہو تو جانور کو بچہ دینے سے پہلے اور بعد کے وقفے میں 2–3 بار ڈی ورمنگ کریں

یہ دوا کہاں سے ملے گی؟
تمام دوائیں دستیاب ہیں:
کسان ویٹرنری میڈیکل سٹور، قلعہ کالر والا

مزید سوالات کے لیے کمنٹس میں ضرور پوچھیں!

26/04/2025

"" گندم کی کٹائی کے بعد گوٹ فارمنگ کرنے والوں کے لیے سنہری موقع — جنتر کی کاشت کریں۔""

اپریل کے مہینے میں صوبہ پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں گندم کی کٹائی زور و شور سے جاری ہے۔ مزید مئ کے وسط تک گندم کی کٹائ مکمل ہو جائے گی، کھیت خالی ہو رہے ہیں اور کسان اگلی فصل کی تیاری میں مصروف ہو چکے ہیں۔
ایسے میں وہ افراد جو گوٹ فارمنگ کرتے ہیں یا جانور پالنے کا شوق رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ گندم کے بعد کی خالی زمین پر فوراً جنتر کی کاشت کریں۔

جنتر کیا ہے؟
جنتر ایک نہایت مفید سبز چارہ ہے جو گوٹ فارمنگ کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ نائٹروجن سے بھرپور فصل ہے جو نہ صرف زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے بلکہ جانوروں کے لیے انتہائی غذائیت بخش چارہ بھی ثابت ہوتی ہے۔
جنتر میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ بکریوں، بھیڑوں، اور دیگر چرندوں کے دودھ کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

جنتر کے فائدے:

زمین کو قدرتی کھاد فراہم کرتا ہے (green manure)

بکریوں کی صحت بہتر بناتا ہے اور دودھ بڑھاتا ہے

گرمیوں میں سبز اور ٹھنڈا چارہ مہیا کرتا ہے

کم وقت میں تیار ہونے والی فصل ہے (تقریباً 45 دن میں)

پانی کی بچت کے ساتھ اگایا جا سکتا ہے

کاشت کا وقت اور طریقہ:
گندم کی کٹائی کے فوری بعد جنتر بونے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ اس کے لیے زمین کو ہموار کر کے ہلکی آبپاشی کے ساتھ جنتر کا بیج چھٹا طریقے سے بونا چاہیے۔ عام طور پر فی ایکڑ 12 سے 15 کلوگرام بیج کافی ہوتا ہے۔

کٹائی کتنی مرتبہ ؛؛
جب اڑھائ سے تین فٹ تک ہو جائے تو اس کا نرم تنا جس پر پتوں کی کثرت ہوتی ہے اسے اوپر اوپر سے کاٹ سکتے ہیں ، دو بار اس طرح کٹائی کر سکتے ہیں ، اور تیسری مرتبہ اوپر کے حصے کی بیج سمیت کٹائی کریں ،
اور اتنے میں نچلا حصہ موٹا تنا بن چکا ہو گا جوکہ آپ کو سردیوں میں ایندھن کا کام دے گا۔

احتیاط ؛؛ اگر اوپر حصے کی بجائے نچلے زمین والے حصے سے کٹائ کریں گے تو دوبارہ یہ نہیں بڑھے گا ۔ نیچے سے جڑ سے ختم ہو جائے گا ۔

گوٹ فارمنگ والوں کے لیے خاص پیغام:
جن افراد کے پاس زمین موجود ہے، یا جو چارہ مہنگا خرید کر اپنے جانوروں کو کھلاتے ہیں، ان کے لیے یہ وقت قیمتی سرمایہ کاری کا موقع ہے۔ اپنی زمین پر جنتر اگا کر نہ صرف بہترین اور سستا چارہ حاصل کریں بلکہ زمین کی زرخیزی بھی برقرار رکھیں۔

نوٹ ؛؛
1 ؛؛؛ خشک کھلانے والے اچانک سبز چارے پر شفٹ نہ کریں ، بلکہ آہستہ آہستہ روزانہ سبزے کی مقدار بڑھاتے جائیں اور خشک کی مقدار کم کرتے جائیں ،

2 ؛؛؛ بھیڑ بکریوں کو جنتر کی چرائ زیادہ دیر تک نہیں کروانی کیونکہ بہت زیادہ کھانے سے اپھارہ ہو جاتا ہے جس سے جانور ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پیٹ بھرنے کی بجائے چرائ صبح دوپہر اور شام تین وقت کر لیں مگر پیٹ بہت زیادہ نہ بھرنے دیں۔

F***s in Newborn Lambs and Kids: Developmental StagesThe development of f***s in lambs and kids progresses through sever...
29/03/2025

F***s in Newborn Lambs and Kids: Developmental Stages

The development of f***s in lambs and kids progresses through several distinct stages from the moment of birth. Monitoring these stages provides important insights into the health and digestive development of the young animals.

1. Meconium (First 24–48 Hours Post-Birth):
Immediately after birth, newborns pass a dark, sticky, tar-like substance known as meconium. This material is made up of ingested amniotic fluid, intestinal secretions, and other substances accumulated during fetal development. Passing the meconium is a sign that the digestive tract is functioning properly.

2. Transitional F***s (Day 2–3):
As the kid or lamb begins to nurse and consume colostrum, the f***s transition from meconium to a softer, brownish or yellowish paste. This phase reflects the colonization of the gut with beneficial bacteria and the digestion of early milk.

