Friends Pizza & Fast food

Friends Pizza & Fast food we offer Pizza, burgher, fries, fingers chips, The real taste of Life
friends pizza & fast food

21/09/2022
یہ پانچ بھائی اپنے آنکھوں کے سامنے اپنی موت کو 4 گھنٹوں سے دیکھ رہے تھے اور شاید یہ سوچ بھی رہے تھے کہ کئی سے اسلامی جمہ...
26/08/2022

یہ پانچ بھائی اپنے آنکھوں کے سامنے اپنی موت کو 4 گھنٹوں سے دیکھ رہے تھے اور شاید یہ سوچ بھی رہے تھے کہ کئی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہیلی کاپٹر آئے گا اور ہماری زندگی بچ جائے گے۔ لیکن اُن کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی اور پانچوں کے پانچوں بھائی بے رحم موجوں کے شکار ہوگئے۔
افسوس
اگریہی کسی طاقتورترین سیاسی انسان کے بچے ہوتے توا ن کی مددکے لیے ۵منٹ میں ہیلی کاپٹرزپہنچ جانے تھے۔

عورتیں اگر گنجی ہو جائیں تو بدصورت نظر آتی ہیں...اگر عورتوں کی مونچھیں آ جائیں تو بدصورت لگتی ہیں...اگر عورتوں کے سکس پی...
15/07/2022

عورتیں اگر گنجی ہو جائیں تو بدصورت نظر آتی ہیں...
اگر عورتوں کی مونچھیں آ جائیں تو بدصورت لگتی ہیں...
اگر عورتوں کے سکس پیک ایبس نکل آئیں،
تو عجیب لگتی ہیں ......
اور آپ کہتے ہیں کہ عورتیں خوبصورت ہوتی ہے...؟؟؟
اب بات کرتے ہیں مردوں کی....
یعنی لڑکے...
اگر لڑکے کلین شیوں ہوں تو خوبصورت لگتے ہیں...
اور داڑھی رکھیں پھر اور زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ....
لڑکے گنجے ہو جائیں تب بھی خوبصورت لگتے ہیں...
بڑے بال رکھیں، پھر بھی خوبصورت لگ تے ہیں ۔
درمیانے بال ہیں، پھر بھی خوبصورت نظر آتے ہیں۔
اگر لڑکوں کو سکس پیک ایبس آ جائیں تو خوبصورت
اور اگر چھریرے ہیں تو پھر بھی خوبصورت...
یعنی عورت کا حسن بس ایک چھلاوہ ہے...!
جیسے کسی جادوگر کا جادو ...!!
لیکن مرد کی خوبصورتی......
ایک ابدی سچائی ہے جو ہر حال میں چھائی رہتی ہے۔
نوٹ - خواتین دھکا- مکی نہیں کریں..🙏😏😌🫠

‏عیدالاضحی ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ‎ #4ﮐﮭﺮﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﮐﺎ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻫﻮتا ہے, ﺗﻘﺮﯾﺒﺄ 23 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻗصائی ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ...
04/07/2022

‏عیدالاضحی ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ‎ #4ﮐﮭﺮﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﮐﺎ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻫﻮتا ہے, ﺗﻘﺮﯾﺒﺄ 23 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻗصائی ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺎتے ہیں۔
3 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﭼﺎﺭﮮ‏ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ والے ﮐﻤﺎتے ہیں۔
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﻫﻮتا ہے..
ﻧﺘﯿﺠﻪ : ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ملتی ہے ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﻩ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتا ہے.
ﺩیہاﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ‏ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻗﯿﻤﺖ ملتی ہے۔
اربوں روپے ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻻﻧﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍلے کماتے ہیں۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ لیے مہنگا ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ملتا ہے ,
ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺳﻮ ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتی ﻫﯿﮟ‏ﭼﻤﮍﮮ ﮐﯽ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﺎﻡ ملتا ہے,
ﯾﻪ ﺳﺐ ﭘﯿﺴﻪ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﻫﮯ ﻭﻩ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺧﺮﭺ ﮐﺮتے ہیں ﺗﻮ نا ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﮐﮭﺮﺏ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﻫﻮتا ہے‏ﯾﻪ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮔﻮﺷﺖ نہیں ﮐﮭﻼﺗﯽ , ﺑﻠﮑﻪ ﺁﺋﻨﺪﻩ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ ,
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮٸی ﻣﻠﮏ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ‏ﭨﯿﮑﺲ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺴﻪ ﻏریبوﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﻧﻬﯿﮟ ﻫﻮﻧﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ملک ﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ ‏ﺍﮐﻨﺎﻣﮑﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮐﻮﻟﯿﺸﻦ ﺁﻑ ﻭﯾﻠﺘﮫ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭼﮑﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ ﮐﻪ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻋﻘﻞ ﺩﻧﮓ ﺭﻩ ﺟﺎﺗﯽ ﻫﮯ ...
ماشاءالله ماشاءالله ❤ فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ❤

