Mehboob ur Rehman

Mehboob ur Rehman مفتی محبوب الرحمن دربندی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اہل سنت والجماعت مانسہرہ (سٹی)
03001573349

24/04/2026
21/04/2026

فجر کی نماز ادا کرنے والے تمام شہزادوں اور شہزادیوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی آمدنی بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ خرچے اور خواہشات بھی دوڑنے لگتی ہیں۔ پہلے موٹر سائیکل کافی لگت...
20/04/2026

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی آمدنی بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ خرچے اور خواہشات بھی دوڑنے لگتی ہیں۔ پہلے موٹر سائیکل کافی لگتی ہے، پھر گاڑی چاہیے، پھر اچھی گاڑی، پھر بڑا گھر، پھر اور بہتر طرزِ زندگی۔ آمدنی بڑھتی رہتی ہے مگر دل کا “بس اب کافی ہے” کہیں نہیں آتا۔

اصل مسئلہ کئی بار مہنگائی سے زیادہ “لائف اسٹائل” ہوتا ہے۔ جسے جتنی آمدنی ملتی ہے، وہ اسی حساب سے اپنی ضروریات کو خواہشات میں بدل لیتا ہے۔ پھر 50 ہزار والا بھی پریشان، 4 لاکھ والا بھی پریشان، اور 10 لاکھ والا بھی یہی کہتا ہے کہ گزارا مشکل ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان کی جیب بھر جاتی ہے، مگر خواہشات کی فہرست نہیں بھرتی۔

لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ ہر شخص جو مہنگائی کا ذکر کرتا ہے، وہ صرف فضول خواہشات کا شکار نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ واقعی بچوں کی فیس، بجلی، گیس، علاج اور روزمرہ کے خرچوں کے دباؤ میں ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں چیزوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی رہیں، وہاں متوسط طبقہ واقعی پس جاتا ہے۔

شاید اصل توازن یہ ہے:

ضرورت اور خواہش میں فرق پہچانا جائے

جتنی چادر ہو، اتنے ہی پاؤں پھیلائے جائیں

دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی خواہشات نہ بڑھائی جائیں

اور ساتھ یہ بھی مانا جائے کہ کچھ شکایتیں واقعی حالات کی وجہ سے ہوتی ہیں، صرف لالچ کی وجہ سے نہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ سکون اکثر زیادہ کمانے سے نہیں، بلکہ “کافی ہے” کہنے سے آتا ہے۔ اور یہ لفظ، سچ پوچھیں، دنیا کے سب سے مشکل لفظوں میں سے ایک ہے۔

اگر دکان کرائے پر ہو تو سب سے پہلی فکر یہی ہوتی ہے کہ “مہینے کے آخر میں کرایہ کہاں سے آئے گا؟”۔ اس کا ایک ہی حل ہے: دکان...
20/04/2026

اگر دکان کرائے پر ہو تو سب سے پہلی فکر یہی ہوتی ہے کہ “مہینے کے آخر میں کرایہ کہاں سے آئے گا؟”۔ اس کا ایک ہی حل ہے: دکان ایسی چلائیں کہ کرایہ پہلے نکلے، پھر باقی منافع آئے۔ تھوڑا سا حساب اور چند عادتیں پوری صورتحال بدل دیتی ہیں۔

1. روزانہ کرایہ الگ نکالیں
مثلاً اگر دکان کا کرایہ 30 ہزار ہے تو 30,000 کو 30 دن پر تقسیم کریں۔ یعنی روزانہ کم از کم 1,000 روپے صرف کرائے کیلئے الگ رکھیں۔ شام کو جتنی بھی سیل ہو، سب سے پہلے وہ 1,000 روپے ایک الگ لفافے یا باکس میں ڈال دیں۔ پھر باقی پیسے خرچ کریں۔ یہ چھوٹی سی عادت کمال کرتی ہے۔

2. کرایہ والے مہینے کا سامان پہلے سے رکھیں
ہمیشہ کوشش کریں کہ ایک مہینے کے کرائے جتنی رقم محفوظ ہو۔ اگر آج دکان چل رہی ہے تو اگلے مہینے کا کرایہ ابھی سے بچانا شروع کریں۔ تاکہ اگر ایک دو ہفتے کاروبار کم بھی ہو جائے تو پریشانی نہ ہو۔ کاروبار میں “بفر” رکھنا آدھی جنگ جیتنے جیسا ہے۔