3. Milk F***s (First Few Weeks):
While the animal is on a milk-only diet, the f***s are typically soft, yellow to light brown, and have a pasty or custard-like consistency. They are usually not foul-smelling and indicate a healthy, milk-fed digestive process.

4. Weaning Transition (Around 4–8 Weeks):
As solid feed is gradually introduced, the consistency and color of the f***s begin to change. F***s may become firmer, darker, and more formed, sometimes with visible plant material, depending on the intake and digestion of solids.

5. Post-Weaning F***s:
After weaning, the f***s resemble those of adult goats or sheep: pellet-like, firm, and dark brown. This indicates a fully functioning rumen and adaptation to a forage-based or mixed diet.

××××Keep in mind: color and texture also depend on other factors, so differences between animals and farms are possible.

Keep following Veterinary doctor

29/03/2025

یہاں بھینس خریدنے سے پہلے ضروری نکات کو ایک سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ آپ ایک اچھی اور صحت مند بھینس خرید سکیں:

بھینس خریدنے کے لیے مفید نکات

1. تازہ سوئی ہوئی بھینس خریدیں
وہ بھینس منتخب کریں جسے سوئے ہوئے 15 سے 20 دن ہو چکے ہوں، تاکہ اس کے دودھ کی مقدار اور صحت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

2. دھوکہ دہی سے بچیں
بعض بیوپاری جانور کو ایکڑا لگا کر اس کا دودھ وقتی طور پر بڑھا دیتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے جانور کو بار بار دوہ کر اس کے اصل دودھ کی مقدار چیک کریں۔ اگر بھینس 14 لیٹر تک دودھ دے رہی ہو تو یہ اچھی علامت ہے۔

3. تھنوں کا معائنہ کریں
اگلے دونوں تھنوں سے دودھ کی مقدار کم از کم 3 لیٹر ہونی چاہیے۔ اگر جانور کو سوئے ہوئے صرف 2 سے 3 دن ہوئے ہیں، تو آپ اسے خرید سکتے ہیں۔

4. جانور کو چلا کر دیکھیں
خریدنے سے پہلے جانور کو چلائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ کسی جسمانی بیماری یا لنگڑاہٹ کا شکار تو نہیں۔

5. رسی کے نشانات چیک کریں
اگر جانور کی پچھلی ٹانگوں یا موتر کی جگہ پر رسی کے نشانات ہوں، تو ممکن ہے کہ وہ پیچھا مارنے والا ہو، ایسی بھینس نہ خریدیں۔

6. موتر کی بو کا جائزہ لیں
اگر جانور کے موتر سے بدبو آ رہی ہو، تو ممکن ہے کہ اسے اندرونی بیماری ہو یا وہ پیچھا مار چکی ہو، ایسی بھینس لینے سے گریز کریں۔

7. تھنوں کی صحت دیکھیں
اگر تھن سے دودھ کے بجائے صرف چھینٹے آ رہے ہوں، تو اس کا مطلب ہے کہ بھینس کے تھن کسی بیماری کا شکار ہیں۔ ایسی بھینس نہ خریدیں۔

8. بہت زیادہ تھکا ہوا جانور نہ لیں
اگر بھینس ضرورت سے زیادہ سست نظر آ رہی ہو، تو ممکن ہے کہ وہ بہت جلدی بچہ دے دے، جس سے دودھ کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔

9. لمبے تھن والی بھینس سے پرہیز کریں
زیادہ لمبے تھن رکھنے والی بھینس کے تھن اکثر زمین یا دوسرے جانوروں کے نیچے آ جاتے ہیں، جس سے ان پر زخم ہو سکتے ہیں۔ ایسی بھینس خریدنے سے گریز کریں۔

یہ نکات آپ کو ایک اچھی، صحت مند اور زیادہ دودھ دینے والی بھینس خریدنے میں مدد دیں گے۔

قربانی کے جانوروں کی فارمنگ میں کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟قربانی کے جانوروں کی فارمنگ ایک منافع بخش کاروبار ہو سکت...
11/03/2025