آپ نے یقیناً کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو ...
27/06/2022

آپ نے یقیناً کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو آتی ہے اور یہ جلدی گلتا یعنی پکتا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب کچھ آپ نے بھی محسوس کیا ہو۔ اگر ہاں تو کیا کبھی سوچا کہ ایسا کیوں یے؟ اگر غور کرنے کا وقت نہیں ملا تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے بڑا مہنگا جانور خرید رکھا ہو، لاریب کہ آپ کا جانور خوبصورتی میں بھی بے مثال ہو، لیکن معذرت کے ساتھ آپ کو جانور ذبح کرنا یا کروانا نہیں آتا۔ ذرا ٹھہریں، غصہ تھوک دیں، لیکن حقیقت یہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ اگر یقین نہیں آرہا تو پھر یہ باتیں غور سے سنیں، سمجھیں اور اس عید قربان پر ان پر عمل کریں۔ آپ خود ہی کہیں گے کہ قربانی کا گوشت تو ہم آج پہلی دفعہ کھا رہے ہیں، کیونکہ ایسا مزیدار، صحت بخش اور خوشبودار جنتی گوشت آپ نے پہلے کبھی نہیں کھایا ہوگا۔

آپ کو کرنا کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں۔ بس ساون کے مینڈکوں کی طرح نکلنے والے نسلی یا فصلی قصائیوں کی باتوں پر یقین نہیں کرنا بلکہ دین کی روشنی اور ذبیحے کی سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے میرٹ پر جانور ذبح کروانا اور گوشت بنوانا ہے۔ اگر وہ آگے سے جز بز ہوں تو آپ چیں بچیں ہو جائیں۔ آخر آپ ان کو پیسے کس بات کے ادا کر رہے ہیں؟ اگرچہ سچے آپ بھی ہیں کہ پاکستان اور میرٹ!!! جی ہاں! کہیں اور ہو یا نہ ہو، لیکن اس بار چھری تلے میرٹ ضرور ہونا چاہیے، بس یہی آپ نے کرنا ہے۔

اگر آپ پاکیزہ، خوشبودار اور ذائقہ دار گوشت کھانے کے واقعی خواہشمند ہیں تو پھر سنیے۔ ذبح کرنے کی چھری آپ کی نیتوں کی مثل اچھی طرح تیز ہونی چاہیے، ذبح کرنے سے قبل جانور کو خوب کھلا پلا لیں اور جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرکے خوف کا شکار مت کریں۔ ان تمام صورتوں میں جسم میں ایک کیمیکل 'ہسٹامین' خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے، جو خون کی نالیوں کو پھیلا دیتا ہے، جس سے خون سست رفتار ہوکر مکمل طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتا۔ اور یوں گوشت کی کوالٹی متاثر ہو جاتی ہے۔