3. کم منافع والی چیزیں زیادہ نہ رکھیں
بعض لوگ دکان بھر لیتے ہیں مگر چیزوں پر منافع بہت کم ہوتا ہے۔ ایسی چیزیں زیادہ رکھیں جن پر 10–20٪ نہیں بلکہ 25–40٪ تک مناسب منافع ہو اور جلد بک جائیں۔ جیسے چھوٹی روزمرہ اشیاء، سنیکس، کولڈ ڈرنکس، موبائل کارڈ، مصالحے، یا فوری استعمال کی چیزیں۔ تھوڑا تھوڑا منافع روز جمع ہو کر کرایہ بنا دیتا ہے۔

4. روزانہ کی سیل کا ہدف بنائیں
اگر آپ کا کرایہ 30 ہزار ہے، بجلی اور دیگر خرچ 20 ہزار ہیں، تو کم از کم 50 ہزار مہینہ صرف خرچے پورے کرنے کیلئے چاہیے۔ یعنی روزانہ تقریباً 1700 روپے خرچ نکلنے چاہئیں۔ اس کے بعد جو بچے وہ منافع ہے۔ اب اپنی دکان کیلئے روزانہ سیل کا ہدف بنائیں، مثلاً “آج کم از کم 8 یا 10 ہزار کی سیل کرنی ہے”۔

5. ادھار کم سے کم دیں
کرائے والی دکان میں سب سے بڑا مسئلہ ادھار ہے۔ دکان چلتی ہوئی لگتی ہے مگر جیب خالی رہتی ہے۔ کوشش کریں کہ زیادہ ادھار نہ دیں۔ اگر دینا ہی پڑے تو صرف قابلِ اعتماد لوگوں کو دیں اور ایک رجسٹر یا موبائل میں فوراً لکھیں۔ “ادھار محبت ختم کر دیتا ہے” — یہ بات دکانداری میں اکثر سچ نکلتی ہے۔

6. ایسی چیز رکھیں جو بار بار بکنے آئے
کرایہ تب نکلتا ہے جب گاہک بار بار آئے۔ دکان میں کوئی ایک ایسی چیز ضرور رکھیں جس کیلئے لوگ بار بار آئیں، جیسے اچھا آٹا، دودھ، تازہ سبزی، چائے، موبائل ایزی لوڈ، یا کوئی مشہور برانڈ کی چیز۔ ایک بار گاہک آیا تو باقی چیزیں بھی وہیں سے لے گا۔

7. فضول خرچیاں بند کریں
دکان سے روزانہ 500، 1000 روپے ذاتی خرچ کیلئے نکالنا بہت نقصان دیتا ہے۔ یہی رقم مہینے کے آخر میں 15 سے 30 ہزار بن جاتی ہے۔ اپنی جیب خرچ الگ رکھیں، دکان کے پیسے دکان میں رہنے دیں۔ دکان کے پیسے کو ہاتھ لگانا ایسا ہے جیسے پودے کی جڑ کاٹنا۔

8. دکان کے باہر اور آن لائن تھوڑی تشہیر کریں
آج کل چھوٹی دکان بھی اگر واٹس ایپ سٹیٹس یا فیس بک پر روز 2–3 چیزیں ڈالے تو گاہک بڑھ جاتے ہیں۔ “آج نئی چیز آئی ہے”، “خاص رعایت”، “گھر تک ڈلیوری” — یہ چھوٹی باتیں سیل بڑھا دیتی ہیں، اور کرایہ آسانی سے نکلنے لگتا ہے۔

9. مالک مکان سے اچھی بات رکھیں
اگر کبھی ایک آدھ ہفتہ دیر ہو جائے تو مالک مکان سے پہلے ہی بات کر لیں۔ جو دکاندار صاف بات کرتا ہے، اسے اکثر مہلت مل جاتی ہے۔ مگر چھپانے یا ٹالنے سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔

10. شروع میں چھوٹی دکان بہتر ہے
اگر کرایہ زیادہ ہے اور سیل کم، تو بعض اوقات بڑی دکان سے بہتر چھوٹی دکان ہوتی ہے۔ چھوٹا کرایہ، کم خرچہ، کم ٹینشن۔ کاروبار جم جائے تو پھر بڑی جگہ لے لیں۔ شروع میں “کم خرچہ، زیادہ گردش” والا اصول بہترین رہتا ہے۔