قربانی کے جانوروں کی فارمنگ میں کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
قربانی کے جانوروں کی فارمنگ ایک منافع بخش کاروبار ہو سکتا ہے، لیکن اس میں کامیابی کے لیے چند اہم نکات پر عمل کرنا ضروری ہے:
1. جانوروں کا درست انتخاب:
ایسی نسلوں کا انتخاب کریں جو جلدی وزن بڑھاتی ہوں اور صحت مند نظر آئیں۔
گائے کے لیے "ساهیوال، چولستانی، یا ریڈ سندھی" اچھی نسلیں ہیں۔
بکری کے لیے "بیٹل، کاموری، اور ٹدی" اچھی نسلیں سمجھی جاتی ہیں۔
بھیڑ کے لیے "کاجلی، لمبے، اور کُکرے" بہترین انتخاب ہیں۔
2. خوراک اور وزن میں اضافہ:
متوازن خوراک فراہم کریں جس میں ونڈا، سبز چارہ، دالوں کا چھلکا، اور معدنی نمکیات شامل ہوں۔
قربانی کے سیزن سے 4-6 مہینے پہلے جانور کو وزن بڑھانے والے خوراکی سپلیمنٹس دینا شروع کریں۔
قدرتی اور صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔
3. صحت اور ویکسینیشن:
جانوروں کی وقت پر ویکسینیشن کرائیں تاکہ وہ بیمار نہ ہوں۔
فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (FMD) اور گل گھوٹو (HS) جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اپنائیں۔
باقاعدگی سے جانوروں کی ڈی ورمنگ (کیڑے نکالنے کی دوا) کریں۔
4. شیڈ اور صفائی:
شیڈ کو ہوادار اور آرام دہ بنائیں تاکہ جانور دباؤ میں نہ آئیں۔
شیڈ میں روشنی، پانی کی نکاسی اور ہوا کے گزرنے کا مناسب انتظام کریں۔
کیچڑ، گندگی، اور بدبو سے بچنے کے لیے شیڈ کو صاف رکھیں۔
5. خرید و فروخت اور مارکیٹنگ:
قربانی کے سیزن کے قریب مقامی منڈیوں میں جانور فروخت کرنے کے مواقع تلاش کریں۔
آن لائن فروخت (Facebook، OLX، یا WhatsApp گروپس) کے ذریعے بھی خریدار تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
جانوروں کی خوراک اور صحت کی مکمل معلومات خریدار کو دیں تاکہ اعتماد بڑھے۔
6. اسلامی اصولوں کا خیال رکھیں:
جانور صحت مند، بے عیب، اور اسلامی احکامات کے مطابق ہونا چاہیے۔
دانتوں کی گنتی پوری ہو (گائے اور اونٹ کے لیے کم از کم دو دانت، جبکہ بکری اور بھیڑ کے لیے ایک سال مکمل ہونا ضروری ہے)۔
یہ نکات قربانی کے جانوروں کی فارمنگ کو کامیاب بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ کیا آپ کسی مخصوص پہلو پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟

#فارمنگ #منڈی

10/03/2025

ڈیسٹوکیا: غلط سیمن سلیکشن اور ناکافی خوراک کے نقصانات

گزشتہ دنوں ایک کیس سامنے آیا جس میں ایک گائے کو شدید مشکل پیش آ رہی تھی، کیونکہ وہ بچہ دینے میں ناکام ہو رہی تھی۔ جب میں نے گائے کا معائنہ کیا تو اندازہ ہوا کہ ڈیسٹوکیا (مشکل زچگی) کی بنیادی وجہ غلط سیمن کا انتخاب تھا۔ مالک نے براہمن نسل کے بیل کا سیمن استعمال کروایا تھا، جبکہ گائے کا جسمانی سائز اس کے مطابق نہیں تھا۔ نتیجتاً، بچہ وزن میں بڑا تھا اور نارمل ڈلیوری ممکن نہ رہی۔

سیمن سلیکشن کی اہمیت

ہر گائے کی جسمانی ساخت، نسل، اور وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے بیل کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اگر گائے کا سائز چھوٹا ہو اور بڑے نسل کے بیل کا سیمن استعمال کیا جائے تو بچہ غیر معمولی طور پر بڑا پیدا ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف زچگی مشکل ہو جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ماں اور بچے دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

ڈلیوری سے پہلے خوراک کی اہمیت

جب گائے کے بچہ دینے کا وقت قریب آتا ہے تو اس کی خوراک کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ مناسب غذائیت سے نہ صرف بچے کی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ گائے کے تولیدی اعضاء بھی مضبوط ہوتے ہیں، جس سے زچگی آسان ہو جاتی ہے۔ اگر گائے کو کم خوراک یا نامناسب خوراک دی جائے تو اس کے جسم میں کمزوری آ جاتی ہے، اور وہ قدرتی طور پر بچہ دینے کے قابل نہیں رہتی۔

احتیاطی تدابیر:

1. صحیح سیمن کا انتخاب کریں: ہمیشہ گائے کے جسمانی وزن اور نسل کو دیکھ کر سیمن سلیکٹ کریں۔ چھوٹی گائے کے لیے زیادہ وزن والے بیل کے سیمن کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

2. خوراک بہتر کریں: حاملہ گائے کو پروٹین، منرلز اور وٹامنز سے بھرپور خوراک دیں تاکہ وہ بچہ دینے کے وقت صحت مند اور مضبوط ہو۔

3. بروقت چیک اپ کروائیں: حاملہ گائے کی صحت اور بچے کی پوزیشن جانچنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر سے وقتاً فوقتاً معائنہ کروائیں۔

4. ڈلیوری کے دوران مکمل تیاری کریں: گائے کے بچہ دینے کے متوقع وقت کے قریب اسے آرام دہ جگہ پر رکھیں اور اگر ضرورت پڑے تو ویٹرنری ڈاکٹر کی مدد لیں۔

اگر ان عوامل کا خیال رکھا جائے تو گائے صحت مند طریقے سے بچہ دے سکتی ہے، جس سے دودھ کی پیداوار بھی بہتر ہوگی اور مالک کو معاشی فائدہ بھی ہوگا۔

10/03/2025

منہ کھر کی بیماری اور اس کا علاج.... وجوہات وعلامات ، پھیلاو¿ ، احتیاطی تدابیر اور علاج
🐐🐄

منہ کھرکی بیماری سے بچاﺅ کے لئے ویکسین لگانے کا یہ موثر وقت ہے لہٰذا جلد از جلد اپنے فارم پر موجود جانوروں کو ویکسین کروائیں تا کہ بعد کی پریشانی سے بچا جا سکے
منہ کھر کی بیماری اور اس کا علاج
عمومی بیماری.... منہ کھر