اور سب سے اہم بات جو آپ نے دھیان میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ذبح کرنے والے کو کبھی مذبوح کے حرام مغز کو نہیں کاٹنے دینا۔ اگرچہ وہ سو بہانے بنائے گا اور جانور کو جلدی ٹھنڈا کرکے اذیت سے نجات دلانے کے دعوے کرے گا، لیکن آپ نے سنی ان سنی کردینی ہے۔ اسے نہ آپ کے جذبہ قربانی کی فکر اور نہ بسمل کی تکلیف کا خیال۔ وہ تو بس اگلے گاہک اور اپنی ففٹی سنچری کے تصور میں ہوگا۔ اور شرعی طور پر بھی چھری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں تک لیجانا جانور کو بلاوجہ اذیت دینا اور مکروہ ہے۔ ذبح کی شرائط میں اول سانس کی نالی، دوم خوراک کی نالی، سوم دو جگلر آرٹریز اور چہارم دو کیروٹڈ آرٹریز میں سے کسی تین کا مکمل یا جزوی کٹ جانا اور خون کا بہہ جانا شامل ہے۔ چلیں آپ ساری نالیاں اور رگیں کاٹ دیں مگر مہروں تک چھری پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی دادوں پردادوں کے فن دکھانے کی کوشش میں حرام مغز کو کاٹ دیتا ہے تو جسم کا تڑپنا یکدم رک جائے گا اور یوں گوشت میں موجود باریک رگوں سے خون خارج نہیں ہوپائے گا۔ جس کا نتیجہ گوشت کی خرابی کی اور ذائقے کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

اور آخری بات، جانور کے تڑپنے کے ساتھ اس کی تکلیف کا کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دو تین سیکنڈ میں ہی جب سانس اور خون کی نالیاں کٹ جاتیں ہیں، تو اس کا دماغ بے حس ہوکر تکلیف محسوس کرنا بند کردیتا ہے۔ تڑپنا اس کے پٹھوں کی غیر ارادی حرکات کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس کے حرام مغز کے تحت ہوتی ہیں۔

نیچے کچھ تصاویر میں مذبوح کے گلے میں موجود نالیوں اور خون کی رگوں کے مقام کو واضح کیا گیا ہے۔ دیکھ کر ذبح کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
جزاک اللہ

22/06/2022

فلم بلیک ھول Black Hole برطانوی فلم ھے ۔
جس کا موضوع انسانی طمع اور لالچ ھے ۔ یہ محض 2 منٹ 19 سیکنڈ کی فلم ھے جو اپنے المناک اختتام کی وجہ سے ناظرین کو حیرت زدہ کر دیتی ھے ۔ یہ فلم اس وقت تک چار بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کر چکی ھے ۔
بلیک ھول۔ انسانی دماغ یا انسانی طمع اور لالچ کا وہ ھول ھے جو کبھی نہیں بھرتا ۔ یہ مختصر سا وڈیو کلپ بار بار دیکھنا چاہئیے۔🤔

21/06/2022
 #بِچھو کے بچے بچھو بچے پیدا کرنے کے بعد اُن کو اپنی کمر پہ بِیٹھا دیتا ہیں ۔ اور یہ بچے اپنی ہی ماں کی کمر کا گوشت نوچ ...
18/06/2022

#بِچھو کے بچے
بچھو بچے پیدا کرنے کے بعد اُن کو اپنی کمر پہ بِیٹھا دیتا ہیں ۔ اور یہ بچے اپنی ہی ماں کی کمر کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتے رہتے ہیں ۔
ماں طاقت رکھنے کے باوجود کچھ نہیں کہتی شکوہ نہیں کرتی چپ چاپ تکلیف سہتی رہتی ہے اور یہ بچے اس کا گوشت کھاتے رہتے ہیں ماں چلنے کے قابل نہیں رہتی لیکن بچے خود چلنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔ تب تک ان کی ماں بھی مر جاتی ہے۔ اور یہ بچے اپنی زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں۔
آج ہم میں سے بہت سے لوگ بلکل بچھو کی طرح بن چکے ہیں۔ والدین بچہ پیدا ہونے سے بچے کی تعلیم شادی اور چھت دینے کے لیے اپنی اپنی بساعت کے مطابق دن رات دھوپ بارش کی پرواہ کیے بغیر اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن افسوس
وہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں کسی اور کی محبت کو اہمیت دیتے ہیں اور والدین سے ملنا بھی نہیں چاہتے تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں ماں باپ کا دل دکھا کر وہ سکھ اور چین کی زندگی بسر کریں گے تو ہرگز نہیں ۔والدین تو معاف کر دیں تو جو اوپر ہے میرا رب وہ نا انصافی نہیں کرتا جس نے والدین کا درجہ دیا ماں کے پیروں تلے جنت رکھی کیا وہ معاف کر دے گا؟؟
ہم میں سے بہت سارے لوگ اپنے بوڑھے والدین کی خبر گیری تک نہیں کرتے اپنے ہی مقاصد کی تکمیل کے لیے کوششاں رہتے ہیں