سچ پوچھیں تو کرائے والی دکان کا راز یہی ہے کہ کرایہ کو آخری خرچ نہ سمجھیں بلکہ روزانہ کا پہلا خرچ سمجھیں۔ جو دکاندار روزانہ تھوڑا تھوڑا الگ رکھتا ہے، اسے مہینے کے آخر میں کرائے کیلئے ادھر اُدھر نہیں بھاگنا پڑتا۔ تھوڑا نظم، تھوڑا صبر، اور تھوڑا حساب—بس یہی کھیل ہے۔

مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی عام آدمی کیلئے گزر بسر انتہائی مشکلہو گیا ہےایسے وقت میں وہ کاروبار بہتر رہتا...
20/04/2026

مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی عام آدمی کیلئے گزر بسر انتہائی مشکل
ہو گیا ہے
ایسے وقت میں وہ کاروبار بہتر رہتا ہے جس کی مانگ ہر حال میں رہتی ہو، چاہے مہنگائی ہو یا حالات خراب ہوں۔ لوگ کپڑے، موبائل یا لگژری چیزیں کم خرید لیتے ہیں، لیکن کھانے پینے، دوائی، مرمت اور سستی سہولتوں پر خرچ کرتے ہی ہیں۔

میرے خیال میں آج کے حالات میں یہ کاروبار سب سے زیادہ مناسب اور نسبتاً محفوظ ہیں:

1. کریانہ / روزمرہ ضرورت کی اشیاء
اگر چھوٹے پیمانے پر بھی شروع کریں تو آٹا، چاول، دال، گھی، چینی، مصالحہ، دودھ، انڈے اور سستی گھریلو چیزوں کی مانگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اگر ساتھ ہوم ڈیلیوری یا واٹس ایپ آرڈر بھی رکھ دیں تو کاروبار اور تیزی سے چلتا ہے۔

2. سستا کھانے کا کاروبار
جیسے ناشتہ، پراٹھا، چائے، سموسہ، پکوڑا، بریانی، دال چاول، یا ٹفن سروس۔ مہنگائی میں لوگ بڑے ہوٹل کم جاتے ہیں مگر سستا اور صاف کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

3. موبائل اور الیکٹرک مرمت
لوگ نئے موبائل یا نئے پنکھے/فریج کم خریدتے ہیں، پرانی چیزیں ٹھیک کرواتے ہیں۔ اس لئے موبائل ریپیئرنگ، سولر، UPS، پنکھا، موٹر یا گھریلو الیکٹرک سامان کی مرمت والا کام اچھا چلتا ہے۔

4. سیکنڈ ہینڈ چیزوں کی خرید و فروخت
پرانی بائیک، موبائل، فرنیچر، کپڑے یا گھریلو سامان۔ مہنگائی میں لوگ نئی چیز کے بجائے استعمال شدہ چیز خریدتے ہیں۔ اس میں کم سرمایہ بھی لگتا ہے۔

5. آن لائن کاروبار
فیس بک، واٹس ایپ یا ٹک ٹاک کے ذریعے کپڑے، کاسمیٹکس، گھریلو اشیاء یا کھانے کی چیزیں بیچنا۔ دکان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا، اس لئے خرچہ کم رہتا ہے۔ پہلے چھوٹے پیمانے پر شروع کریں۔

6. پولٹری یا دیسی انڈوں کا کام
اگر گھر میں تھوڑی جگہ ہے تو چند مرغیاں رکھ کر انڈے یا دیسی مرغی بیچنا بھی اچھا کام ہے۔ دیسی چیزوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

7. چھوٹا ہول سیل کاروبار
مثلاً کسی ایک چیز میں مہارت بنائیں: مصالحے، بسکٹ، کولڈ ڈرنک، چپس، دودھ، یا صابن۔ مارکیٹ سے سستا خرید کر محلے کی دکانوں کو سپلائی کریں۔ اس میں منافع کم مگر مسلسل ہوتا ہے۔

اگر سرمایہ بہت کم ہو، مثلاً 50 ہزار سے 2 لاکھ تک، تو سب سے بہتر:

چھوٹا کریانہ

ناشتہ / چائے

موبائل یا الیکٹرک مرمت

آن لائن فروخت

اگر 3 سے 10 لاکھ تک سرمایہ ہے تو:

مکمل کریانہ سٹور

ہول سیل اشیاء

ٹفن سروس

مرغی / انڈے یا چھوٹا فارمنگ کام

ایک بات البتہ بہت اہم ہے: آج کے دور میں “جلدی امیر ہونے” والے کاروبار زیادہ تر نقصان دیتے ہیں۔ چھوٹا شروع کریں، ایک ہی چیز پر توجہ دیں، ادھار کم رکھیں، اور روزانہ کا حساب ضرور لکھیں۔ یہی وہ چھوٹی عادت ہے جو بہت سے لوگوں کو نقصان سے بچا لیتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے کھانے پینے، مرمت، اور سستی روزمرہ چیزوں کے کاروبار نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھے جا رہے ہیں۔

بالکل! کاروبار کی دنیا میں ایک بات بڑی مشہور ہے کہ “No Risk, No Reward”۔ اگر آدمی ہر وقت صرف نقصان کے ڈر میں رہے تو پھر ...
20/04/2026

بالکل! کاروبار کی دنیا میں ایک بات بڑی مشہور ہے کہ “No Risk, No Reward”۔ اگر آدمی ہر وقت صرف نقصان کے ڈر میں رہے تو پھر وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر اصل سمجھداری یہ ہے کہ اندھا رسک نہ لیا جائے بلکہ سوچ سمجھ کر، منصوبہ بندی کے ساتھ رسک لیا جائے۔

کاروبار میں رسک کا مطلب یہ نہیں کہ سارا پیسہ ایک ہی جگہ لگا دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ:

پہلے چھوٹے پیمانے پر آغاز کریں

مارکیٹ کو سمجھیں

لوگوں کی ضرورت دیکھیں

تھوڑا نفع کم ہو تو صبر کریں

نقصان سے گھبرانے کے بجائے اس سے سیکھیں

بہت سے بڑے کامیاب لوگ ابتدا میں ناکام ہوئے، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ Thomas Edison نے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بلب بنایا، اور Jack Ma کو کئی بار ناکامی ہوئی مگر پھر بھی وہ کامیاب ہوئے۔

کاروبار میں کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو:

ڈر پر قابو پاتے ہیں

محنت کرتے ہیں

صبر کرتے ہیں

اور مناسب وقت پر رسک لیتے ہیں

رسک ضرور لیں، لیکن اتنا کہ اگر نقصان بھی ہو جائے تو آپ دوبارہ کھڑے ہو سکیں۔ کاروبار میں سمندر پار کرنے کے لیے کشتی کو کنارے سے نکالنا ہی پڑتا ہے۔

کاروبار کے بہت سے فوائد ہیں، اسی لیے دنیا میں اکثر لوگ ملازمت کے بجائے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر محنت، دیانت اور سم...
20/04/2026

کاروبار کے بہت سے فوائد ہیں، اسی لیے دنیا میں اکثر لوگ ملازمت کے بجائے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر محنت، دیانت اور سمجھداری کے ساتھ کاروبار کیا جائے تو یہ انسان کی زندگی بدل سکتا ہے۔

1. زیادہ آمدنی کا امکان
ملازمت میں عموماً تنخواہ مقرر ہوتی ہے، لیکن کاروبار میں آمدنی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ جتنا کاروبار بڑھے گا، اتنا ہی نفع زیادہ ہوگا۔

2. آزادی اور خودمختاری
کاروبار میں انسان خود اپنا مالک ہوتا ہے۔ اسے کسی کے حکم کا انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ خود فیصلے کرتا ہے کہ کب، کیسے اور کتنا کام کرنا ہے۔

3. وقت پر اختیار
کاروبار کرنے والا اپنے وقت کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرسکتا ہے۔ وہ اپنے کام کے اوقات خود مقرر کرتا ہے۔

4. ترقی کے زیادہ مواقع
کاروبار کو چھوٹے درجے سے شروع کرکے بہت بڑے درجے تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ ایک چھوٹی سی دکان، محنت اور منصوبہ بندی سے بڑی کمپنی بن سکتی ہے۔

5. دوسروں کو روزگار دینا
کاروبار صرف ایک شخص کو فائدہ نہیں دیتا بلکہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس سے معاشرے میں بے روزگاری کم ہوتی ہے۔

6. عزت اور پہچان
کامیاب کاروباری شخص معاشرے میں عزت اور اچھی پہچان حاصل کرتا ہے۔ لوگ اس کی رائے اور تجربے کو اہمیت دیتے ہیں۔