وجوہات وعلامات ، پھیلاو¿ ، احتیاطی تدابیر اور علاج
یہ گائے، بھینس، بھیڑ اور بکریوں کی بہت اہم بیماری ہے۔اس سے ہر سال بہت سے مویشیوں کا نقصان ہوتا ہے۔ چھوٹے بچھڑوں اور بچھڑیوں میں یہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اس بیماری سے، بڑی عمر کے جانوروں میں دودھ کی پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہوجاتی ہے۔علاج کی وجہ سے فارم کے اخراجات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔گابن جانور اکثر اوقات بچہ ضائع کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے جانور، عرصہ دراز تک بیمار رہتے ہیں۔
وجوہات وعلامات

یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جسے ایپھتو وائرس Aphthovirus کہتے ہیں۔ بیماری پیدا کرنے والے وائرس کے ساتھ مختلف سیروٹاپس ہیں۔
پاکستان میں ان کی تین سیروٹاپس بہت عام پائے جاتے ہیں جن کا نام ، اے ، او اینڈ سی ( AO&C) جانوروں کو تیز بخار ہو جاتا ہے۔

جانور کے منہ کے اندر حیوانہ پر اور کھروں پر چھالے نمودار ہوجاتے ہیں
کھروں میں موجود چھالے پھٹ جانے کی وجہ سے جانور لنگڑاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جانور کے منہ میں موجود چھالے کھانے میں دقت پیدا کرتے ہیں۔

جانور اپنا وزن کم کر جاتے ہیں۔نر جانوروں میں حصیے سوج جاتے ہیں۔
پھیلاو¿۔۔۔۔۔!
یہ بیماری کئی طریقوں سے پھیلتی ہے۔
بیمار جانوروں کو براہ راست چھونے سے یہ وائرس ہوا کے ذریعے کئی کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے۔

بیمار جانور جس کھرلی میں پانی پیتے ہیں ا±س میں جانور کے تھوک کے ذریعے وائرس شامل ہو جاتا ہے۔تندرست جانور اس کھرلی میں پانی پینے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔
جانوروں کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے کپڑوں کے ذریعے بھی وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیلتا ہے۔
فارم پر آنے جانے والی گاڑیاں بھی وائرس کو پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔

یہ بیماری جانوروں سے انسان میں آسکتی ہے لیکن انسان کے معدہ میں موجود تیزابیت وائرس کا خاتمہ کر دیتی ہے انسانوں میں کم پایا جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
جانوروں کو مناسب وقت پر ویکسین لگوائیں۔سال میں حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس دو سے تین بار کاروائیں۔
ویکسین عمومی طور پر ستمبر اور فروری میں کروائی جاتی ہے۔
فارم پر آنے والے نئے جانوروں کو علیحدہ رکھیں اور آتے ہی ویکسین کروائیں۔فارم پر غیر ضروری آمد رفت کو کنٹرول کریں

شیڈ کوماہ میں دو سے تین بار اینٹی سپٹک محلول سے سپرے کروائیں۔
فارم پر استعمال ہونے والی مشینری اور اوزاروں کو صاف ستھرا رکھیں۔
بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے علیحدہ رکھیں۔
علاج

بیمار جانوروں کو فوری اینٹی بائیوٹیکس لگوائیں. مندرجہ ذیل اینٹی بائیوٹیکس کافی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
1۔ آموکسی سیلین۔
2۔ اکسی ٹیٹرا سائیکلین۔
مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لئے لیوا میزول استعمال کریں۔جانوروں کو وٹامین اے ، ڈی اور ای (A,D,E) کا استعمال کروائیں۔
تیز بخار کی صورت میں مندرجہ ذیل ادویات کا استعمال کریں۔
1۔ فلونیکسن میگلومین۔
2۔ ڈکلوفینک سوڈیم۔
3۔ کیٹو پروفین۔

جانوروں میں پانی کی کمی پورا کرنے کے لئے ڈیکسٹروز کی بوتلین لگوائیں۔
جانوروں کی ٹانگوں پر کاپر سلفیٹ یا فارملین ملے پانی میں بھگوئیے زخموں کو باقاعدگی سے جراثیم کش ادویات سے سپرے کریں۔

بیمار جانوروں کو آدھا کلوگھی گرم کرکے دیں اور اس کے ساتھ ہی آدھا درجن انڈے جانور کے م±نہ میں توڑ دیں اس سے جانور کو توانائی ملتی ہے انڈے میں وٹامن کافی مقدار میں ہوتا ہے اور انڈے کے خ*ل سے م±نہ میں چھالے پس جاتے ہیں جس سے جانور کھانا پینا شروع کر دیتا ہے۔
نوٹ: تمام ادویات کی مقدار ویٹرنری ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق استعمال کریں.