بلکل بچھو کی طرح ۔۔۔۔

اللّه پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں
کہ اپنے والدین کے سامنے اونچا نہ بولو اور انکو اف تک نہ کہو۔۔
پھر فرماتے ہیں کہ باپ کی رضا میں اللّه کی رضا ہے
پھر فرماتے ہیں کہ والدین کا ہر حکم مانو۔۔۔
پھر فرماتے ہیں کہ والدین کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دینا مقبول حج کا ثواب ۔
آخر میں بس یہی دعا ہے, اللّه تعالی ہمیں والدین کی خدمت نصیب فرماۓ اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر دراز فرماۓ آمین ثم آمین ۔❤

جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتیدلیل یہ...
12/06/2022

جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی

دلیل یہ تھی کہ

تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو

جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے

یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گئی

تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے

اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا

خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے

واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی

خاتون نے لکھا ہے کہ :

میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی

ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے

ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے

روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے

اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا

ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ

برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے

ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا

جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو

سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا

اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا

اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی

ایک بار ایسا ہوا کہ

ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی

اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا

اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ;

ٹرین نہیں چلانی

ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ :

جو حکم چھوٹے صاحب

کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ

اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا

لیکن

بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا

بالآخر

بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا

چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی

ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے

ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا

بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی

قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی

جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا

جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا

وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا

وہ زور زور سے کہہ رہا تھا

یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے

ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے

میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا

میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ :

یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے

یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا

وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ

اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے

آج یہ واضع ہے کہ :

ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے

البتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکے

یہاں آج بھی کئی

1- ڈپٹی کمشنرز
2- ایس پیز
3- وزرا مشیران
4- سیاست دان
5- جرنیل

صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں

اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ

ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے

ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں

ماں باپ کے اکلوتے  #بہادر بیٹے   کی شادی کو 13سال ہوگئے 13 سالوں میں مختلف اوقات میں صرف 60 دن اپنی بیوی اور بیٹی کے سات...
26/05/2022

ماں باپ کے اکلوتے #بہادر بیٹے کی شادی کو 13سال ہوگئے 13 سالوں میں مختلف اوقات میں صرف 60 دن اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہے اور باقی عرصہ جیل اور #کشمیر کی #آزادی کے لیے وقف کیا ایک ہزار بار سے زیادہ جیل میں گیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ کیوں ایسا کر رہا ہے کیا یہ پاگل ہے کیا اس کی کوئی زندگی نہیں کیا یہ خوش نہیں رہنا چاہتا #تاریخ جب لکھی جائے گی تو اس مرد #قلندر کا نام لکھتے قلم کانپ اٹھے گی ایسا #دلیر اور جرات مند ایک انسان صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اللہ پاک یاسین ملک صاحب کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے.اللّٰہ پاک یاسین ملک صاحب کی تمام مشکلات آسان فرمائیں آمین 🤲🏻 🤲🤲

ایک عورت کا شوہر ہر وقت کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا اور اپنی بیوی سے کہتا ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو روزانہ وہ مہم...
17/05/2022

ایک عورت کا شوہر ہر وقت کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا اور اپنی بیوی سے کہتا ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو روزانہ وہ مہمان کے لیے کھانے تیار کرتی

آخر کار وہ روز کے معمول سے تنگ آ گٸی اور ایک دن رسول پاک ﷺ کے پاس گٸی اور کہنے لگی یا رسول اللّٰه ﷺ میرا شوہر روزانہ کسی مہمان کو گھر لے آتا ھے اور میں کھانے بنا کے تھک جاتی ھوں.