7. اپنی پسند کا کام
کاروبار میں انسان وہی شعبہ اختیار کرسکتا ہے جس میں اس کی دلچسپی ہو۔ اس طرح کام بوجھ نہیں لگتا بلکہ شوق بن جاتا ہے۔

8. مالی تحفظ
اگر کاروبار کامیاب ہوجائے تو انسان کو مالی پریشانی کم ہوتی ہے۔ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات بہتر طریقے سے پوری کرسکتا ہے۔

9. نئے تجربات اور سیکھنے کا موقع
کاروبار کرنے سے انسان کو لوگوں سے ملنے، معاملات سمجھنے، خرید و فروخت، حساب کتاب اور منصوبہ بندی سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے انسان کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں۔

10. مستقبل میں وراثت بن سکتا ہے
کاروبار ایک ایسی چیز ہے جو آنے والی نسلوں تک منتقل ہوسکتی ہے۔ ایک کامیاب کاروبار اولاد کے لیے مضبوط سہارا بن جاتا ہے۔

البتہ کاروبار میں فائدے کے ساتھ محنت، صبر، ایمانداری اور خطرہ بھی ہوتا ہے۔ جو شخص مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتا ہے، وہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ کاروبار میں ایک دن کی نہیں بلکہ مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔

20/04/2026

کریانہ سٹور کو آگے بڑھانے کا راز صرف زیادہ سامان رکھنے میں نہیں بلکہ “صحیح سامان، اچھی سروس، اور جدید طریقہ” اپنانے میں ہے۔ جو دکان دار تھوڑا سا انداز بدل لیتا ہے، اس کی دکان عام دکان سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔

1. دکان کو صاف اور خوبصورت بنائیں
سامان ترتیب سے رکھیں، قیمتیں واضح لکھیں، روشنی اچھی ہو، اور روزانہ صفائی کریں۔ گاہک ایسی دکان میں زیادہ دیر رکتا ہے اور زیادہ خریدتا ہے۔ جلد بکنے والا سامان سامنے رکھیں، جیسے چینی، چائے، آٹا، بسکٹ اور مشروبات۔

2. وہی سامان رکھیں جو علاقے میں زیادہ چلتا ہو
اپنے علاقے کے لوگوں کو دیکھیں کہ وہ زیادہ کیا لیتے ہیں۔ اگر بچوں والے گھر زیادہ ہیں تو دودھ، بسکٹ، جوس اور ڈائپر زیادہ رکھیں۔ اگر مزدور طبقہ زیادہ ہے تو چھوٹے پیکٹ، سستا گھی، چائے اور روزمرہ اشیاء رکھیں۔ گاہک کی ضرورت سمجھنے والی دکان ہمیشہ چلتی ہے۔

3. نئی چیزیں بھی رکھیں
صرف آٹا، چاول اور دال تک محدود نہ رہیں۔ آج کل لوگ یہ چیزیں بھی ڈھونڈتے ہیں:

اچار، شہد، دیسی گھی

بچوں کی چاکلیٹ اور چپس

کولڈ ڈرنکس، آئس کریم

موبائل کارڈ اور ایزی لوڈ

صابن، شیمپو، کریمیں

صحت والی چیزیں جیسے شوگر فری یا دیسی اشیاء

جس دکان میں زیادہ ورائٹی ہوتی ہے، لوگ بار بار وہیں آتے ہیں۔

4. گھر تک سامان پہنچانے کی سہولت دیں
محلے میں ایک نمبر مشہور کر دیں کہ “فون یا واٹس ایپ پر آرڈر کریں، سامان گھر پہنچے گا”۔ ایک چھوٹا لڑکا یا موٹر سائیکل والا رکھ لیں۔ آج کل بہت سی دکانیں صرف اسی وجہ سے زیادہ چل رہی ہیں۔

5. واٹس ایپ استعمال کریں
اپنے مستقل گاہکوں کا واٹس ایپ گروپ بنائیں۔ روزانہ یا ہفتے میں ایک بار یہ پیغام بھیجیں:

آج کون سی چیز سستی ہے

کون سا نیا سامان آیا ہے

کون سی آفر چل رہی ہے

مثلاً: “آج چینی، چائے اور بسکٹ پر خصوصی رعایت ہے، گھر پہنچانے کی سہولت بھی موجود ہے۔”