تبق سب سے پہلے سمجھیں کہ FMD  ایک وائرل بیماری ہے ۔۔ سو جب بھی وائرل بیماری کا زکر اے تو ہم ادویات یا علاج کی بجاے ۔۔ اح...
09/03/2025

تبق
سب سے پہلے سمجھیں کہ FMD ایک وائرل بیماری ہے ۔۔
سو جب بھی وائرل بیماری کا زکر اے تو ہم ادویات یا علاج کی بجاے ۔۔
احتیاطی تدابیر پر بات کرتے ہیں ۔۔

⭕سو اس بیماری کی احتیاطی تدابیر بروقت ویکسین اور بائیو سیکیورٹی ہے ۔۔ ۔ یاد رکھیں یہ ایک چھوتی پھیلاؤ یعنی contagious Disease ہے یعنی ہوا ،پانی ،خوراک ،متاثرہ جانور کی نقل وحرکت اس کی منہ کی رالیں اور ڈاکٹر حضرات کے کپڑوں اور پاؤں گم بوٹس ،،اور متاثرہ جانور کے علاج کے لیے استعمال سرنج اور دیگر آلات سے پھیلتا ہے ۔۔ ۔۔
⭕تشخیص ۔۔۔۔
سنے اس بیماری میں۔
جانور کے منہ سے رالیں ٹپکنا ،،جانور کا اپنے منہ میں مسلسل زبان گھومانا یا منہ کو چلانا ،، ۔
تیز بخار 104 سے 107 تک ۔۔،،۔
جانور کے منہ کے اندر تالو میں ،زبان کے اوپر ،منہ کے اطراف میں اگلے دانتوں کے نچلے اور اوپر والے حصے میں چھالے نما زخم دیکھائی دے گے ۔۔
جانور کے حیوانے اور تھنوں کے اطراف میں زخم بننا شروع ہوجاے گے ۔۔
جانور کے کھروں کے درمیان چھالے نما زخم بننا شروع ہوجاے گے ۔۔
جانور lameness لنگڑا ئ کی طرف چلاجائے گا ۔۔
جانور دودھ بالکل کم کردے گا

کھانا پینا جانور کا 70 فیصد کم ہوجاے گا ۔۔ ‼️
: ⭕علاج ۔۔۔
دیکھیں اب بیماری وائرل تو ہم اسے ۔
Systematic Treatment ⤵️
دیتے ہیں یاد رکھیں ۔۔
یعنی جانور کی علامات کے مطابق علاج ۔۔
سنے ۔متاثرہ تمام جانوروں کو فوراً دوسروں سے علیحدہ کردیں ۔۔
متاثرہ جانور کے بخار کو کنٹرول کرنا۔۔
آپ لوگوں کو یاد ہوگا جب میں نے BEF ول کی بیماری ، ، پر لکھا تھا ہمیشہ وائرل بیماری کی شدت کم کرنی ہے تو اس کا بخار کنٹرول کریں ۔۔
نمبر 2 ۔۔
جانور کے منہ میں گلیسرین بمعہ ڈیکسامیتھاسون ۔250 ایم ایل ،،بمعہ lignocaine 100ml..
مکس کر ایک سلوشن بناے اور اس کو جانور کے منہ میں صبح شام لگاے ۔۔
یہ سلوشن جانور کے منہ میں بھالو ،زخم کو سن کر اس کی درد اور سوزش کم کرے گا جانور کھانا پینا شروع کردے گا ۔۔

Super spray ..
جانور کے پاؤں اور دیگر سارے بیرونی زخموں کی صفائی اور سپرے مارتے رہیں ۔۔
یاد رکھیں خشک جگہ پر رکھیں مکمل نگہداشت چاہے ۔مجھے آپ لوگوں سے امید ہے ۔۔
یہی سپرے حیوانے کے زخموں پر مارنی ہے ۔۔

اب جانور کو energy supplement ,, vitamins ,, دیں

Amivicom
B complex
B12
Vad3e .
Loxin ..
Dextrose 5% ..

اب میری بات سنے ۔۔
وائرل بیماری میں اینٹی بائیوٹک کا کوی کام نہیں ۔۔ یہ ہم لگاتے ہیں جانور کے سکینڈری انفیکشن کو روکنے کے لیے ۔۔
اس میں
Amoxicillin
Penicillin
سے بہتر کوی اینٹی بائیوٹک نہیں ۔۔

06/03/2025

چھوٹے بچھڑوں (calves) کو خشک دودھ (milk replacer) اور کالف سٹارٹر (calf starter feed) پر پالنا عام پریکٹس ہے، خاص طور پر ڈیری فارمنگ میں۔ لیکن اس کے کچھ فوائد اور نقصانات ہیں جو آپ کو مدنظر رکھنے چاہئیں۔

فوائد:

1. بیماریوں سے بچاؤ – اگر ماں بیمار ہو یا دودھ میں بیماری کے جراثیم ہوں (جیسے Johne’s disease یا Mastitis)، تو خشک دودھ ایک محفوظ متبادل ہے۔

2. لاگت میں کمی – بعض اوقات فارم کا دودھ بیچنا زیادہ منافع بخش ہوتا ہے، اس لیے خشک دودھ کا استعمال ایک اقتصادی حل ہو سکتا ہے۔

3. معیاری خوراک – Milk replacer اور calf starter میں غذائی اجزاء کا ایک مخصوص تناسب ہوتا ہے، جو نشوونما کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔

4. جلدی ترقی – کالف سٹارٹر جلدی کھلانے سے بچھڑوں کا رومن (rumen) جلد ڈیولپ ہوتا ہے، جس سے وہ چارہ اور ونڈہ جلد کھانا شروع کر دیتے ہیں۔

نقصانات اور خدشات:

1. کوالٹی کا مسئلہ – اگر Milk replacer کا معیار اچھا نہ ہو تو بچھڑے کی نشوونما متاثر ہوسکتی ہے۔

2. مدافعتی نظام کی کمزوری – اگر بچھڑے کو پہلے کولوسٹرم (colostrum) نہ پلایا جائے تو اس کا امیون سسٹم کمزور ہوسکتا ہے، جو بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

3. اضافی لاگت – کچھ جگہوں پر Milk replacer فارم کے دودھ سے مہنگا پڑ سکتا ہے۔

4. قبض یا ڈائیریا – اگر دودھ کی مقدار اور کالف سٹارٹر کے استعمال میں توازن نہ رکھا جائے تو بچھڑے قبض یا دست کا شکار ہوسکتے ہیں۔

5. نر بچھڑوں کے لیے غیر منافع بخش – اگر بچھڑا میل (Bull calf) ہے اور گوشت کے لیے نہیں پالا جا رہا، تو یہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟

اگر ماں کا دودھ دستیاب ہو، تو کم از کم پہلے 2 مہینے ضرور پلائیں۔

اگر Milk replacer دینا ہے، تو اعلیٰ معیار کا استعمال کریں، جس میں کم از کم 20-22% پروٹین اور 15-20% چکنائی ہو۔

کالف سٹارٹر 7-10 دن کی عمر سے دینا شروع کریں، تاکہ رومن جلدی ڈیولپ ہو۔

صاف پانی ہمیشہ دستیاب رکھیں۔

بچھڑے کی صحت پر نظر رکھیں، اگر وزن میں کمی ہو رہی ہو یا دست لگ رہے ہوں، تو فوراً خوراک میں تبدیلی کریں۔

نتیجہ:

یہ طریقہ کار صحیح طریقے سے کیا جائے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن لاپرواہی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اگر آپ بچھڑوں کی مکمل مانیٹرنگ کر سکتے ہیں اور اچھی کوالٹی کی فیڈ دے سکتے ہیں، تو یہ ایک اچھا آپشن ہے۔ ورنہ ماں کا دودھ زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔

Pak Goat Farm پاک گوٹ فارم

It’s the meal time

08/02/2025

خوراک کا انتخاب
ترمیم
ٹیڈی بکری کے بچے ٹیڈی اور بتیل کی دوغلی نسل کے بکرے بہت تعاون کرنے والے ہوتے ہیںِ ۔ ان کو جو بھی ملے وہ کھا لیتے ہیں۔ اور ونڈے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اگر گھر میں بچی ہوئی روٹیوں کو گیلی کرکے باریک توڑی میں مکس کرکے کھلا دی جائیں تو پھر بھی ونڈے کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ جو دوست بکریوں فارمنگ کرنا چاہتے ہیں تو وہ ابتدا ٹیڈی بکریوں سے کریں۔

بکریوں کو سردی سے بچانے کے لیے روزانہ صبح کوئی بھی خشک چارہ کھلائیں, دن کے وقت سبز چارہ کھلائے جتنا مرضی سے کھا سکے, دوپہر 12 بجے سے لے کر 2 بجے کے درمیان تازہ پانی پلائیں,اس کے بعد پانی نہ پلائیں, رات کو خشک گندم کھلائیں بڑی بکری کے لیے آدھا کلو چھوٹی بکری کے لیے ایک پاو, رات کو باڑے میں ہوا اندر نہ جانے دیں, پیراشوٹ کے ترپال کا پردہ لگائیں, دن کو دھوپ میں نکال کر باڑے کو دھوپ یا پنکھا لگا کر خشک کرائیں, ایک دو دن بعد رات کو تھوڑا سا گڑ اور کھبی کھبی اس میں تھوڑا سا اجوائن مکس کرلے کھلائیں

07/02/2025

مرغیوں کی فارمنگ کی 2 اقسام ہیں

1 کمرشل فارمنگ
2 گھریلو فارمنگ

بات کرتے ہیں کمرشل فارمنگ کی تو یہ کام وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے اور زیادہ تر پرندہ فیڈ پر تیار ہوتا ہے کیوں کے ي کام وسیع پیمانے پر ہوتا ہے تو اس کے لیے پراپر صفائی وقت پر ویکسین اور خوراک پانی کا خیال موسم کا خیال اور بہت ساری احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ۔اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ پرندے جو ہوتے ہیں ان کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہوتی ہے فارم سے جیسے ہی تیار مال دوکان پر یا گلی محلوں میں فروخت کے لیے آتا ہے تو لوگ خریداری کرتے ہیں جو لوگ گوشت کے لیے خریدتے ہیں میرے خیال میں وہ ٹھیک رہ جاتے ہیں اج خریدا اور ذبح کروا کر پکا لیا
لیکن جو لوگ انڈے کے لیے خریداری کرتے ہیں وہ کسی حد تک نقصان اٹھاتے ہیں۔
نقصان سے کیسے بچنا ہے وہ آپ کو گھریلو فارمنگ میں بتائیں گے