یا رسول اللّٰه ﷺ کوٸی ایسا طریقہ بتاٸیں کہ میرا شوہر گھر میں مہمان نہ لے کر آئے۔۔۔

اس وقت نبی پاک ﷺ خاموش رہے اور وہ عورت نبی پاک ﷺ کی خاموشی دیکھ کے گھر واپس آ گٸی۔۔۔

اگلے دن نبی پاک ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور کہا کے کل میں تمھارا مہمان ھوں؟؟؟

وہ آدمی بہت خوش ہوا اور آ کر اپنی بیوی کو بتایا کے آج نبی پاک ﷺ ھمارے مہمان بن کے آئیں گے اس کی بیوی بہت خوش ھوٸی اور جلدی سے اچھے اچھے کھانے بنانے لگی

جب نبی پاک ﷺ اس عورت کے گھر آئے تو نبی پاک ﷺ نے اس کے شوہر سے کہا کے جب میں کھانا کھا کے واپس جانے لگوں تو اپنی بیوی سے کہنا میرے گھر سے نکلنے تک پیچھے دیکھتی رھے اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔۔۔

جب نبی پاک ﷺ واپس جانے لگے تو اس عورت نے کیا دیکھا کے رسول اللّٰه ﷺ کے ساتھ بچھو سانپ اور کیڑے مکوڑے سب ساتھ جا رھے تھے وہ یہ منظر دیکھ کے بے ھوش ھو گئی۔۔

اگلے دن وہ پھر نبی پاکﷺ کے پاس گٸی تو نبی پاک ﷺ نے اس عورت کو بتایا کہ مہمان اپنا نصیب خود لے کے آتا ھے اور جو مہمان کے لیے محنت کی جاتی ہے اس کے بدلے جب وہ واپس جاتا ہے تو ساتھ اس گھر سے ساری بلاٶں اور اس گھر کے سارے گناہ ساتھ لے جاتا ھے..❤️

مہاتما بودھ کا پسندیدہ ملک سری لنکا49 دنوں میں مکمل دیوالیہ ہو گیا  فروری 2022 کو پہلا خوف ناک ایشو پیدا ہواکولمبو پورٹ ...
27/04/2022

مہاتما بودھ کا پسندیدہ ملک سری لنکا
49 دنوں میں مکمل دیوالیہ ہو گیا
فروری 2022 کو پہلا خوف ناک ایشو پیدا ہوا
کولمبو پورٹ پرآئل کیریئر
40 ہزار ٹن فیول (پٹرول) لے کر پہنچا..
بینک آف سیلون* نے پٹرول کی پے منٹ کرنی تھی لیکن بینک کے پاس ڈالر ختم ہو گئے تھے۔۔۔
وزیرخزانہ سے رابطہ کیا گیا۔
وزیرخزانہ نے اسٹیٹ بینک سے بات کی
لیکن اس کے پاس صرف دو ارب اور
30 کروڑ ڈالر تھے
اور وہ بھی کرنسی کی شکل میں نہیں تھے
لہٰذا سری لنکا پٹرول نہ خرید سکا
اور جہاز پٹرول سمیت انڈیا روانہ ہو گیا۔۔۔
یہ سری لنکا کے دیوالیہ پن کا اسٹارٹ تھا
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے
مہاتما بودھ کا پسندیدہ ملک
49 دنوں میں مکمل دیوالیہ ہو گیا اور
سری لنکا نے
12 اپریل کو خود کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا۔

ہم نے دیوالیہ کا صرف لفظ سنا ہے،
ہم اس کے نتائج اور ردعمل سے بالکل واقف نہیں ہیں۔۔۔۔
میں لوگوں کو اکثر یہ کہتے سنتا ہوں کہ
*ہم اگر دیوالیہ ہو بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے*....؟
سری لنکا میں بھی ایسے لاکھوں لوگ تھے،
یہ بھی حکومت کو کہتے تھے
*ہم اگر دیوالیہ ہو بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے*؟
لیکن آج سب سے زیادہ یہی لوگ رو رہے ہیں،
سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے ہیں اور سرکاری دفتروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر
یہ اہلکار اور سرکاری محکمے
اب کیا کر سکتے ہیں؟
پورا ملک
اس وقت ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح سمندر میں ہچکولے کھا رہا ہے
اور پوری دنیا میں اسے بچانے اور
سہارا دینے والا کوئی شخص موجود نہیں۔