6. اُدھار کم اور حساب مضبوط رکھیں
بہت زیادہ اُدھار دکان کو کمزور کر دیتا ہے۔ صرف قابلِ اعتماد گاہکوں کو محدود اُدھار دیں، اور اس کا مکمل حساب کاپی یا موبائل ایپ میں لکھیں۔ کئی دکانیں اسی وجہ سے نقصان میں چلی جاتی ہیں۔

7. ڈیجیٹل ادائیگی شروع کریں
آج کل لوگ نقد کے ساتھ ساتھ موبائل سے بھی پیسے دیتے ہیں۔ اگر آپ JazzCash، EasyPaisa یا بینک QR کوڈ رکھ لیں تو نوجوان اور مصروف لوگ آسانی سے خریداری کریں گے۔ پاکستان میں اب زیادہ لوگ ڈیجیٹل ادائیگی پسند کرتے ہیں۔

8. تھوڑا منافع کم، مگر گاہک زیادہ
ہر چیز پر بہت زیادہ نفع رکھنے کے بجائے چند چیزیں سستی رکھیں۔ مثلاً چینی، آٹا، چائے یا بسکٹ میں تھوڑا کم منافع رکھیں۔ لوگ انہی چیزوں کی وجہ سے دکان پر آئیں گے، پھر باقی سامان بھی خریدیں گے۔

9. خاص دنوں پر آفر دیں
جمعہ، رمضان، عید، محرم یا سردیوں میں خصوصی پیکج بنائیں:

رمضان راشن پیک

بچوں کے اسنیکس پیک

چائے اور بسکٹ کا پیکج

عید کے لیے میٹھی اشیاء کا سیٹ

یہ چھوٹا سا طریقہ فروخت کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

10. گاہک کے ساتھ اچھا اخلاق رکھیں
آخر میں سب سے بڑی چیز: مسکرا کر بات کریں، سلام کریں، اور گاہک کو عزت دیں۔ بڑی دکانیں بھی وہ اعتماد نہیں دے سکتیں جو محلے کی ایک اچھی کریانہ دکان دیتی ہے۔ اسی اعتماد کی وجہ سے لاکھوں کریانہ دکانیں آج بھی کامیاب ہیں۔

بہترین تاجر صرف وہ نہیں ہوتا جو زیادہ منافع کمائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اعتماد، دیانت اور اچھے اخلاق سے لوگوں کے دل جیت لے...
20/04/2026

بہترین تاجر صرف وہ نہیں ہوتا جو زیادہ منافع کمائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اعتماد، دیانت اور اچھے اخلاق سے لوگوں کے دل جیت لے۔ تجارت میں اصل کامیابی پیسہ نہیں بلکہ نیک نامی ہوتی ہے۔ ایک اچھے تاجر کے چند نمایاں اوصاف یہ ہیں:

1. امانت اور دیانت
بہترین تاجر کبھی جھوٹ، دھوکہ یا ملاوٹ نہیں کرتا۔ وہ مال کا عیب بھی بتاتا ہے اور صحیح قیمت بھی لیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔

2. سچائی
اچھا تاجر ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ گاہک سے غلط وعدے نہیں کرتا، نہ ہی چیز کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ سچائی وقتی طور پر نقصان لگ سکتی ہے، مگر یہی چیز مستقل برکت کا سبب بنتی ہے۔

3. خوش اخلاقی
خندہ پیشانی، نرم لہجہ اور اچھا برتاؤ تجارت کی جان ہیں۔ کئی دفعہ لوگ چیز سے زیادہ تاجر کے اخلاق سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو تاجر عزت اور محبت سے پیش آئے، لوگ بار بار اسی کے پاس آتے ہیں۔

4. صبر اور برداشت
ہر دن کاروبار میں یکساں نہیں ہوتا۔ کبھی منافع ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ بہترین تاجر مشکل وقت میں گھبراتا نہیں بلکہ صبر، حکمت اور حوصلے سے کام لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جلد بازی اکثر نقصان کا سبب بنتی ہے۔

5. وعدے کا پابند
جو بات کہے، اسے پورا کرے۔ اگر وقت پر مال دینے یا ادائیگی کرنے کا وعدہ کیا ہے تو اسے ضرور نبھائے۔ وعدہ پورا کرنے والا تاجر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔

6. انصاف
بہترین تاجر ناپ تول میں کمی نہیں کرتا، نہ مزدور، گاہک یا شریک کے ساتھ ظلم کرتا ہے۔ وہ سب کے حقوق ادا کرتا ہے اور ہمیشہ انصاف سے کام لیتا ہے۔

7. محنتی اور وقت کا پابند
کامیاب تجارت محنت مانگتی ہے۔ اچھا تاجر سستی نہیں کرتا، صبح جلدی اٹھتا ہے، اپنے کاروبار پر نظر رکھتا ہے اور وقت کی قدر کرتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر چھوٹے کاروبار محنت کی وجہ سے بڑے بن جاتے ہیں، اور بڑے کاروبار لاپرواہی سے چھوٹے۔

8. قناعت اور حلال کمائی
بہترین تاجر صرف حلال رزق چاہتا ہے۔ وہ ناجائز طریقے سے زیادہ کمانے کے بجائے کم مگر پاکیزہ کمائی کو ترجیح دیتا ہے۔ حلال کمائی میں سکون اور برکت ہوتی ہے۔

9. دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا
جو تاجر ضرورت مند کو مہلت دے، مناسب رعایت کرے، یا آسانی پیدا کرے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے آسانی فرماتا ہے۔ نرم دل اور رحم دل تاجر ہمیشہ لوگوں کی دعائیں لیتا ہے۔

10. سیکھنے کی عادت
اچھا تاجر ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے۔ وہ بازار کے حالات، نئی چیزوں، گاہک کی ضرورت اور اپنے تجربات سے سبق لیتا ہے۔ جو تاجر سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

آخر میں، تجارت صرف خرید و فروخت کا نام نہیں، بلکہ کردار کا امتحان ہے۔ اچھا تاجر اپنی زبان، نیت، اخلاق اور عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ بازار میں مال بہت لوگ بیچتے ہیں، مگر اعتماد بہت کم لوگ بیچ پاتے ہیں—اور جس کے پاس اعتماد ہو، اس کی تجارت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

حسن کریانہ سٹور — معیاری، قابلِ اعتماد اور عوام کی ضرورتوں کا بہترین مرکزکسی بھی علاقے کی معاشی اور سماجی زندگی میں کریا...
20/04/2026

حسن کریانہ سٹور — معیاری، قابلِ اعتماد اور عوام کی ضرورتوں کا بہترین مرکز

کسی بھی علاقے کی معاشی اور سماجی زندگی میں کریانہ سٹور ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ روزمرہ زندگی کی تمام ضروریات اسی سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی سٹور معیار، اعتماد اور عوامی احساسات کو ساتھ لے کر چل رہا ہو تو وہ واقعی قابلِ تعریف ہوتا ہے۔ حسن کریانہ سٹور بھی اسی جذبے کی ایک روشن مثال ہے۔

حسن کریانہ سٹور میں نہ صرف روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء بہترین معیار اور مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں بلکہ صارفین کے اعتماد کو بھی اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ یہاں گاہک کو ہر وہ چیز آسانی سے مل جاتی ہے جو ایک گھرانے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے، جیسے آٹا، چینی، دالیں، چاول، مصالحہ جات، مشروبات اور دیگر خوردونوش اشیاء۔

خاص بات یہ ہے کہ حسن کریانہ سٹور میں ان تمام مصنوعات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جن کے بارے میں عوام میں بائیکاٹ کا شعور پایا جاتا ہے۔ یہاں کوشش کی جاتی ہے کہ ایسی اشیاء کو ترجیح دی جائے جو مقامی، معیاری اور ذمہ دارانہ انتخاب کی نمائندگی کرتی ہوں، تاکہ صارفین اپنی خریداری کو نہ صرف سہولت بلکہ ایک اصولی اور باوقار انتخاب کے طور پر بھی لے سکیں۔

حسن کریانہ سٹور کا مقصد صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ تجارتی رویہ اپنانا ہے، جہاں معیار کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار اور عوامی احساسات کا بھی خیال رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والا ہر گاہک اعتماد کے ساتھ خریداری کرتا ہے اور مطمئن ہو کر واپس جاتا ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ حسن کریانہ سٹور صرف ایک دکان نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں معیار، اعتماد اور ذمہ داری کو یکجا کیا گیا ہے، اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔

Address

Mansehra
21300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehboob ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mehboob ur Rehman:

Share

Category