گھریلو فارمنگ 👇👇👇
مثال کے طور پر آپ نے گلی محلوں میں 1 پاؤ یا آدھا کلو والا چوزا فروخت کرنے والے سے چوزا خریدا ہے آپ آتے ہی سب سے بڑی غلطی جو کرتے ہیں وہ یہ ہوتی ہے کہ اچانک خوراک تبدیلی ہوتی ہے کیوں کہ وہ پرندہ گروتھ والی فیڈ پر تیار ہو رہا تھا آپ اسے آتے ہی گندم اور باجرا دیتے ہیں جس سے پرندے کی خوراک کی نالی میں انفیکشن ہو جاتا ہے اور اچانک وہ 2/3 دِن میں دنیا سے روانہ ہو جاتا ہے

لہٰذا 10 چوزوں کی ڈیٹیل بتانے لگا ہوں کمی بیشی آپ خود کر سکتے ہیں وزن بھی اور تعداد بھی ۔
کیوں کہ ہر کسی کی الگ سوچ ہوتی ہے

مثال کے طور پر میں نے 10 پرندے لیئے ہیں وزن 400 سے 500 گرام ہے
اُن کو الگ پنجرے میں رکھنا ہے نہ کر پہلے سے رکھے ہوئے پرندوں کے ساتھ آتے ہی ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنی ہے

پنجرا ایسا ہونا چاہیئے جہاں پر اگر گرمی کا موسم ہے تو انرجی سیور لگا ہو اگر سردی ہے تو ہیٹ کے لئے بلب لگا ہونا چاہئے تاکہ درجہ حرارت برقرار رہے ۔
پنجرا موسم کا مقابلہ کر سکتا ہوں یعنی آندھی بارش طوفان سردی گرمی اور سارا دن دھوپ سے بھی محفوظ ہو
مطلب یہ ہے کہ دِن کا کچھ حصہ دھوپ پنجرے میں آنی چاہیے

اس کے بعد لکڑی کا موٹا برادہ ( بورا) فرش پر ڈالا ہو جو کہ چند دِن بعد تبدیل کر دیا جائے گرمیوں میں کچھ زیادہ وقت بھی نکال جاتا ہے لیکن سردی میں نمی جذب نہی ہوتی تو اس لیے 1ہفتہ بعد لازمی تبدیل کریں ۔ اور فرش پر چونا پاؤڈر کا چھڑکاؤ کر کے نیا برادہ بچھائیں

سہولیات کی بات کے بعد اب آتے ہیں خوراک کی طرف

خوراک 👇👇👇
500 گرام کے آس پاس والا پرندہ 14PS خوراک شوق سے کھاتا ہے جو اج کل 150 سے 170 روپے فی کلو ہے
میں نے 2 کلو خوراک خریدی ہے اور 1 کلو باجرا خریدا ہے اور آدھا کلو مکئی 4 ٹکڑے والی اور آدھا کلو گندم کا دلیہ خریدا ہے یوں یہ ٹوٹل 4 کلو خوراک ہو گئی ہے
جو کہ ان کے لیے 10 دِن ارام سے نکال لے گی ۔ 10 دِن بعد پرندوں کو دیسی دانے کی عادت ہو جائے گی یعنی ان کا نظام انہضام دیسی دانے کے مطابق ہو جائے گا آپ 10 دن بعد صرف دلیہ گندم باجرا مکئی کا دلیہ وغیرہ بھی استمعال کروا سکتے ہے اگر گروتھ جلدی کرنی ہو تو تھوڑا سا فیڈ کا چسکا بھی جاری رکھیں ساتھ

صبح شام 20 گرام فی پرندے کے حساب سے 10 پرندوں کے لیے 200 گرام صبح ۔اور 200 گرام شام کو وقت کے ساتھ ساتھ مقدار بھڑتی جائے گی خوراک کی
اس کے علاوہ پالک پیاز ادرک لہسن کچن سے جو بھی سبزیوں کے پتے وغیرہ مل جائیں باریک کاٹ اس کے علاوہ سالن روٹی کی چوری بنا کر چاول وغیرہ دوپہر کے وقت پنجرے کے نزدیک ایک جگہ مختص کریں وہاں یہ سب مال مواد جمع کرتے جائیں اور دِن کے وقت کچھ ٹائم کے لیے پنجرے سے باہر نکال کر کھلا چھوڑیں تاکہ وہ اس مال مواد سے لطف اندوز ہوں

پانی
پانی کے لیے پانی والی ٹینکی جو 200 کی 1 آتی ہے
بعد اوقات چھوٹی بڑی بھی ہوتی ہیں اور ریٹ کم زیادہ بھی ہوتا ہے
صبح شام تازہ پانی بھر کر استمعال کروائیں

کیوں کہ ہم پرندہ گھریلو طرز پر پال رھے ھیں تو ہمیں ویکسین کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ہاں چند ادویات ہیں جو کافی وقت تک ساتھ رہتی ہیں وہ خرید کر پاس رکھ لی جائیں تو کافی فائدہ رہتا ہے ۔

پیڈرال سیرپ یا بروفن سیرپ
یہ بخار اور جسم میں کہیں درد ہو تو اس سے نجات دیتا ہے
فی لیٹر پانی میں 1 ڈھکن شامل کر کے احتیاط کے طور پر استمعال کروا سکتے ہیں

سیب کا سرکہ یا انگوری سرکہ
دونوں میں سے جو بھی مل جائے کافی فائدہ مند رہتا ہے
بہت سے امراض سے نجات ہے آپ اس کو خوراک پر سپرے کر کے ہفتے میں 1 دِن استمعال کروا سکتے ہیں یا پھر پانی میں 1 ڈھکن شامل کر کے بھی استمعال کروا سکتے ہیں