*آپ اگر دیوالیہ پن کو سمجھناچاہتے ہیں تو آپ چند مثالیں دیکھ لیں*؛

سری لنکا کو تین ہزار میگا واٹ بجلی چاہیے ہوتی ہے جب کہ
بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت
4 ہزار میگاواٹ ہے
لیکن
80 فیصد بجلی
تھرمل پاورپلانٹس
سے پیدا ہوتی ہے اور یہ پلانٹس ڈیزل، فرنس آئل اور کوئلے پر چلتے ہیں،
ان کے لیے ڈالرز چاہئیں اور سری لنکا کے پاس ڈالرز نہیں ہیں
لہٰذا پاورپلانٹس بند ہیں
اور
نتیجے میں ملک میں روزانہ ساڑھے سات گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے،
صبح آٹھ بجے سے ایک بجے اور شام چھ سے ساڑھے آٹھ بجے تک پورے ملک میں بجلی نہیں ہوتی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے
ٹیلی ویژن، موبائل فون سروسز، دفتر، اسکول، اسپتال، ریستوران،
چائے خانے اور ہوٹل بند ہو جاتے ہیں۔

یہ پڑھ کر ھمارے ذہن میں سوال آئے گا یہ ادارے اپنے جنریٹرزکیوں نہیں چلا لیتے۔۔۔۔۔؟
یہ چلا سکتے ہیں لیکن جنریٹرز ڈیزل، پٹرول، فرنس آئل،
گیس اور کوئلے سے چلتے ہیں
اور یہ سہولتیں اس وقت ملک میں موجود ہی نہیں ہیں،
بجلی کی بندش سے ٹیوب ویلز اور پانی کی موٹرز نہیں چل رہیں
چنانچہ پورے ملک میں پانی اور سیوریج دونوں بڑے بحران بن چکے ہیں....

*پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہو چکی ہے* اور
*ریل سروس بھی، ذاتی گاڑیاں بھی گیراجوں میں کھڑی ہیں*
*یا پھر پارکنگ* *لاٹس اور گلیوں میں* ...

بچوں کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں کیوں کہ
*ایجوکیشن بورڈز کے پاس امتحان کی کاپیاں اور سوال چھاپنے کے لیے کاغذ ہی موجود نہیں ہیں*۔

ڈرائیونگ لائسنس،
شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بھی نہیں بن رہے کیوں کہ
پلاسٹک شیٹس امپورٹ نہیں ہو رہیں...

*سری لنکا کی ایکسپورٹس کا 52 فیصد ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر مشتمل تھا*..

*جی ڈی پی میں چائے کی ایکسپورٹ کا والیم 17 فیصد تھا* جب کہ
*باقی 31 فیصد آمدنی مصالحوں*،
*قیمتی پتھروں، کوکونٹ*،
*ربڑ، فش اور سیاحت سے آتی تھی*۔۔۔

تیل کی بندش، لوڈشیڈنگ
اور ڈیفالٹ کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور چائے سمیت ساری ایکسپورٹس رک گئیں،
فلائیٹس بند ہوئیں تو
*سیاحت کی انڈسٹری بھی دم توڑ گئی*۔۔۔
مسافر نہیں آ رہے تو ہوٹل،
ریستوران
اور عجائب گھر بھی اجڑ گئے۔

*پاکستان کی طرح سری لنکا کے مالیاتی ذخائر کا بڑا سورس بھی تارکین وطن ہیں*۔۔
ملک کے معاشی حالات خراب ہوئے تو دوسرے ملکوں میں مقیم سری لنکن نے بھی رقمیں بھجوانا بند کر دیں
لہٰذا بحران بڑھتا چلا گیا
اور آج
سری لنکا پوری دنیا کو محتاج نظروں سے دیکھ رہا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے تیار نہیں۔

*ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ*
*آخر سری لنکا اس حالت کو کیسے پہنچا* ۔۔۔۔۔؟