موٹیلیم گولیاں
جب مُرغی یا مرغا پتلی اور سبز سفید بیٹھ کرے تو اس کو ہاتھ سے کچھ نہ کچھ کھلا کر اوپر سے موٹیلیم کی ایک گولی کھلا دیں چند گھنٹے دیکھیں اگر فائدہ نہ ہو تو پھر کچھ نہ کچھ کھلا کر موٹیلیم کی گولی دے دیں ایسی حالت میں خوراک نرم استعمال کروانی ہے

ٹائلو فرسن پاؤڈر
یہ ایک بہترین اینٹی بائیوٹک ہے جو بیماری انے سے قبل اور بیماری کی صورت میں استعمال کروایا جا سکتا ہے طریقہ استعمال پیکنگ کے اوپر لکھا ہوگا

نیورو بیان گولیاں اور مچھلی کے تیل کے کیپسول 👇👇
یہ دونوں چیزیں ایسے پرندوں کو استعمال کروائی جاتی ہیں جن کی ٹانگوں پر وزن نہ ارہا ہو بظاہر تو پرندہ ٹھیک لگ رہا ہو دانہ پینا بھی کر رہا ہو لیکن وہ اپنی ٹانگوں پر چل نہیں سکتا تو نیورو بیان کی گولی کے چار حصے کریں ایک مچھلی کے تیل کا کیپسول کھلائیں اور چوتھا حصہ گولی کھلا دیں اگر فرق نہ پڑے تو اسی طرح چھ گھنٹے کے وقفے کے بعد ۔ کوشش کریں جب بھی کوئی نہ کوئی خوراک ادویات استعمال کروانی ہوں تو مرغی کے پورٹ میں کوئی نہ کوئی خوراک لازمی ہو خالی پیٹ خوراک نہیں کھلانے کوئی بھی
ان شاءاللہ افاقہ ہوگا

آکسی ٹیٹرا سائکلین کیپسول
گلے سے خرخر کی اواز اتی ہو زکام ہو ریشہ وغیرہ ہو تو بڑی مُرغی کو 1 کیپسول ڈائریکٹ کھلایا جا سکتا ہے اور اگر چھوٹی مرغیاں ہیں پٹھیاں پٹھے تو ان کے لیے اپ کیپسول کو دو حصوں میں تقسیم کریں یعنی میڈیکل سٹور سے اپ کو خالی کیپسول مل جائیں گے ایک کیپسول کو دو خالی کیپسولوں میں بھر لیں
اس کے علاوہ یہ کیپسول چھوٹے چوزوں کے پینے کے پانی میں بھی شامل کر کے استعمال کروایا جا سکتا ہے

انروسم 100 ML
یہ بھی ایک انتہائی بہترین اینٹی بائیوٹک دوائی ہے جو وائرس کے پھیلے ہوئے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے طریقہ استعمال پیکنگ کے اوپر لکھا ہوگا ۔

ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے ہی اپ اچھی گھریلو فارمنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں نہیں تو روزانہ اپ اپنی مرغی کی پوسٹ کریں گے کہ اج یہ ہو گیا کل وہ ہو گیا اس طرح سے ہے اس طرح سے ہے

کچھ لوگوں کو تیار مرغیاں رکھنے کا شوق ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مرغیاں اتے ہی دو چار دن کے اندر انڈے دینے لگے تو ان کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ گھر پر پلی ہوئی مرغیاں ہی لیں نہ کے مارکیٹ سے ورنہ بات وہی ہے جو پوسٹ کے شروع میں بتائی گئی ہے ۔اپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اپ اپنے کسی وقف کار سے مرغیاں خریدیں جو اپ کی نظر میں ہوں کہ ایا واقع ہی یہ اتنی عمر کی مرغیاں ہیں اور گھر کی پلی ہوئی ہیں

چند ادویات کی تصاویر جو میرے پاس موجود تھی وہ شیئر کر دی ہیں مزید کچھ ادویات آپ کو ویٹرنری اسٹور سے اور کچھ ادویات میڈیکل اسٹور سے مل جائے گی ۔

اور ایک اخری بات میرا مقصد لوگوں کے شوق کو بیدار رکھنا ہے اور اپنے بچپن کے شوق اور چھ سالہ فارمنگ کے تجربہ اور علم کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کی کوشش کرتا ہوں نئے سیکھنے والوں کے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہوں جس مقصد کے لیے روزانہ ایک پوسٹ اس گروپ میں لازمی شیئر کرتا ہوں اس سب کے باوجود کچھ لوگ اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہیں اور فضول قسم کی بحث و مباحثہ کرتے ہیں خود کسی کو معلومات دے کر راضی نہیں ہوتے اور اگر کوئی معلومات فراہم کر رہا ہو تو اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں کہ جی یہ ٹھیک ہے وہ ٹھیک نہیں ہے بھائی جان کمنٹس کرنا بڑا اسان ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے کمنٹس کی وجہ سے لوگ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں
اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر یہ لوگ باز نہ ائے تو ائندہ چند روز میں پوسٹ کے کمنٹس آف رکھے جائیں گے ۔

میرے پیج کو لائیک فالو کیجیئے
خوش رہیں آباد رہیں

Address

Lodhran

Telephone

+923064203197

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Dairy & Cattle Farm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category