*ہم سرِدست سیاسی وجوہات کو سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور عملی چیزیں دیکھتے ہیں*۔۔۔

سری لنکا قدرتی وسائل سے مالا مال خوب صورت ملک ہے،
دنیا کی بہترین چائے پیدا کرتا ہے،
گھنے جنگلوں کا مالک ہے،
*بودھ مت کا گڑھ ہے*
لہٰذا مدہبی سیاحت کے خزانے بھی ہیں،
دنیا جہان کے مصالحے بھی پیدا ہوتے ہیں،
سری لنکا کی دارچینی پوری دنیا میں مشہور ہے،
یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آیا تو دنیا کے نامور برینڈز گاہک بن گئے۔
چار سائیڈز سے سمندر میں گھرا ہوا ہے لہٰذا
ہر قسم کا ساحل بھی ہے
اور ان ساحلوں پر سینکڑوں ریزارٹس اور ہوٹلز بھی۔۔۔
92 اشاریہ تین فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں،
بھکاری بھی روزانہ اخبار پڑھتے ہیں۔۔۔
برصغیر کی قدیم ترین لائبریری *گال* شہر میں ہے،
یہ ہالینڈ کے جہاز رانوں نے 1832 میں بنائی تھی اور آج بھی چل رہی ہے... مہاتما بدھا کا ایک دانت *کینڈی* شہر میں رکھا ہوا ہے اور پوری دنیا سے
بدھا بھکشو اس کی زیارت کے لیے کینڈی آتے ہیں۔

*سری لنکا سائوتھ ایشیا کا پہلا ملک تھا* *جس نے*
*1970 میں اپنی معیشت کو لبرل بنایا تھا*
اور سری لنکن بہت صفائی پسند،
ڈسپلنڈ اور نرم مزاج لوگ بھی ہیں...

مہمان نوازی کے شعبے میں
ان کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن پھر ایسا کیا ہوا
جس کی وجہ سے سری لنکا دیوالیہ ہو گیا۔۔۔۔۔؟

*اس کی 6 وجوہات ہیں*:

1- *پہلی وجہ*
قرضے ہیں..
سری لنکا کو بھی پاکستان کی طرح قرضوں کی لت لگ گئی تھی... یہ تازہ ہوا کے لیے بھی قرضہ لے لیتا تھا...
*یہ قرضے بڑھتے بڑھتے جی ڈی پی کا*
*119 فیصد ہو گئے* یعنی
آپ جو کچھ کما رہے ہیں
وہ اور اس کے ساتھ مزید
20 فیصد قرضوں کی قسطوں میں دے رہے ہیں لہٰذا ملک ہماری طرح قرضے کی ادائیگی کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہو گیا۔

2- *دوسری وجہ*
پاکستان کی طرح سری لنکا کا بجٹ اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا
یعنی جتنا بجٹ بناتے تھے یہ
اس سے زیادہ خرچ کر دیتے تھے اور انھیں جتنی آمدنی برآمدات سے ہوتی تھی یہ اس سے زیادہ رقم درآمدات پر خرچ کر دیتے تھے...
یہ لوگ بھی ہماری طرح بیچتے کم اور
خریدتے زیادہ تھے...

3- *تیسری وجہ*
سری لنکا میں ہماری پی آئی اے اور اسٹیل مل کی طرح
502 ایسے سفید ہاتھی تھے
جن پر بجٹ کا 20فیصد حصہ خرچ ہو جاتا تھا....
ان اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہوتی تھیں... صرف دفتروں کے تالے کھولنے اور بند کرنے کے لیے بیس بیس لوگ تھے۔
یہ ہاتھی
کھاتے بہت زیادہ تھے
لیکن واپس کچھ نہیں کرتے تھے....

4- *چوتھی وجہ*
سری لنکا کی ٹریڈ پالیسی بنی، پالیسی بہت اچھی تھی۔۔۔
یہ سائوتھ ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے اپنی معیشت عالمی منڈی کے لیے اوپن کی
لیکن پاکستان کی طرح ان کی انڈسٹری اور تجارت بھی بیوروکریسی یعنی
سول سروسز (ھمارے ملک کا بھی یہی حال ہے) کے ہاتھوں ذلیل ہو رہی تھی۔۔۔
فیکٹریوں کے مالکان کا ایک پائوں فیکٹری میں ہوتا تھا
اور دوسرا سرکاری دفتروں میں ارب پتی لوگ بھی عام سرکاری دفتروں کے برآمدوں میں بیٹھے ہوتے تھے۔

غیرملکی کمپنیاں بھی سری لنکا آئیں
لیکن بیوروکریسی کے تاخیری حربوں، رشوت اور منفی رویے کی وجہ سے واپس چلی گئیں
لہٰذا بیوروکریسی کی وجہ سے
سری لنکن
بزنس مین ترقی بھی نہ کرسکے اور یہ ہانگ کانگ، ملائیشیا اور تائیوان میں بھی بیٹھ گئے..

5- *پانچویں وجہ* سری لنکا مسلسل 26 سال خلفشار اور خانہ جنگی کا شکار رہا۔۔۔
تامل ٹائیگرز نے 1983 میں جنگ شروع کی اور یہ
2009 تک مسلسل لڑتے رہے۔۔۔
اس جنگ نے ملک،
معیشت اور فوج تینوں کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں،
دنیا میں خودکش حملوں کے تازہ موجد بھی تامل ٹائیگرز تھے،
خودکش جیکٹ ان لوگوں نے بنائی تھی۔
سری لنکا نے پاکستان کی مدد سے 2009 میں اس عفریت پر قابو پایا
لیکن یہ جاتے جاتے ملک کا سب کچھ لے گیا۔

اور ۔۔۔۔۔۔

6- *چھٹی وجہ* سری لنکا میں تعلیم بہت ہے لیکن
پاکستان کی طرح عملی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے،
لوگ ڈگری ہولڈرز ہیں مگر ان کے پاس ہنر کوئی نہیں لہٰذا
پاکستان کی طرح سری لنکا میں بھی ہر شخص نوکری کی درخواست جیب میں ڈال کر پھر رہا تھا اور اس کا نتیجہ ڈیفالٹ کی صورت میں نکلا۔

سری لنکا کی مثال دیکھ کر ھم یہ بات اب سمجھ لیں کہ
دنیا میں کوئی قوم قدرت کی فیورٹ نہیں ہوتی، بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین قوم تھی
لیکن اس نے بھی جب قدرت کے سسٹم کی خلاف ورزی کی تو وہ بھی ہزاروں سال ذلیل و خوار ہوتی رہی،
ہم مسلمان بھی کئی سو سال سے خوار خراب ہو رہے ہیں

کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟

کیونکہ *ہم بھی نیچر کے سسٹم سے الٹ چل رہے ہیں*
لہٰذا یہ یاد رکھیں
اگر اللہ تعالیٰ نے 22 ملین سری لنکن کی کوئی مدد نہیں کی تو جذباتی و بخاراتی،
شعلہ بیان،
تصوراتی ہیروز کی پوجا کرنے والے، نالائقی، سستی اور نااہلی کے مارے 250 ملین سے زائد پاکستانیوں کے لیے بھی کوئی غیبی امداد نہیں آئے گی

اور۔۔۔۔

ھم یہ بھی یاد رکھیں کہ *ہم سری لنکا سے صرف پانچ ماہ پیچھے ہیں اور ہم نے اگر ان پانچ ماہ میں خود کو نہ بچایا تو سری لنکا کے بعد ہم اگلی دیوالیہ قوم ہوں گے*

اور۔۔۔۔

ہم اگر خدانخواستہ اس گڑھے میں گر گئے تو پھر ہمیں باہر نکلنے کے لیے *پہلی قیمت گوادر اور ایٹمی پروگرام کی شکل میں ادا کرنی پڑے گی*

اور۔۔۔

اس کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی قیمتیں بھی موجود ہیں
لہٰذا سنبھل جائیں، گنجائش نہیں ہے۔

منقول

Address

Jail Road
Mandi Bahauddin
50401

Telephone

+923213501415

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Friends Pizza & Fast food posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Friends Pizza & Fast food:

Share